bimar shakhs par hajj hai ya nahin
سوال
مجھے مختلف طرح کی میجر بیماریاں ہیں جس وجہ سے میں حج پر نہیں جا سکتا لیکن الحمد للہ میں صاحب ثروت ہوں تو کیا مجھ پر حج فرض ہے یا نہیں میرے لیے کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرمائیں!
سائل:محمد وسیم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر یہ بیماریاں صاحبِ استطاعت ہونے کے بعد لاحق ہوئیں تب تو بالاتفاق حج ِ بدل کروانا ہو گا اور اگر یہ بیماریاں صاحب ِاستطاعت ہونے سے پہلے کی تھیں تو بھی محتاط قول کے مطابق حجِ بدل کروانا ہو گا اور اگر زندگی میں حج بدل نہ کروا سکے تو پھر حج کی وصیت کر نا ہو گی ۔
تفصیلی حکم :
ایسی بیماری جو سفر حج سے مانع ہو اس کی موجودگی میں خود حج پر جانا تو بالاتفاق فرض نہیں البتہ حج بدل کروانا یا حج کی وصیت کرنے کے حوالے سے تفصیل ہے :
امام اعظم رضی اللہ عنہ کےنزدیک تندرست ہونا وجوب کی شرائط میں سے ہے لہذا اگر ایسی بیماری جو مانع سفر ہو اس کی وجہ سے اصلاً حج فرض نہیں ہو گا یعنی نہ خود حج پر جانا فرض ہے نہ حج بدل کروانا نہ حج کی وصیت کرنا جبکہ صاحبین کےنزدیک بدن کی سلامتی کا تعلق ادا کی شرائط میں سے وجوب کی شرائط میں سے نہیں لھذا بیماری کی موجودگی میں بھی حج کا وجوب ثابت ہو جائے گاتاہم خود حج پر جانا اس پر فرض نہیں ہو گا ۔
مذکورہ دونوں قول راجح مرجح اور تصحیح شدہ ہیں،دونوں مؤقفوں کو اختیار کرنے والے بڑے بڑے فقہائے کرام ہیں مثلاً امام اعظم کی ظاہر الروایہ کو نہایہ ، البحر العمیق ،ہندیہ ،بہار شریعت وغیرہا میں اختیار کیا گیا ہے جبکہ صاحبین کی روایت جو کہ امام حسن بن زیاد سے مروی امام اعظم کی بھی روایت ہے کو تحفۃ الفقہاء ،بدائع الصنائع ،لباب المناسک اس کی شرح مناسک ملا علی قاری یہاں تک کہ قاضی خان علیہ الرحمہ نےالجامع الصغیر کی شرح میں اسی کی ترجیح و تصحیح فرمائی ،محقق علی الاطلاق ابن ہمام نے اسی کوقوی قرار دیانیز یہ روایت احتیاط ، تقوی اور ورع کے بھی زیادہ قریب ہے جو کہ عبادات میں مقصود ہے ۔جب دو قولوں کی تصحیح وترجیح موجودہو تو مفتی کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو دونوں میں تطبیق کی کوشش کرے ،اگر تطبیق ناممکن ہو تو حالات وواقعات دیکھتے ہوئے کسی ایک قول کو اختیار کر سکتا ہے ۔چناچہ مجتھد فی المسائل امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے اپنا فتاوی میں دو مقامات پر دونوں روایتوں کو اپنی فقیہانہ صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے معمول بہا بنایا ہے ۔
