سوال
انسان پر مختلف قسم کے دین ہوتے ہیں ۔جن میں سے بعض فی الفور ادا کرنے ہوتے ہیں ،جبکہ بعض کے ادا کرنے کی ایک مدت مقرر ہوتی ہے ۔شریعت مطھرہ کی روشنی میں یہ بیان کریں کہ کونسے دیون زکوٰۃ سے مانع ہوں گے؟تفصیلا جواب عنایت فرمائیں!
سائل:علامہ غلام قادرقادری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
دین سے مراد وہمال جو انسان کے ذمہ پر ہواور اس کا مطالبہ بندوں کی جانب سے ہو ۔اس کی مثالیں :مبیع کا ثمن ،اجارہ ،قرض ۔اسی طرح زکوۃ ،عشر وغیرہ کا دین ،اس لیے کہ ان کی وصولی کا اختیار بھی بندو ں (بادشاہِ اسلام یا اسکے نائبین) کو حاصل ہوتا ہے ۔یہتمام دیون وجوبِ زکوۃ سے مانعہیں یعنی مال زکوۃ سے اس طرح کے دیون منہا کیے جائیں گے۔ اور جس دین کاتقاضا بندوں کی جانب سے نہ ہوجیسے نذر ،منت ، قسم و صوم کا کفارہ۔ ایسا دین وجوبِ زکوۃ سے مانع نہیں ہو گا ۔
ذیل میں بحث اس دین سےمتعلق ہوگی جس کا مطالبہ بندوں کی جانب سے ہوتا ہے۔یہ دو طرح کا ہے :
1:۔ دین کافی الفور مطالبہ ہو (یعنی دین معجل ) یہ باالاتفاقوجوبِ زکوۃ سے مانع ہے۔
2:۔وہ دین جس کا مطالبہ فوری نہ ہو بلکہ اس کی ادائیگیمیں ایک مدت مقرر کر دی ہویا مدت تو مقرر نہ ہولیکن فریقین کے مابین یہ بات سمجھی جاتی ہو کہ اس کی ادائیگی فی الفورنہیں ایسے دین کو دین مؤجل کہا جاتا ہے جیسے بیوی کا مہرمؤجل ۔
اس دین مؤجل کی بابت فقہائے کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ وجوب ِ زکوۃ سے مانع ہے کہ نہیں ۔ چناچہ اس لحاظ سے چارطرح کے اقوال پائے جاتے ہیں :
1:۔دین مؤجل مطلقا وجوبِ زکوۃ سے مانع ہے۔
2:۔ دین مؤجل مطلقا وجوبِ زکوۃ سے مانع نہیں ۔
3:۔ طویل المیعاد عرفی دیون جن کی ادائیگی کا وقت فریقین کے مابین معین نہ ہو،مانع نہیں ہو گا ۔(علمائے مبارک پور کا مؤقف)
4:۔صرف رواں سال کا دیون منہا کیا جائے گیا ۔
دین مؤجل مطلقا وجوب زکوۃ سے مانع ہے
یہ احناف کا اصولیمؤقف ہے جسے متون ، شروح اور فتاوی میں ذکر کیا گیایہاں تک کہ ہندیہ وغیرہ میں اسی کوظاہر المذہب لکھا ہے: وھو الصحیحعلی ظاہر المذہب۔ (فتاوی عالمگیری،جلد 01،صفحہ 173 )
مبسوط ،قدوری اس کی شرح جوہرہ نیرہ ، ہدایہ ،اس کی شرح عنایہ ،فتح القدیر ، فتاوی ہندیہ ،فتاوی قاضی خان ،بدائع الصنائع وغیرہا میں اسی کو لیا گیا ہے ۔
بدائع الصنائع میں ہے :مِنْهَا أَنْ لَا يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ مُطَالَبٌ بِهِ مِنْ جِهَةِ الْعِبَادِ عِنْدَنَا فَإِنْ كَانَ فَإِنَّهُ يَمْنَعُ وُجُوبَ الزَّكَاةِ بِقَدْرِهِ حَالًّا كَانَ أَوْ مُؤَجَّلًا۔ترجمہ : اس کی شرائط میں سے ہے کہاس پر ایسا دین نہ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی جانب سے ہو ہمارے نزدیک۔پس اگر دین ہوتو وہ اتنی مدارمیں وجوب ِزکوۃ سے مانع ہو گا وہ دینحالی ہو یا مؤجل ۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع جلد2 صفحہ: 6 دار الكتب العلمية)
علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ نے مطلق دین (معجل ہو یا مؤجل)کو وجوب ِزکوۃ سے مانع قراردیتےہوئےمقیس علیہ (مہر مؤجل)کا خصوصیتکے ساتھ ذکر کیا ہے ، لکھتے ہیں :ولو صداق زوجتہ المؤجل ۔ترجمہ:اگرچہ بیوی کا مہر مؤجل ہو۔(الدر المختار جلد،02،صفحہ177 امددایہ ملتان)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے ۔لکھتے ہیں :"دین عبد(یعنی بندوں میں جس کا کوئی مطالبہ کرنے والا ہو ا اگر چہ دین حقیقۃً اﷲ عزوجل کا ہوِ جیسے دین زکٰوۃ جس کا مطالبہ بادشاہ اسلام اعزاللہ نصرہ کو ہے ) انسان کے حوائج اصلیہ سے ہے ایسا دین جس قدر ہوگا اتنا مال مشغول بحالتِ اصلیہ قرار دے کر کالعدم ٹھہرے گا اور باقی پر زکوٰۃ واجب ہوگی اگربقدر نصاب ہو، مثلاًہزار روپے پر حولانِ حول ہواور اس پرپانسو قرض ہیں توپانسو پر زکوٰۃ آئے گی اور ساڑھے نوسودین ہے تو اصلاًنہیں کہ باقی قدر نصاب سے کم ہے" ۔(فتاوی رضویہ ،جلد10 صفحہ127،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مذکور مؤقف کی علت
1:۔زکوۃ کی شرائط میں سے نصاب کا حاجتِاصلیہ سے فارغ ہونا ہے ۔ اور دین کی ادائیگی انسان کی حاجت اصلیہ میں سے ہے کہ کوئی بھی شخصمدیون کو بری الذمہ نہیں سمجھتا ۔یہاں تک کہ اگر یہ دین ادا نہیں کرتا تو اس کو ذلت و رسوائی ،قید وبند تک کا سامنا ہو سکتا ہے ۔
جوہرہ نیرہ میں ہے:لو امتنع من الاداء یھاناو یحبس فصار فی سرفہ ازالۃ الضررعن نفسہ ۔ترجمہ:اگر دائن دین کی ادائیگی سے ٹال مٹول کرتا ہے تو اس کورسوا کیا جاتا ہے یا قید کر دیا جاتا ہے ۔پس اس (دین)کو ادا کرکےہی بری ہو سکتا ہے۔(الجوہر النیرۃ،جلد 01،صفحہ114 ،خیریہ)
جہاں علت معدوم ہو
یہاں پر ایک اعتراض ہو تا ہے کہ وہ دیونجن میں دائن و مدیون کے مابین ایک خاص مدت تک کا معاہدہ ہوتا ہے کہ مدیون اتنی مدت میں یہ رقم واپس کرے گا ،دائن اس سے سےپہلے مطالبہ نہیں کر سکتا ، نہ زور زبردستی کر سکتا ہے ۔ تو اس صورت میں تو اہانت ا ور قید و بند والی علت مفقود ہوگی لہذا ایسا دین وجوبِزکوۃ سے غیر مانع ہونا چاہیے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ اس خاص صورت میںعلت کا ارتفاع ہو رہا ہے، لیکن ایک دوسری علت اب بھی باقی ہے جسے صاحبِ فتح القدیر نے ذکر کیا ہے کہ یہ شخص اگرچہ دنیا میں محفوظ ہے لیکن اگر ایسی حالت میں انتقال کر جاتا ہے تو آخرت میں ضرور مؤاخذہ ہو گا:وَالْمُؤَاخَذَةِ فِي الْمَآلِ، إذْ الدَّيْنُ حَائِلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ، وَأَيُّ حَاجَةٍ أَعْظَمُ مِنْ هَذِهِ ۔ترجمہ:اور آخرت میں مؤاخذہ ہے کیوں کہدین اس کے اور جنت کے مابین حائل رہے گا اور کونسی حاجت ایسی ہے جو اس حاجت سےبڑی ہو گی ۔(فتح القدیر ،جلد02 صفحہ161، دار الفكر)
