سوال
میرا ایک خاتون سےنکاح ہوا لیکن رخصتی نہیں ہوئی لیکن نکاح کے بعد ہمیں ایسی تنہائی میسر آئی کہ ہم میاں بیوی کا سا تعلق قائم کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے لیکن مانع صرف ان خاتون کی جانب سے تھا وہ یوں کہ میری دوسری بیوی پہلی بیوی کی کزنتھیں تو میری پہلی بیوی دوسری بیوی سے کہتی تھیں کہ تم نے کوئی تعلق قائم کیا تو میں اپنا ہاتھ کاٹ لوں گی !
یہی وجہ ہے کہ اس خلوت کے بعد میں نے گواہان کے روبرو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں جس کے الفاط یہ تھے :میں (فلاں بن فلاں) اپنی بیوی (فلانہ ولد فلاں ) کو ان گواہوں کی موجودگی میں طلاق دیتا ہوں ۔ میں (فلاں بن فلاں) اپنی بیوی (فلانہولد فلاں ) کوجو کہ میرے نکاح میں ہے اسے طلاق دیتا ہوں ۔ میں (فلاں بن فلاں) اپنی بیوی (فلانہ ولد فلاں ) کوجو کہ میرے نکاح میں ہے اسے طلاق دیتا ہوں ۔
پوچھنا یہ ہے کہ اب ہم چاہتے ہیں کہ ہم رجوع کر لیں کیوں یہ طلاقیںمجامعت سے پہلےدی ہیں؟َ
سائل:عبد الجبار
بمعرفت استاد محترم علامہ یعقوب شاہین المدنی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں آپ نےصریح الفاظ کے ساتھ تینوں طلاقیں خلوتِ صحیحہ کے بعد دیں جو کہ تینوں واقع ہو چکی ہیں اور اسی وقت وقت سے خاتون آپ پر تین طلاقوں کے ساتھ حرام ہو چکی ہے ۔اباگر رجوع کرنا چاہیں تو اس کے لیے تحلیلِشرعی ضروری ہے جس کا معنی نیچے بیان کیا جائے گا ۔
اگر زوجین کو خلوت ِصحیحہ حاصل ہو گئی اس کے بعدشوہر تین طلاقیں دے تو وہ تین ہی واقع ہوتی ہیں ،اس لیےکہ خلوت صحیحہ وطی کے حکم میں ہے۔
رد المحتار میں ہے:أَنَّ الْخَلْوَةَ الصَّحِيحَةَ وَطْءٌ حُكْمًا۔ترجمہ:خلوت صحیحہ حکماً وطی ہے۔(رد المحتارجلد3 صفحہ 174،دار الفکر بیروت)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ خلوتِ صحیحہ کی بابت لکھتے ہیں: خلوتِ صحیحہ یہ ہے کہ زوج زوجہ ایک مکان میں جمع ہوں اور کوئی چیز مانع جماع نہ ہو۔
مانعِ جماع کے متعلق لکھتے ہیں :موانع تین ہیں: 1:۔ حسّی2:۔شرعی3:۔، طبعی
مانع حسّی
جیسے مرض کہ شوہر بیمار ہے تو مطلقاً خلوت صحیحہ نہ ہوگی اور زوجہ بیمار ہو تو اس حد کی بیمار ہو کہ وطی سے ضرر کا اندیشہ صحیح ہو۔
مانع طبعی
جیسے وہاں کسی تیسرے کا ہونا، اگرچہ وہ سوتا ہو یا نابینا ہو، یا اس کی دوسری بی بی ہو یا دونوں میں کسی کی باندی ہو،ہاں اگر اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ کسی کے سامنے بیان نہ کر سکے گا تو اس کا ہونا مانع نہیں یعنی خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔
مانع شرعی
مثلاً عورت حیض یا نفاس میں ہے یا دونوں میں کوئی مُحرم ہو،احرام فرض کا ہو یا نفل کا، حج کا ہو یا عمرہ کا، یا ان میں کسی کا رمضان کا روزہ ادا ہو یا نمازِ فرض میں ہو، ان سب صورتوں میں خلوتِ صحیحہ نہ ہو گی ۔(ملخص از بہارِ شریعت ،حصہ 08،صفحہ68 مکتبۃ المدینہ)
فتاوی عالمگیری میں ہے : ''اذا قال لامراتہ : انت طالق و طالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا ''ترجمہ: جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اور طلاق ہے،اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا ،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں۔ ( فتاوی عالمگیری جلد1صفحہ 390)
ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ۔ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ۔( البقرہ : 230)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے،وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اورحمل رہ جائےتو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے۔( فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12صفحہ 84،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
محمدیونس انس القادری :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 شعبان المعظم 1444 ھ/13 مارچ2023 ء