سوال
میرا بیٹا محمد رمیز (شہید) جو کہ محکمہ پولیس میں ملازم تھا اور دوران ڈیوٹی شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوگیا تھا جس کی وجہ سے محکمہ پولیس اور حکومت کی جانب سے شہید فنڈکی مد میں فنڈ دیا جاتا ہے اور اسکے علاوہ ہر ماہ تنخواہ بھی ورثاء کو دی جاتی ہے۔شہید کے ورثاء میں والد،والدہ،بیوہ،بھائی(دو شادی شدہ اور ایک غیر شادی شدہ)،بہن (غیر شادی شدہ) شامل ہیں۔نیز ایک عدد سرکاری مکان بھی جو کہ قابل فروخت ہے۔برائے مہربانی رہنمائی کریں کہ شہید کی وراثت اسکے ورثاء میں شریعت کی رو سے کیسے تقسیم ہوگی؟
نوٹ:ہماری معلومات کے مطابق جب کوئی سپاہی شہید ہوتا ہے تو محکمہ دیگر سپاہیوں کے اکاؤنٹ سے کچھ رقم ڈونیٹ کرواتا ہے جو کہ یکمشت لواحقین کو دی جاتی ہے،اگر ملازم شادی شدہ ہو تو یہ فنڈ بیوہ کی ملک کیا جاتا ہے۔
سائل: فتح شیر۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں وراثت کی کوئی صورت نہیں بنتی۔پینشن کی جو رقم ملازم کے انتقال کے بعدملے، وہ نامزد شدہ شخص (جو کہ عموما بیوہ ہی ہوتی ہے) کی ملکیت شمار ہوتی ہے اورنامزد نہ کرنے صورت میں جس کو ملے اسی کی ملکیت شمار ہوتی ہے، اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔یہی حکم شہید فنڈ کا ہے کہ محکمہ کی طرف سے جس شخص کے نام ہو خاص اسی کی ملکیت شمار ہوگی اور نامزدگی نہ ہونے کی صورت میں جسے ملے اس کا مالک قرار پائے گا۔نیز سرکاری مکان ملازم کی ملکیت نہیں ہوتا لہذا اس میں بھی کوئی وراثت جاری نہیں ہوگی۔
مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سےملنے والے فنڈ بنیادی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں:
(1) جو مال میت کی ملکیت میں بوقتِ وفات داخل ہو،جیسا کہ پنشن کی وہ رقم جو زندگی میں مل جائے، لیو انکیشمنٹ،گریجویٹی فنڈ اور جی پی فنڈ وغیرہ وہ ترکہ میں شمار ہوگا، اس میں وراثت جاری ہوگی۔
(2) جو مال میت کی ملکیت میں بوقتِ وفات داخل نہ ہو بلکہ اس کی وفات کے بعد حکومت یا متعلقہ ادارے کی طرف سے اس کے ورثاء میں سے کسی کے نام پرجاری کیا جائے،جیسا کہ پنشن کی وہ رقم جو انتقال کے بعد ملے،بینوولنٹ فنڈ ،فنانس اسسٹنٹ فنڈ وغیرہ تو وہ ترکہ شمار نہ ہوگا،بلکہ جس کے نام پر جاری ہوگا،اسی کی ملکیت قرار پائے گا۔
دلائل و جزئیات:
وراثت کے متعلق الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے: "الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي".ترجمہ:وراثت لغت میں ایک شخص کا دوسرے شخص کی موت کے بعد اس طور پر زندہ باقی رہنا کہ میت جو مال چھوڑ گیا ہے زندہ شخص اسے لے لے اور ازروئے فقہ وراثت وہ مال و حقوق ہیں جو میت چھوڑ گیا ،جن کے حقدار اسکی موت کے بعد شرعی وارث ہونگے۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ، الباب السادس المیراث،10/7697،دار الفکر)
اسی طرح رد المحتار میں ہے: "لِأَنَّ تَرَكَهُ الْمَيِّتُ مِنْ الْأَمْوَالِ صَافِيًا عَنْ تَعَلُّقِ حَقِّ الْغَيْرِ بِعَيْنٍ مِنْ الْأَمْوَالِ".ترجمہ:(اس مال کو میت کا ترکہ کہنے کی وجہ) کیونکہ اسے میت چھوڑتا ہے اس طور پر کہ وہ ترکہ اموال میں کسی عین کے ساتھ غیر کے حق کے تعلق سے خالی ہوتا ہے۔(رد المحتار،کتاب ا لفرائض،6/759،دار الفکر)
عطیہ و انعام جسےہبہ بھی کہا جاتا ہے اس کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے: "أَمَّا أَصْلُ الْحُكْمِ فَهُوَ ثُبُوتُ الْمِلْكِ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ فِي الْمَوْهُوبِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ لِأَنَّ الْهِبَةَ تَمْلِيكُ الْعَيْنِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ فَكَانَ حُكْمُهَا مِلْكَ الْمَوْهُوبِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ".ترجمہ: عطیہ کا اصل حکم یہ ہے کہ اس میں بغیر کسی عوض کے موہوب لہ(جسے عطیہ دیا گیا) کیلئے ملکیت کاثبوت ہوتاہے کیونکہ عطیہ نام ہے بغیر عوض کے کسی عین شئ کا مالک بنانا لہذا اسکا حکم یہ ہوگا کہ موہوب لہ عطیہ کا بغیر عوض کے مالک ہوجائے گا۔ (بدائع الصنائع،فصل فی حکم الہبۃ،6/127،دار الکتب العلمیۃ)
اور الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "لَا يَثْبُتَ الْمِلْكُ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ قَبْلَ الْقَبْضِ".ترجمہ:موہوب لہ کی ملکیت سوائے قبضہ کے ثابت نہیں ہوگی۔ (الفتاوی الہندیۃ،کتاب الہبۃ،4/374،دار الفکر)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 ذو القعدہ1444 ھ/25 مئی 2023ء