محقق علی الاطلاق علامہ کمال ابن ہمام کےجزئیہ کے مطابق کسی بھی دینمؤجل کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتاکہ وہ حاجتِاصلیہ کے عموم سے باہر ہے۔
علامہ کاسانی علیہ الرحمہ کا استدلال
علامہ کاسانی علیہ الرحمہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کےدور میں زکوۃ کے حوالہ سے جو معمول تھا اسے بیان کرتےہیں: رُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ خَطَبَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: أَلَا إنَّ شَهْرَ زَكَاتِكُمْ قَدْ حَضَرَ فَمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَحْسِبْ مَالَهُ بِمَا عَلَيْهِ ثُمَّ لِيُزَكِّ بَقِيَّةَ مَالِهِ، وَكَانَ بِمَحْضَرٍ مِنْ الصَّحَابَةِ وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَكَانَ ذَلِكَ إجْمَاعًا مِنْهُمْ عَلَى أَنَّهُ لَا تَجِبُ الزَّكَاةُ فِي الْقَدْرِ الْمَشْغُولِ بِالدَّيْنِ ۔ترجمہ:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ شہر رمضان میںخطبہ دیتے ہوئے اپنے خطبہ میں ارشاد فرماتے :بے شک تمہارے زکوۃ کا مہینہ آ چکا ہے ۔پس جس کےپاس مال اور اس پر دینہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے مال سے دین کوشمار کر کے(الگ کرے)پھر جو مال بچ جائے اس کی زکوۃ دے۔اور یہ صحابہ کرام کی موجودگی میں تھا جس پر کسی صحابی نے انکار نہیں کیا،تو ان (صحابہ)کی جانب سے اس بات پر اجماع ہوگیا کہ وہ مقدار جو زکوۃ میں مشغول ہو اس پر زکوۃ نہیں۔
علامہ کاسانی علیہ الرحمہ اس سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :وَبِهِ تَبَيَّنَ أَنَّ مَالَ الْمَدْيُونِ خَارِجٌ عَنْ عُمُومَاتِ الزَّكَاةِ؛ وَلِأَنَّهُ مُحْتَاجٌ إلَى هَذَا الْمَالِ حَاجَةً أَصْلِيَّةً؛ لِأَنَّ قَضَاءَ الدَّيْنِ مِنْ الْحَوَائِجِ الْأَصْلِيَّةِ.وَالْمَالُ الْمُحْتَاجُ إلَيْهِ حَاجَةً أَصْلِيَّةً لَا يَكُونُ مَالَ الزَّكَاةِ؛ ۔ترجمہ :اور اسی سے واضح ہو گیا کہ مدیون کا مال زکوۃ کے عمومات سے خارج ہے،اس لیے کہ مدیون کا اس مال کی طرف محتاج ہونا حاجت اصلیہ ہے،کیوں کہ دین کی ادئیگی انسان کی حاجات اصلیہ میں سے ہے۔اور جس مال کی حاجت ،حاجتِ اصلیہ کے طور پر ہو وہ (مال)مالِ زکوۃ نہیں۔
