سوال
آج کل اسلامی بنک اپناگھر اسکیم کے تحت (DIMINISHING MUSHARKA) کے ذریعہ گھر دیتے ہیں ۔تو کیا ہم کیا کسی اسلامی بنک سے گھر لے سکتے ہیں؟ سائل:محمد کمال الدین،اورنگی کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ہمارے نزدیک سوال میں مذکورہ ایگریمنٹ کے تحت گھر لینا بالمشروط جائز ہے ۔
حکم کی تفصیل یہ ہے کہ :شرکت متناقصہ(DIMINISHING MUSHARKA)شرکت کی ایک جدید صورتہے۔متناقصہ نقص سے ماخوذ ہے ، جس کا معنی ہے ٹوٹنا،کیوں کہ اس میں شریک اول (بینک) کی یونٹس ٹوٹتی (کم)ہوتی رہتی ہیں ۔
اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ:دو شریک (بنک اور کسٹمر ) مل کر ملکیتکی بنیاد پر (basis of ownership) گھر وغیرہ خریدتے ہیں۔جس میں عام طور پر بنک 75 فیصد،اور باقی25 فیصد رقم (EVENTUAL OWNER)اداکرتا ہے۔خریداری کے بعد گھر کو یونٹس میں تقسیم کر دیا جاتا ہے ،اور بنک اپنی یونٹس کسٹمرکو طے شدہ اجارے پر باہم رضامندی سے دیتا ہے ۔اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کسٹمر بنک سے اس کی یونٹ خریدتا رہتا ہے یہاں تک کہ کسٹمر مکمل پروجیکٹ کا مالک بن جاتا ہے ۔ خریداری کے اس مرحلہ کے دوران کرایہ (rent)یونٹس کے تناسب کے لحاظ سے باہم رضامندی سے کم ہوتا رہتا ہے۔الغرض اسپورے عمل(procrdure) میں تین طرح کے معاہدات ہوتے ہیں:
1:۔شرکۃ المک
2:۔اجارہ
3:۔بیع
تینوں ہی معاہداتاپنی اصل کے لحاظ سے شریعت مطہرہ میں جائز ہیں۔
1:۔شرکۃ المک یعنی دو یا دو زائد لوگ کسی چیز کے مالک بن جائیں خواہ یہ مالک بننا جبری طور پر ہو جیسے وراثت یا اختیاری طور پر ہو جیسے کسی چیز کو خرید کر اس کا مالک بننا ۔یہ بلکل جائز ہے ۔
فقہ حنفی کی معتمد کتاب ہدایہ میں ہے : الشرکۃ جائزۃ وھی ضربان شرکۃ املا ک و شرکۃ عقد ترجمہ: شرکت جائز ہے ،اور اس کی دو اقسام ہیں :شرکتِ املاک اور شرکتِ عقد ۔(الھدایہ،کتاب الشرکۃ ،جلد 03صفحہ05 )
در مختار میں ہے:شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا كثوب هبه الريح في دارهما فإنهما شريكان في الحفظ قهستاني (أو دينا بإرث أو بيع أو غيرهما) بأي سبب كان جبريا أو اختياريا ولو متعاقبا۔ترجمہ:شرکۃ الملک یہ ہے کہ دو یا دو سے زائد متعدد لوگ کسی عین کے مالک بن جائیں یا یا کسی چیز کی حفاظت میں شریک ہو جائیں جیسے کوئی کپڑا کہ جسے ہوا اڑا کے ان کے گھر لے آئی تو یہ دونوں اس کی حفاظت میں شریک ہوں گے(قہستانی) ۔ یا پھر دین کے مالک بنے ہوں وراثت ،بیع یا ان دو کے علاوہ کسی اور چیزسے خواہ سببجبری ہو یا اختیاری ۔(الدر المختار علی تنویر الابصار،کتاب الشرکۃ ،جلد04، صفحہ300۔دار الفکر بیروت)
2:۔دوسرا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ بنک اپنی متعینہ یونٹس کسٹمر کو جارے پر دے کر کرایہ وصول کرتا ہے ۔دو شریکوں میں سے ایک کا اپنا حصہ دوسرے شریک کو کرائے پر دینا اس طرح کہ حصہ میں کسی قسم کا ابہام نہ ہو ،جائز ہے ۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: تفسد أيضا (بالشيوع إلا إذا آجر) كل نصيبه أو بعضه (من شريكه)یجوز۔ترجمہ:مشاع کا اجارہ فاسد ہے مگر جب اپنے تمام یا بعض حصص اپنے ہی شریک کودے تو جائز ہے۔(الدر المختار علی تنویر الابصار،باب الاجارہ الفاسدۃ ،جلد06، صفحہ48۔دار الفکر بیروت)
