سوال
ایک عورت جو شادی شدہ ہے اپنی ملک میں سے با ہوش وحواس چند تولہ سونا قاری صاحب جو کہ سید زادے ہیں کو دیا کہ آپ اسکو بیچ کر دینی کاموں میں لگا دیں تاکہ میرے لئے ثواب کا باعث بنے اور یہ بات میرے گھر والوں کو معلوم نہ ہو ۔بس میں چاہتی ہوں یہ رقم میری آخرت میں بخشش کا سبب بنے، قاری صاحب نے وہ سونا بیچ کر کچھمدارس اور کچھ مساجد کی تعمیر میں لگا دیا۔قاری صاحب کے پاس عطیات کی تفصیل ورسیدیں بھی موجود ہیں۔
جب اس عورت نے چند ماہ بعد اپنے شوہر کو بتایا میں نے اتنی مقدار میں سونا عطیہ کیا ہے یہ سنتے ہی اسکے شوہر اور بقیہ سسرالیوں کی طرف سے قاری صاحب کو تنگ کرنا شروع کر دیا ہے اور کہتے ہیں کہ قاری صاحب وہ سونا کھا گئے جبکہ انکے پاس مکمل عطیہ کی تفصیل موجود ہے۔
ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اس عورت نے یہ جو صدقہ کیا شرعی اعتبار سے غلط کیا یا درست ؟
قاری صاحب نے جو امانت کو دیانتداری سے آگے پہنچایا ،کیا قاری صاحب نے شرعی لحاظ سے غلط کیا یا ٹھیک؟ براہِ کرام جواب عنایت فرمائیں !
سائل:سید شہباز کاظمی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہ جواب صدقِ سوال کی بنا پر دیا جا رہا ہے !
اس مسئلہ میں قاری صاحب کی حیثیت وکیل جبکہ خاتون کی حیثیت اصیل( مؤکلہ) کی ہے ۔
خاتون نے جو سونا تصدق کیا اگر اس کی مالکہ تھی تو وہ اسےصدقہکرنے کے لیےکسی سے اجازت لینے کی پابند نہیں ۔اس لیے کہ ہر عاقل بالغ آزاد شخص اپنی ملکیت میں بلا روک ٹوکمالکانہ تصرف کر سکتا ۔ تاہم اخلاقی لحاظ سے میاں بیوی کا اس طرحکے اقدام میں ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا چاہیےکہ اس سے زدواجی زندگی متاثر ہوتی ہے ۔ پھر خاتون کا اس کارِ خیر کے لیے قاری صاحب کو وکیل بنانا اور قاری صاحب کاوکالت لے کر یہ امور سرانجام دینا جائز بلکہ فی نفسہ مستحسن و مستحب عمل ہے ۔
اس پورے مسئلہ میں 'خاتون کے زیورات کے صدقہ کرنےکی نیت سے لے کر قاری صاحب کے بطوروکیل راہِ خدا میں خرچ کرنے تک " شرعی لحاظ سے کوئی خرابی نہیں ۔تام ہمارے معاشرے میں بیوی کا شوہر کوبتائے بغیر یوں صدقہ کرنا اخلاقی لحاظ سے نامناسب سمجھا جاتا ہے بیوی کو اس کا خیال کرنا چاہیے تھا ۔لہذاجو اخلاقی لحاظ سے موردِ الزام ٹھہرتا ہے سرزنش کرنی ہو تو اس پر کی جائے ،قاری صاحب کو (بغیر ثبوتِ جرم اس کی تفصیل آئے گی) کوسنا ،انپر تہمت لگانا ،ان سے تاوان کا مطالبہ کرنا نا جائز و حرام ہے۔
صرفمتصدقہ خاتون کو مؤکلہ ہونے کے ناطے یہ حق پہنچتاتھا کہ وہ اپنے دلی اطمینان کے لیےقاری صاحب سے ثبوت و معلومات لے سکے۔اور بیانِ سوال کے مطابق قاری صاحب ثبوت و معلومات دے کر حجت تام کر چکے ۔ اہل خانہ کے لیے یوں کسی مسلمان کو بار بار تنگ کرنا جائز نہیں اوریہاں تو صرف مسلماننہیں قاری صاحب کو نسبت ِآل رسول بھی حاصل ہے !!!!!غور کرو سخت معاملہ ہے۔
دلائل و جزئیات
متونِ حدیث میں مختلف طرق سے یہروایت موجود ہے کہ :عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ «تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلُ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ترجمہ:حضرت زینب زوجہ عبد اللہ سے روایت ہے کہتی ہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا: اے عورتو!صدقہ کرو بھلے اپنازیور ہی (صدقہ)کرو کیوں کہ قیامت کے دن جہنمیوں میں اکثریت تمہاری ہو گی ۔(السنن الكبرى للنسائی رقم الحدیث:9156)