مزید فرماتے ہیں کہدین کی موجودگی میں مال پر مالک کی ملکیت ناقص شمار ہو گی ۔چناچہ لکھتے ہیں: وَلَا يَتَحَقَّقُ مَعَ الدَّيْنِ مَعَ مَا أَنَّ مِلْكَهُ فِي النِّصَابِ نَاقِصٌ بِدَلِيلِ أَنَّ لِصَاحِبِ الدَّيْنِ إذَا ظَفِرَ بِجِنْسِ حَقِّهِ أَنْ يَأْخُذَهُ مِنْ غَيْرِ قَضَاءٍ وَلَا إرْضَاءٍ۔ترجمہ : مال زکوۃ دین کے ساتھ متحقق نہیں ہو تا باوجود یہ کہنصاب میں مدیون کی ملک ناقص رہتی ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ دائن اپنے حق وصول کرنے کے لیے دین کی جنس سے کوئی بھی چیزقاضی کی قضا اور مدیون کی رضاکے بغیر لے سکتا ہے ۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع جلد2 صفحہ 6دار الكتب العلمية)
فائدہ: فی زمانہ تو اس میں مزید عموم آ چکا ہے کہ فتوی اس بات پر ہے کہ کہ دائنغیر جنس سے بھی اپنا حق وصول کر سکتا ہے۔
دینمؤجل مطلقا مانع وجوب ِ زکوۃ نہیں
یہ قول علامہ شامی نے قہستانی سے نقل کیا اور قہستانی نے جامع الرموز میں جواہر الفتاویسے نقل کیا ہے کہ :وذکر فی المغنی ان دین العباد یمنع ولو مؤجلا وعن الصدر الشہید لا روایۃ فیہ،ولکل من المنع وعدمہ وجہکما فی الکافی والصحیح انہ غیر مانع کما فی الجواہر ۔ترجمہ:مغنی میں مذکور ہوہے کہ بندوں کا دینمانعِ وجوبِ زکوۃ ہے اگرچہ وہ دین مؤجل ہو ،اور صدر شہید سے مروی ہے کہ اس میں کوئی روایت نہیں،اور منع اور عدم منع میں سے ہر ایک کی کوئی نہ کوئی دلیل ہے جیسا کہ کافی میں ہے ،اور صحیح یہ ہے کہ یہ دین مؤجل وجوبِ زکوۃ سے مانع نہیں۔ ۔(جامع الرموز صفحہ 168،دار الامارہ)
اسی مؤقف کو صدر الشریعہ صاحبِ بہارشریعت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے اختیار کیا ہے۔یہی مؤقف مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ کا بھی ہے۔
صدر الشہید کیتصریح سے یہ بات واضح ہو چکی کہ دونوںقولوں کی تصحیح موجود ہے ۔
طویل المیعاد عرفی دیون جن کی ادائیگی کا وقت فریقین کے مابین معین نہ ہو ،مانع وجوب زکوۃ نہیں ۔(علمائے مبارک پور کا مؤقف)
علمائے مجلس شرعیکا اصولی مؤقف تو اول الذکر ہی ہےالبتہ وہ دین مؤجلعرفی کو اس سے خارج قرار دیتے ہیں ۔چناچہ مفتی نظام الدین مصباحی دام ظلہنے فتح القدیر کے جزئیہ کی بنیا دپر دین کو تین اقسام میں منقسم کیا :
1:۔دین حال :جس کی ادائیگی فی الفور ہو ۔اس کے لیے کوئی میعاد مقرر نہ ہو۔
2:۔دین مؤجل مشروط:جس کی ادائیگی باہم قرار داد کے ذریعے معین ہو ۔
3:۔دین مؤجل عرفی:جس کی ادائیگی کی میعاد عرفامعلوم ہو مگر اس کے لیے کوئی خاص تاریخیعنی ماہ و سال متعین نہ ہو۔جیسے آج کے زمانے میں عورتوں کا مہر کہ عرفا سب کو معلوم ہوتا ہے اس کی ادائیگی طلاق یا وفات کے وقت ہو گی۔