لباب المناسک مع شرح مناسک میں ہے: (الأول) منها ) أي من شرائط الأداء (سلامة البدن عن الأمراض والعلل، فقيل الصحيح إنه) أي هذا الشرط الأول من النوع الثاني، وهو سلامة البدن (من النوع الأول) وهو شرط الوجوب فحسب على ما قاله في النهاية وقبال في البحر هو المذهب الصحيح .( وقيل : الصحيح أنه من الثاني) أي من النوع الثاني، وهو شرط الأداء على ما صححه قاضيخان في شرح الجامع واختاره كثير من المشايخ، ومنهم ابن الهمام، (فعلى الأول) وهو القول بأنه شرط الوجوب (لا يجب أي الحج ولا الإحجاج، ولا الإيصاء به على الأعمى والمقعد) بصيغة المجهول، أي الذي ألزم القعود، ولم يقدر على القيام، (والمفلوج) وهو الذي لم يقدر على الحركة بجميع بدنه أو ببعضه، والزمن) بفتح فكسر أي صاحب المرض المزمن " الذي لا يرجى برؤه.( ومقطوع الرجلين) والظاهر أن مقطوع الرجل الواحدة ومقطوع اليدين كذلك لظهور الحرج عليهما إن وقع التكليف للحج بأنفسهما، ثم رأيت الكرماني نص على مقطوع اليدين أيضا، فمقطوع الرجل الواحدة بالأولى.(والمريض) أي حال مرضه، والمعضوب) أي الضعيف على ما في القاموس، والمراد به هنا الشيخ الكبير الذي لا يثبت على الراحلة، ولا يقدر على الإستمساك والثبوت عليها إلا بمشقة وكلفة عظيمة، ولو كان لهم مال .وقوله في الكبير سواء كان لهم مال أم لا ، لا وجه له " أصلا، قال ابن الهمام : ففي المشهور عن أبي حنيفة أنه لا يلزمهم الحج، قال في البحر وهذا عند أبي حنيفة في ظاهر الرواية، وهو رواية عنهما، وقالا في ظاهر روايتهما : وهو رواية الحسن عن أبي حنيفة إنه يجب على هؤلاء إذا ملكوا الزاد والراحلة ومؤنة من يرفعهم ويضعهم ويقودهم إلى المناسك، وهذا معنى قول المصنف : (وعلى الثاني يجب أي وعلى القول بأنه من شرائط الأداء يجب الحج والإحجاج أو الإيصاء.(ثم قيل) أي على هذه الرواية المعبر عنها بالقول الثاني (يجب عليهم بأنفسهم) وفيه نظر ظاهر ، إذ لا يخلو عن حرج باهر ، وقيل في أموالهم) أي يجب في أموالهم بالإحجاج في الحال، والإيصاء في المال، وهو المختار عند جماعة) وهو رواية الأصل عن أبي حنيفة على ما في البدائع من أن الأعمى لاحج عليه بنفسه، وإن وجد زادا وراحلة وقائدا، وإنما يجب في ماله إذا كان له مال، وروى الحسن عن أبي حنيفة أنه يجب عليه أن يحج بنفسه ، قال ابن الهمام: وهو خلاف ما ذكره غيره عن أبي حنيفة وفي الذخيرة والأعمى إذا وجد زادا وراحلة، ولم يجد من يقوده، لا يلزمه الأداء بنفسه، وهل يلزم الإحجاج بالمال؟ فهو على الخلاف بين أبي حنيفة وصاحبيه، كذا ذكره شيخ الإسلام، وقال الكرماني : الأعمى إن وجد قائدا، والزمن، والمقعد إن وجدا حاملا، يجب الحج على هؤلاء عند أبي حنيفة في أموالهم دون أبدانهم إن كان لهم مال، انتهى، فاختار رواية الوجوب عليهم في أموالهم، وهو قولهما ورواية الحسن عن أبي حنيفة، قال ابن الهمام: إنها الأوجه، وهو اختيار صاحب تحفة الفقهاء وصاحب البدائع انتهى .
