سوال
(۱)اگر والدین اپنے بچوں کا نکاح نہ کریں تو بچوں کا گناہ میں ملوث ہونے پر کیا اس کا وبال والدین پر بھی آئے گا؟
(۲)اسی طرح بیوی جب جماع سے روکے تو شوہر کا گناہ میں ملوث ہونے پر کیا بیوی پر گناہ ہوگا؟
سائل: عبد الستار،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
گناہ میں ملوث ہونے والوں کے ساتھ ساتھ اِن گناہوں کا وبال اس شخص پر بھی آئے گا جو ان کا سبب بنا ،جیسا کہ والدین اور نافرمان بیوی کہ عذرِ شرعی کے بغیر جب والدین اپنے بچوں کے گناہ میں ملوث ہونا محسوس کریں یا بیوی کو شوہر کے گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو اور اس پر یہ دونوں اپنی شرعی ذمہ داریاں پوری نہ کریں اور انکے حقوق میں رکاوٹ بنیں تو بچوں یا شوہر کے گنہگار ہونے کی صورت میں والدین اور بیوی پر بھی اس کا وبال آئے گاکہ یہ دونوں گناہ کا سبب بنے۔البتہ اولاد یاشوہر بھی گنہگار ہونگےان کی کسی صورت خلاصی نہیں۔
(۱) اولاد (لڑکا ہو یا لڑکی )جب بالغ ہوجائے تو جلد سے جلد ان کے برابر کا رشتہ ڈھونڈ کر نکاح کردینا چاہیے۔اگر قرائن سے اندازہ ہو کہ اولاد شادی کرنا چاہتی ہے ورنہ گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے پھر بھی والدین بلا کسی عذر کے شادی کرانے میں غیر ضروری تاخیر کریں تو گناہ میں مبتلا ہونے کی صورت میں والدین پر بھی اس کا وبال آئے گا۔
نیز اگر اولاد عاقل و بالغ ہے اور شادی نہ ہونے کی وجہ سے گناہوں میں پڑنے کا اندیشہ ہےاور والدین شادی کروانے میں غیر ضروری تاخیر سے کام لے رہے ہیں تو پہلے والدین کو منانے کی کوشش کی جائے ، بصورت دیگر اولاد گناہ سے بچنے کی نیت سے ان کی اجازت کے بغیر بھی نکاح کرتی ہے تو اس سے والدین کی نافرمانی کا گناہ نہیں ہوگا۔
البتہ لڑکے کے نکاح کی صورت میں شرط یہ کہ اپنی بیوی کا نفقہ دینے پر خود قادر ہو یا کوئی (والد وغیرہ) اس کا اور اس کی بیوی کا خرچہ اٹھانے کے لیے تیار ہو۔
(۲)شوہر کے حقوق کی تکمیل بیوی پر لازم و ضروری ہے،عورت کا اپنے شوہر کو ازدواجی حقوق سے روکنا قطعاً جائز نہیں۔احادیث میں ایسی بیوی کے لیے سخت وعیدات آئی ہیں، اپنے عمل پر خاتون کو توبہ کرنا چاہیے۔البتہ شرعی عذر ( جیسے مخصوص ایام، بیماری، یا شوہر کا حدِ اعتدال سے زیادہ ہم بستر ہونا جس کی بیوی میں طاقت نہ ہو یا شوہر کی جانب سے تسکین شہوت کے لیےغیر فطری راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرنا) ہو تو بیوی شوہر کو روک سکتی ہے۔نیز بیوی جب جماع سے روکے تو شوہر کا گناہ میں ملوث ہونے پر بیوی بھی گنہگار ہوگی کہ بیوی خود شوہر کے گناہ میں پڑھنے سبب بنی۔
گناہ کا سبب بننےوالے شخص پر بھی گناہ کا وبال آتا ہے:
اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ. ترجمہ:اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔(المآئدۃ: 2)
مسلم شریف کی روایت ہے:"مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ". ترجمہ:جو اسلام میں کوئی بری راہ نکالے اس پر اس کاوبال ہے اور قیامت تک جو اس راہ پر چلیں گے سب کا وبال ہے بغیر اس کے کہ ان کے وبالوں میں سے کچھ کم کرے۔ (صحیح مسلم ، کتاب الزکوۃ،باب الحث علی الصدقۃ الخ،2/704،رقم:1017،دار احیاء التراث العربی)