اس تقسیم کے بعد لکھتے ہیں :پہلے دو قسم کے دیون کے بارے میں ظاہر مذہب یہ ہے کہ وہ مانع وجوب ِزکوۃ ہیں ۔کیوں کہ بندے ان دیون کا مطالبہ کرتے ہیں اور عدم ِادائیگی کی صورت میں حبس اور کم از کم رسوائی کا خطرہ ضرور ہوتا ہے ۔(جدید مسائل پر علما کی رائیں اور فیصلے جلد 02صفحہ 386)
جبکہ تیسری قسم کو یہ مانعِ وجوب زکوۃ تسلیم نہیں کرتے۔ان کے نزدیک دین مؤجل کی بنا بیوی کے مہر مؤجل پر ہے اور مہرِ ِمؤجل میں اختلاف کا باعثعرف و عادت ہے کہ دیارِ فقہا میں جیسا عرف تھا اس کے مطابق انھوں نے حکم جاری فرما یا ۔یعنی جن کے ہاں مہرِ مؤجل مشروط تھا انھوں نے مانعِ وجوبِزکوۃ کا فتوی دیا اور جن کے ہاں مہر مؤجل عرفی تھا انھوں نے مانع کا اعتبار نہیں کیا۔گویا یہ تقسیمفقہائے کرام کے ہاں ملحوظ تھی۔
چناچہ لکھتے ہیں:اس لیے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہیہاں مؤجل سے مراد مؤجل عرفی ہے کیوں کہ مہر کے مسئلےمیں مؤجل سے مراد مؤجل عرفی ہی ہے جیسا کہ امام ابن ہمام صاحب فتح القدیر نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔(جدید مسائل پر علما کی رائیں اور فیصلےجلد 02 صفحہ 386)
فتح القدیر کی عبارت ملاحظہ ہو:وَهَلْ يَمْنَعُ الدَّيْنُ الْمُؤَجَّلُ كَمَا يَمْنَعُ الْمُعَجَّلُ فِي طَرِيقَةِ الشَّهِيدِ لَا رِوَايَةَ فِيهِ، إنْ قُلْنَا لَا فَلَهُ وَجْهٌ، وَإِنْ قُلْنَا نَعَمْ فَلَهُ وَجْهٌ، وَلَوْ كَانَ عَلَيْهِ مَهْرٌ لِامْرَأَتِهِ وَهُوَ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ لَا يُجْعَلُ مَانِعًا مِنْ الزَّكَاةِ ذَكَرَهُ فِي التُّحْفَةِ عَنْ بَعْضِهِمْ لِأَنَّهُ لَا يَعُدُّهُ دَيْنًا، وَذَكَرَ قَبْلَهُ مَهْرَ الْمَرْأَةِ يَمْنَعُ مُؤَجَّلًا كَانَ أَوْ مُعَجَّلًا لِأَنَّهَا مَتَى طَلَبَتْ أَخَذَتْهُ.وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إنْ كَانَ مُؤَجَّلًا لَا يَمْنَعُ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُطَالَبٍ بِهِ عَادَةً انْتَهَى. ۔ترجمہ: کیا دینمؤجل وجوب زکوۃ سے مانع ہے جیسا کہ دین معجل مانع ہے صدرِ شہید کےطریق پر کہ (انھوں نے کہا کہ امام اعظم سے اس بارے ) کوئی روایت نہیں ۔اگر ہم کہیں مانع نہیں تو اس کی بھی دلیل ہے اور اگر کہیں مانع ہے تو اس کی بھی دلیل ہے ۔اور اگر شوہر پر اپنی بیوی کا مہر ہو اور وہ مہر دینے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ دین زکوۃ سے مانع نہیں ہو گا ،اسے تحفہ میں بعض کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے۔اور اس سے پہلے عورت کے مہر کی بابت ذکر کیاکہ وہ مانع ہو گا خواہ وہ معجل ہو یا مؤجل کیوں کہجب عورت کو ضرورت ہو گی تواسے لے لے گی ۔اور بعض نے کہا : اگردینمؤجل ہو تو وہ مانع نہیں ہوگا کیوں کہ عام طور پر اس کامطالبہ نہیں کیا جاتا ۔