ا س مبارک اعلان کے فوراًبعد صحابیات نے حسبِ بساط صدقہ دینا شروع کر دیا اور کہیں بھی یہ مذکور نہیں کہ انہوں نے شوہروں سے اجازت کے بعد صدقہ دیا ہو۔
حنفیہ ،شوافع ،اور امام احمدکے نزدیک عورت کا اپنے مال میں شوہر کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنا جائز ہے ۔ابن قدامہ حنبلی متوفی 620لکھتے ہیں :أَنَّ لِلْمَرْأَةِ الرَّشِيدَةِ التَّصَرُّفَ فِي مَالِهَا كُلِّهِ، بِالتَّبَرُّعِ، وَالْمُعَاوَضَةِ. وَهَذَا إحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ أَحْمَدَ. وَهُوَ مَذْهَبُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيِّ وَابْنِ الْمُنْذِرِ۔ ترجمہ:سمجھدار عورت کے لیے اپنے سب مال میں تصرف کرنا عقدِ تبرع کے ذریعےیا عقد معاوضہ کے زریعے جائز ہے ۔یہ امام احمد بن حنبل کی دو روایتوں میں سے ایک ہے ۔یہی امام ابوحنیفہ ،امام شافعی اور ابن منذر کا مؤقف ہے۔(المغني لابن قدامة جلد 04،صفحہ 348 مكتبة القاهرة)
امام صاحب کے نزدیک مطلقا ً ہر عاقل بالغ اپنے مال میں تصرف کر سکتا ہے جبکہ صاحبین امام ابو یوسف و امام محمد علیھما الرحمہ کے نزدیک بیوقوف نہیں کر سکتا ۔
ہدایہ میں ہے:قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ لایحجر علی الحرالعاقل البالغ السفیہ وتصرفہ فی مالہ جائز وان کان مبذرا مفسدا یتلف مالہ وقال ابویوسف ومحمد رحمھما اﷲ تعالٰی یحجر علی السفیہ ویمنع من التصرف فی مالہ، لابی حنیفۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ ان فی سلب ولایتہ اھدار آدمیتہ والحاقۃ بالبھائم وھو اشد ضررامن التبذیر فلا یتحمل الاعلی لدفع الادنی مختصرا ۔ترجمہ: امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ آزاد عاقل بالغ بیوقوف کو محجور( یعنی تصرفات سے روکنا) جائز نہیں ہے اور اس کا اپنے مال میں تصرف کرنا جائز ہے اگرچہ وہ فضول خرچی اور فاسد کرتے ہوئے مال تلف کردے ۔ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالٰی نے فرمایا ایسے بیوقوف کو محجور قرار دینا اور مال میں تصرف کرنے سے روکنا جائز ہے ، امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی دلیل یہ ہے کہ اس کی ولایت کو ختم کرنے کا مطلب اس کی آدمیت کو معطل کرنا اور اسے حیوانوں سے لاحق کرنا ہے جو کہ اس کے حق میں فضول خرچی سے زیادہ ضرر والی بات ہے لہذا اس کے ادنی ضرر کو ختم کرنے کے لئے بڑے ضرر کو نہیں اپنایا جا سکتا ۔( الہدایہ کتاب الحجر باب الحجر للفساد جلد03،صفحہ351تا352)
کسی مسلمان پر بلا وجہ شرعی الزام لگانا:
جس نے کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام لگایا تو اللہ تعالیٰ جہنم کے پل پر اُسے روکے رکھے گا جب تک وہ اپنے کہنے کے مطابق عذاب نہ پا لے۔(ابو داؤد، 4/354، حدیث: 4883)
جو کسی مسلمان پر ایسی چیز کا الزام لگائے جس کے بارے میں وہ خود بھی جانتا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے خون اور پیپ جمع ہونے کے مقام)”رَدْغَۃُ الْخَبَالْ“میں اُس وقت تک رکھے گا جب تک کہ اپنے الزام کے مطابق عذاب نہ پا لے۔(مصنف عبد الرزاق، 11/ 425، حدیث: 20905) ۔
ھذا ماعندی واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14رمضان المبارک 1444 ھ/05اپریل 2023 ء