شادی نہ ہونے کی وجہ سے اولاد نے گناہ کیا تو اس کا گناہ والد پر ہوگا،چنانچہ مشکاۃ المصابیح میں ہے:"من وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنِ اسْمَهُ وَأَدَبَهُ فَإِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْهُ فَإِنْ بَلَغَ وَلَمْ يُزَوِّجْهُ فَأَصَابَ إِثْمًا فَإِنَّمَا إثمه على أَبِيه".ترجمہ: جس کے ہاں اولاد پیدا ہو اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، بالغ ہونے پر اس کی شادی کرے، اگر شادی نہیں کی اور اولاد نے کوئی گناہ کرلیا تو اس کا گناہ باپ پر ہوگا۔(مشكاة المصابيح،2/ 939،رقم:3138،المکتب الاسلامی )
دوسری روایت میں آیا: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ: مَنْ بَلَغَتِ ابْنَتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَمْ يُزَوِّجْهَا فَأَصَابَتْ إِثْمًا فَإِثْمُ ذَلِكَ عَلَيْهِ ".ترجمہ: حضرت عمر فاروق اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تورات میں مرقوم ہے کہ جس کی بیٹی بارہ سال کی ہوجائے اور وہ اس کا نکاح نہ کرے، پھر لڑکی سے کوئی گناہ ہوجائے تو باپ بھی گناہ گار ہوگا۔ (مشكاة المصابيح،2/ 939،رقم:3139،المکتب الاسلامی )
اس حدیث مبارکہ کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی (المتوفی:1391ھ)رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’یعنی اس کا گناہ باپ پر بھی ہے کیونکہ وہ اس کا سبب بنا‘‘۔ (مرآۃ المناجیح،باب الولی فی النکاح و استیذان المرأة،الفصل الثالث،5/31،نعیمی کتب خانہ گجرات پاکستان)
علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(وَيَكُونُ وَاجِبًا عِنْدَ التَّوَقَانِ) فَإِنْ تَيَقَّنَ الزِّنَا إلَّا بِهِ فُرِضَ نِهَايَةٌ وَهَذَا إنْ مَلَكَ الْمَهْرَ وَالنَّفَقَةَ، وَإِلَّا فَلَا إثْمَ بِتَرْكِهِ بَدَائِعُ".ترجمہ:غلبہ شہوت ہو تو نکاح کرنا واجب ہے اگر اسے زنا میں پڑنے کا یقین ہو جائے مگر نکاح کے ساتھ ( بچنے کا امکان ہے ) تو نکاح کرنا فرض ہو جائے گا’’نہایہ‘‘۔عقد نکاح کرنا اس وقت فرض ہو گا اگر وہ ( بیوی کے ) مہر اور نفقہ کا مالک ہو بصورت دیگر عقد نکاح کے ترک کرنے کی وجہ سے کوئی گناہ نہیں ہوگا’’بدائع‘‘۔ (الدر المختار،کتاب النکاح،3/6،دار الفکر)
علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:(قَوْلُهُ: عِنْدَ التَّوَقَانِ) مَصْدَرُ تَاقَتْ نَفْسُهُ إلَى كَذَا إذَا اشْتَاقَتْ مِنْ بَابِ طَلَبَ بَحْرٌ عَنْ الْمُغْرِبِ وَهُوَ بِالْفَتَحَاتِ الثَّلَاثِ كَالْمَيَلَانِ وَالسَّيَلَانِ، وَالْمُرَادُ شِدَّةُ الِاشْتِيَاقِ كَمَا فِي الزَّيْلَعِيِّ: أَيْ بِحَيْثُ يَخَافُ الْوُقُوعَ فِي الزِّنَا لَوْ لَمْ يَتَزَوَّجْ إذْ لَا يَلْزَمُ مِنْ الِاشْتِيَاقِ إلَى الْجِمَاعِ الْخَوْفُ الْمَذْكُورُ بَحْرٌ. قُلْت: وَكَذَا فِيمَا يَظْهَرُ لَوْ كَانَ لَا يُمْكِنُهُ مَنْعُ نَفْسِهِ عَنْ النَّظَرِ الْمُحَرَّمِ أَوْ عَنْ الِاسْتِمْنَاءِ بِالْكَفِّ، فَيَجِبُ التَّزَوُّجُ، وَإِنْ لَمْ يَخَفْ الْوُقُوعَ فِي الزِّنَا (قَوْلُهُ: فَإِنْ تَيَقَّنَ الزِّنَا إلَّا بِهِ فُرِضَ) أَيْ بِأَنْ كَانَ لَا يُمْكِنُهُ الِاحْتِرَازُ عَنْ الزِّنَا إلَّا بِهِ؛ لِأَنَّ مَا لَا يُتَوَصَّلُ إلَى تَرْكِ الْحَرَامِ إلَّا بِهِ يَكُونُ فَرْضًا بَحْر". ترجمہ: توقان یہ تاقت نفسه الی کذا کا مصدر ہے۔ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اس کا نفس کسی شے کا مشتاق ہو۔ یہ طلب کے باب سے ہے۔ ’’بحر ‘‘ میں ’’المغرب‘‘ سے منقول ہے۔ یہ لگا تار تین فتحہ کے ساتھ ہے جیسے مَیَلَان، سَیَلَان۔ اس سے مراد شدت اشتیاق ہے جس طرح ’’زیلعی ‘‘(یعنی تبیین)میں ہے یعنی اگر وہ شادی نہ کرے تواسے زنا میں پڑنے کا خوف ہو۔ کیونکہ جماع کے اشتیاق سے مذکورہ خوف لازم نہیں آتا ’’بحر‘‘۔ میں (علامہ شامی رحمہ اللہ)کہتا ہوں : ظاہر معنی کی طرح اس وقت بھی نکاح کرنا واجب ہو گا جب وہ اپنے آپ کو ایسی نظر سے نہ روک سکے جو نظر حرام ہے۔ اور اسی طرح وہ اپنے آپ کو مشت زنی سے نہ روک سکے اگر چہ زنا میں پڑنے کا ڈر نہ ہو۔(قوله فان تيقن الزنا) یعنی عقد نکاح کے بغیر زنا سے بچنا ممکن نہ ہو یعنی وہ حرام کا ترک عقد نکاح کے ساتھ ہی کر سکتا ہے تو عقد نکاح فرض ہو جائے گا،’’بحر“۔(رد المحتار،کتاب النکاح،3/6،دار الفکر)
نکاح کی تاخیر میں کمائی کا عذر پیش کرنا :
تمام مخلوقات کا رزق اللہ کریم کے ذمہ قدرت پر ہے،چنانچہ سورۃہود میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا.ترجمہ: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو۔(ہود:6)
نکاح کی برکت سے تو اللہ کریم رزق میں مزید برکتیں عطا فرماتا ہے جیسا کہ سورۃ نور میں ارشاد ہوا: وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ۔ترجمہ: اور نکاح کردو اپنوں میں اُن کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ اُنہیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب۔(النور:32)
اس آیت کے تحت علامہ احمد بن علی ابو بکر الرازی الجصاص الحنفی (المتوفی:370ھ) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:"وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا رَأَيْت مِثْلَ مَنْ يَجْلِسُ أَيِّمًا بَعْدَ هذه الآية وَأَنْكِحُوا الْأَيامى مِنْكُمْ التمسوا الغنا فِي الْبَاهِ".ترجمہ:حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : مجھے ایسا کوئی انسان نظر نہیں آتا جو آیت (وانکحوا الایامی منکم) کے نزول کے بعد بھی کنوارہ بیٹھا رہے ، نکاح کے اندر مالداری تلاش کرو۔(احکام القرآن للجصاص،5/179،دار احیاء الراث العربی)
شادی کرنے والے کی مدد اللہ عزوجل کے ذمہ کرم پر ہے،چنانچہ سنن الترمذی میں روایت ہے:"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ: المُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ العَفَافَ".ترجمہ:حضرت ابو ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:تین آدمیوں کی مدد اللہ کے ذمہ کرم پر ہے ،(۱) مجاہد فی سبیل اللہ (۲)وہ مکاتب غلام جس نے اپنے آقا سے آزادی کیلئے معاہدہ کر رکھا ہو ،(۳ ) اور وہ شادی کرنے والا جس کا نکاح کرنے کا مقصد پاکدامنی ہو۔(سنن الترمذی،ابواب فضائل الجہاد،باب ما جاء فی المجاہد والناكح والمكاتب وعون الله اياہم،4/184،رقم:1655،مصطفی البابی)