اس پر محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں کہ :وَهَذَا يُفِيدُ أَنَّ الْمُرَادَ الْمُؤَجَّلُ عُرْفًا لَا شَرْطًا مُصَرَّحًا بِهِ، وَإِلَّا لَمْ يَصِحَّ قَوْلُهُ لِأَنَّهَا مَتَى طَلَبَتْ أَخَذَتْهُ، وَلَا بِأَنَّهُ غَيْرُ مُطَالَبٍ بِهِ عَادَةً لِأَنَّ هَذَا فِي الْمُعَجَّلِ لَا الْمُؤَجَّلِ شَرْطًا فَلَا مَعْنَى لِتَقْيِيدِ عَدَمِ الْمُطَالَبَةِ فِيهِ بِالْعَادَةِ۔ترجمہ:اور یہ (درج بالا عبارت)اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ اس سے مراد مؤجل عرفی ہےنہ کہ وہ مؤجل مشروط جس کی صراحت کر دی گئی ہو،ورنہ تحفہ کی یہ عبارت (أَنَّهَا مَتَى طَلَبَتْ أَخَذَتْهُ، وَلَا بِأَنَّهُ غَيْرُ مُطَالَبٍ بِهِ عَادَةً)درست نہیں ہو گی ،کیوں کہیہ معجل میں ہوتا ہے نہ مؤجل مشروط میں ،لہذا اس میں عادتاً مطالبہ نہ ہونےکی قید کا کوئی معنی نہیں ۔(فتح القدير جلد2 صفحہ163دار الفکر)
اگرچہ محقق علی الاطلاق کے اس جزئیہ سے تقسیم ِ ثلاثہ کا مفہوماور محقق علی الاطلاق کی بیان کردہ علت(وَالْمُؤَاخَذَةِ فِي الْمَآلِ، إذْ الدَّيْنُ حَائِلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ، وَأَيُّ حَاجَةٍ أَعْظَمُ مِنْ هَذِهِ) دونوں میں تضاد معلوم ہوتا ہے!! وہ یوں کہ یہ علت کیادینعرفی میں نہیں پائی جاتی؟
تاہم اگر اس تقسیم کو درست بھی مان لیا جائے تب بھی یہ صورت نادر کے قبیل سے ہو گی ۔اس لیے کہ اس دورِ نفسا نفسی میں شایدہی کوئی دین عرفی دیتا ہو ؟مالیاتی اداروں ،بنکوں ،آڑھتیوں جہاںجہاں سے بڑے دیون لیے دیے جاتےہیں وہ تمام مؤجل مشروط کے طور پر ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مجلس شرعیہ نے جو فیصلہ محفوظ کیا اس میں ظاہر ِمذہب قول(مانع وجوب زکوۃ )ہی کو لیا ہے ۔
چناچہ فیصلے میں لکھتے ہیں :دوسرے سوال (ایسا قرض دار قرض کی کل رقم اپنے مال سے وضع کر کے بقیہ مال نصاب پر زکاۃدے گا ،یا قرض کی میعاد نہ آنے کی وجہ سے رقم قرض کو بھی اپنے مال میں شمار کرے گا اور اس کی بھی زکاۃ دے گا )کے جواب میں یہ طے ہوا کہ ایسا قرض دار قرض کی کل رقم اپنے مال سے وضع کر کے بقیہ مال نصاب پر زکاۃ دے گا ۔(جدید مسائل پر علما کی رائیں اور فیصلے جلد02،صفحہ 398)
صرف رواں سال کے دیون منہاکیے جائیں گیا
جس سال میںزکوۃ ادا کی جا رہی ہے صرف اس سال کی اقساط منہا کی جائے گی ۔ یہ قول مالیاتی اداروں میں استعمال ہو رہا ہے جو (SECP) کے تحت چلتے ہیں۔اسی طرح اسلامیبنکوں میں بھی اسی قول کو لیا جا رہا ہے ۔ہمارے معاشی قوانین جہاں جہاں لاگو ہیں وہاں پر اسی قول کو لیا جا رہا ہے۔یہی مؤقف عصر حاضر کےبعض مفتیان کرامکا بھی ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک تقسیم یہ بھی کی گئی کہ جو قرضے ایسی چیز کے حصول(خریدنے) کے لیے لیے حاصل کیے گئے جس( چیز ) پر زکوۃ بنتی ہے(مثلاً مال تجارت یا سائمہجانور وغیرہ )تو ان قرضوں کو منہا کیا جائے گا ،اس کے علاوہ دیگر قرضوں کو منہا نہیں کر یں گے ۔