3:۔کسٹمر کا بنک سےوقتا فوقتا یونٹسخریدنا یہ بھی جائز ہے ۔ علامہ محقق کمال ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وانہ یجوز لہ ان یبیع نصیبۃ من شریکہ فی جمیع الصور ترجمہ:اس کےلیے اپنا حصہ اپنے شریک کو بیچناتمام صورتوں میں جائز ہے۔(فتح القدیر ،کتاب الشرکۃ،جلد 13،صفحہ 449)
ہم نے تینوں صورتوں (شرکۃ المک،اجارہ،اور بیع )کا جواز فقہ حنفی کی روشنی میں پیش کیا کہ انمیں کوئی حرج نہیں۔تاہم مانعین کی جانب سے اس پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگرچہ فی نفسہ تینوں صورتیں جائز ہیں لیکن ایک عقد میں دوسرے عقد کو جمع کرنا یعنی دو یا دو سے زائد عقود کو ایک سودے میں جمع کرنا"صفقۃفی الصفقۃ یا صفقتانفی الصفقۃ "ہے جو کہ جائز نہیں ۔اسی طرحایک معاملہ کو دوسرے پر موقوف کرناجیسے کلائنٹ کو یہ کہنا کہ اگر تم شرکۃ الملک کے بعد ہماری یونٹس اجارے پر لو گے ۔اور انہیں خریدوگے تو ہم یہمعاہدہ کریں گا،ورنہ نہیں ۔تویہ بھی جائز نہیں۔اس لیے کہ یہ " عقد بشرط العقد" ہے ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں پر بظاہر یہ اعتراضات محسوس ہوتے ہیں در حقیقت نہیں۔وہ یوں کہ بنک کی practice) ( یہ نہیں ۔بلکہ بنک کلائنٹ سے ہر عقد (agreement) الگ طور پر کرتا ہے،تینوں ایک ساتھ نہیں کیے جاتے۔ہاں اگر کوئی بنک تینوں معاہدات ایک ساتھ کرتا ہو تو جائز نہیں۔
عقد بشرط العقد کا جواب یہ ہے کہ شرکۃالملک کا معاہدہ کرتے وقت اجارہ اور بیع کی شرط نہیںذکر کی جاتی ہے۔بلکہ الگ سے کلائنت سے ایک وعدہ لیا جاتا ہے کہ وہمرحلہ وار بنک کے ساتھ(اجارہ اور بیع کی صورت میں ) تعاون کرے گا ۔ردالمحتار میں ہے : وفی جامع الفصولین ایضا لو ذکر البیع بلاشرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع ترجمہ :جامع الفصولین میںہے کہ اگر بیع کا ذکر بلا شرط کیا پھر شرط کو بطور وعدہ ذکر کیا تو بیع جائز ہے۔(ردالمحتار کتاب البیوع مطلب فی الشرط الفاسد ،جلد04 صفحہ 120)
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہےکہ : کلائنٹ کا وعدہکرنا تو ٹھیک ہے لیکن ایفائےعہد پر اسے مجبور کرنا جائز نہیں جبکہ شرکتِ متناقضہ میں تو کلائنت کو مجبور کیا جاتا ہے ؟
جواب :عام حالات میں تو ایفائے عہد پر مجبور نہیں کیا جا سکتا لیکن جہاں پر عدمِ ایفا کی وجہ سے دوسرے فریق کو نقصان و ضرر لازم آئے تو وہاں اس کی اجازت ہے،جیسا کہ بیع الوفا کہ وہاں پرایفائے عہد کو پورا کرنا ضروریہوتا ہے ۔اسی بیع الوفا میں ایفائے عہد کو پورنے کی علت کو بیانکرتے ہوئے علامہ حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وقد تجعل المواعید لازمۃ لحاجۃ الناس ترجمہ:اور کبھی وعدوںکی تکمیل لوگوں کی ضرورت کی بنا پر لازمی قرار دی جاتی ہے ۔(الدر المختار علی تنویر الابصار ،مطلب مسائل فی المقاصۃ ،جلد05 صفحہ277،دار الفکر بیروت)
یہاں اسلامی بنکوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ یہ مالیاتی ادارے ہیں ،خیراتی ادارےنہیں ۔جن میں اس طرح کی پابندیوںکی اجازت نہ دی جائے حالاں کہ ان کیگنجائش فقہ حنفی میں موجود ہے، توان اداروں کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔
خلاصہ کلام :
اسلامی بنک سے شرکت متناقضہ کے طور پر گھر لیناجائز ہے ۔یاد رہے کہ یہ فتوی صرف گھر کی خریداری جو مذکورہ طرز پر اسلامی بنک کے ساتھ مل کر کی جاتی ہے ،اس کے جوازکا ہے ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد يونس انس قادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء: 23صفر المظفر 1443 ھ/01اکتوبر2021ء