لہذا والدین کو اس بات سے بالکل نہیں ڈرنا چاہیے کہ بچے کا نکاح کردیا تو بیوی کا خرچ کیسے اٹھائے گا ؟بلکہ بچہ جب بالغ ہوجائے تو جلد سے جلد اس کے جوڑ کا رشتہ ڈھونڈ کر اس کا نکاح کرنے کی فکر اور کوشش کرنی چاہیے جو کہ ان کی اولین ذمہ داری ہے۔البتہ برابری کا رشتہ میسر آنے تک یا بیوی کا نفقہ دینے کی استطاعت نہ ہو تو اس صورت میں نکاح میں تاخیر کی جاسکتی ہے۔
بیوی کا حقِ زوجیت سے انکار کرنا:
اگر بیوی حقِ زوجیت سے انکار کرے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں،چنانچہ بخاری شریف کی روایت ہے:"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ". ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں شوہر نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتہ اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔(صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،4/116،رقم:3237، دار طوق النجاۃ)
رد المحتار میں بحوالہ بدائع ہے:"وَفِي الْبَدَائِعِ: لَهَا أَنْ تُطَالِبَهُ بِالْوَطْءِ لِأَنَّ حِلَّهُ لَهَا حَقُّهَا، كَمَا أَنَّ حِلَّهَا لَهُ حَقُّه". ترجمہ: البدائع میں ہے کہ عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ خاوند سے وطی کا مطالبہ کرے کیونکہ مرد کا اس کے لیے حلال ہونا عورت کا حق ہے جس طرح عورت کا مرد کے لیے حلال ہونا مرد کا حق ہے۔ (رد المحتار،3/202،دار الفکر)
علامہ محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"لَا يَحِلُّ لَهُ وَطْؤُهَا بِمَا يُؤَدِّي إلَى إضْرَارِهَا فَيَقْتَصِرُ عَلَى مَا تُطِيقُ مِنْهُ عَدَدًا بِنَظَرِ الْقَاضِي أَوْ إخْبَارِ النِّسَاءِ، وَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ بِذَلِكَ فَبِقَوْلِهَا".ترجمہ: خاوند کے لیے اپنی عورت سے ایسے طریقہ سے وطی کرنا حلال نہیں جو عورت کے ضرر کا باعث ہو۔پھر عورت کتنی دفعہ حقوقِ زوجیت پر طاقت رکھتی ہے یہ امر قاضی کی رائے یا عورتوں کے خبر دینے پر منحصر ہوگا اور اگر اس طریقہ سے معلوم نہ ہو تو عورت کے قول پر منحصر ہوگا۔ (رد المحتار،3/204،دار الفکر)
گناہ کا وبال صرف والدین یا بیوی پر نہیں بلکہ اولاد یا شوہر پر بھی گنہگار ہونگے:
چنانچہ مجددِ اعظم امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اور باپ پر گناہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اولاد پر نہ ہو جب کہ وہ مکلف ہو، خود حدیثوں میں موجود ہے، فاصابت اثما اور فاصاب اثما، اس کی نظیر دوسری حدیث صحیح ہے:"من سن فی الاسلام سنۃ سیئۃ فعلیہ وزرھا ووزر من عمل بھا الی یوم القٰیمۃ و لاینقص ذلک من اوزارھم شیئا ".ترجمہ:جو اسلام میں کوئی بری راہ نکالے اس پر اس کاوبال ہے اور قیامت تک جو اس راہ پر چلیں گے سب کا وبال ہے بغیر اس کے کہ ان کے وبالوں میں سے کچھ کم کرے۔ (فتاوی رضویہ،15/161،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 ذوالقعدہ1444 ھ/7جون2023ء