محاکمہ :
درج بالا چاروں مؤقفات میں بحث و تمحیص،اور غور و خوض کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اول الذکر مؤقف ہی انسب اوراشبہ للفتوی ہے۔اس لیے کہ عام متون و شروح اور فتاویمیں اسی کو لیا گیاہے اور ہندیہ میں اسی کو ظاہر مذہبکہا گیا ۔قوتِ دلیل کے لحاظ سے تقابلی جائزہ لیا جائے تب بھی یہی قول مضبوط نظر آتا ہے ۔البتہ اگرکوئی شخص دیگر مفتیانِ کرام کی رائے پر عمل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ۔
اولالذکر مؤقف پر واردہونے والے اشکالات
1:۔باب ِزکوۃ میں مفتی بہ قول کی بڑی علامت یہ ہے کہ وہ انفع للفقراء(فقراکےلیے زیادہ فائدہ) ہو ۔اور اس ظاہرِ مذہب والے قول کو اختیار کرنے کی وجہ سے تو فقراء کا زیادہ نفع نہیں بلکہ نقصان ہے اور یوں بڑے بڑے تاجروں کی زکوۃنہ ہونے کے برابر بنے گی ۔
2:۔لوگ اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کریں گے ، زکوۃ سے بچنے کے لیےاس طرح کے قرض لے لیں گے۔
جواباتملاحظہ ہوں
1:۔باب زکوۃ میں مفتی بہ قول اگرچہ وہی ہوتا ہے جو دوسرے قول کے مقابلے میں انفع اللفقراء ہو۔ لیکن اسکے ساتھیہ بھی ملحوظ رہے کہ انفع للفقرا پر عمل کرتے ہوئےمزکین (زکوۃ ادا کرنے والوں) کو ضرر نہ پہنچے ۔اسے مثال سے یوں سمجھیے کہ: ایک شخص نے گھر کی تعمیر کے لیے پچاس لاکھ مؤجل قرض لیا ۔ گھر کی تعمیر جاری تھی کہ نصاب (پانچ لاکھجو پہلے سے اس کے پاس تھا )پر سال مکمل ہو گیا تو اب دین کو اگر منہانہ کریں تو اس پر 55 لاکھکی زکوۃہو گی جو کہ ایک لاکھ سینتیس ہزارزکوۃ بنتی ہے،جو کہ تکلیفِ مالایطاق کے قبیل سے ہے۔ مزید یہ کہ اس طرح سال میں ایک ہی مال پر دوبار زکوۃ لازم آئے گی یعنی ایکبار قرض دینے والے پر(دین قوی ہونے کی وجہ سے) اور دوسری بار مقروض پر (دین مؤجل کو مانع زکوۃ تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے)۔سو اگر مدیون سےدین منہا کرتے ہیں تو لامحالہ وہ دین دائن کے پاس مالِ زکوۃ بنے گا ۔لہذا اس مؤقف کو اختیار کرنے میں فقرا کا کوئی نقصان نہیں ۔
2:۔اگر کوئی شخص اس طرح کے دیون زکوۃ سےبچنے کے لیے لیتا ہے تو "انما الاعمال بالنیات"کے تحت یہ بہانہ فائدہ نہیںدے گا جیسا کہ حیلہ شرعی کوئی غلط مقصد(زکوۃ سے بچنے وغیرہ) کے لیے استعمال کرے تو فائدہ نہیں دیتا۔
ھذا ماعندی واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20رمضان المبارک1443 ھ/22اپریل2022 ء