فتبين أن للحسن روايتين) إحداهما هذه، وهي أنه يجب على هؤلاء الإحجاج والأخرى أنه يجب الحج عليهم بأنفسهم، وهي رواية شاذة على ما أشار إليه ابن الهمام، والله أعلم بحقيقة المرام .(والخلاف) أي المذكور فيمن وجد الاستطاعة وهو معذور) أي بالنوع المذكور ، (أما إن وجدها وهو صحيح) أي سالم ( ثم طرأ عليه العذر فالاتفاق أي اتفاق الروايات أو اتفاق العلماء ( على الوجوب) أي وجوب الحج (عليه) أي في ماله، فيجب عليه الإحجاج) أي في الحال، أو الإيصاء في المال
ترجمہ:شرائطِ اداء پانچ ہیں:پہلی شرط: بدن کا بیماریوں اور عوارض سے سلامت ہونا۔پس کہا گیا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ شرط (یعنی بدن کی سلامتی) پہلی قسم (شرائطِ وجوب) میں سے ہے، جیسا کہ “نہایہ” میں ہے، اور “بحر” میں کہا کہ یہی مذہبِ صحیح ہے۔اور یہ بھی کہا گیا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ دوسری قسم (شرائطِ اداء) میں سے ہے، جیسا کہ قاضی خان نے “شرح الجامع” میں صحیح قرار دیا، اور بہت سے مشائخ نے اسے اختیار کیا، جن میں ابن ہمام بھی شامل ہیں۔پس پہلے قول کی بنا پر (کہ یہ شرطِ وجوب ہے) اندھے، اپاہج (جو بیٹھنے پر مجبور ہو گیا ہو اور کھڑا نہ ہو سکتا ہو)، مفلوج (جس کا سارا یا کچھ بدن حرکت سے عاجز ہو)اور زَمن” (یعنی دائمی بیماری والا جس کے ٹھیک ہونے کی امید نہ ہو)، اور دونوں ٹانگوں سے کٹا ہوا شخص ان سب پر نہ حج واجب ہے، نہ کسی کو حج کرانا، اور نہ اس کی وصیت کرنا۔اور ظاہر یہ ہے کہ ایک ٹانگ کٹا ہوا یا دونوں ہاتھوں سے کٹا ہوا بھی اسی حکم میں ہے، کیونکہ ان پر خود حج کا مکلف بنانا شدید مشقت کا باعث ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ کرمانی نے دونوں ہاتھوں سے کٹے ہوئے کو بھی صراحتاً ذکر کیا ہے، تو ایک ٹانگ والا تو بدرجہ اولیٰ شامل ہوگا۔اور مریض (اپنی بیماری کی حالت میں) اور “معضوب” بھی اسی میں داخل ہیں۔ “معضوب” سے مراد وہ بوڑھا ہے جو سواری پر ٹھہر نہیں سکتا اور نہ ہی بغیر سخت مشقت کے اس پر قائم رہ سکتا ہو، اگرچہ ان کے پاس مال موجود ہو۔مصنف کا یہ کہنا کہ “خواہ ان کے پاس مال ہو یا نہ ہو” اس کا کوئی خاص محل نہیں۔
ابن ہمام نے کہا کہ امام ابو حنیفہ سے مشہور روایت کے مطابق ان پر حج لازم نہیں۔ اور “بحر” میں ہے کہ یہ امام ابو حنیفہ کی ظاہر الروایہ ہے، اور یہی روایت صاحبین سے بھی منقول ہے۔اور دونوں (امام ابو یوسف اور امام محمد) کی ظاہر روایت میں کے مطابق اور امام حسن بن زیاد کی امام ابو حنیفہ سے ایک روایت کے مطابق :اگر ان لوگوں کے پاس زاد و راحلہ اور ان کی خدمت کے لیے آدمی کا خرچ ہو، تو ان پر حج لازم ہوگا۔اور یہی معنی ہے مصنف کے اس قول کا کہ:اور دوسرے قول کے مطابق (یعنی یہ شرطِ اداء ہے) تو حج لازم ہوگا، یعنی خود حج کرنا یا کسی کو بھیجنا یا وصیت کرنا۔پھر کہا گیا کہ اس قول کے مطابق ان پر خود حج کرنا لازم ہے، لیکن اس میں ظاہر اشکال ہے کیونکہ اس میں شدید حرج ہے۔اور یہ بھی کہا گیا کہ ان کے مال میں لازم ہے، یعنی ان کے مال سے کسی کو حج کرایا جائے یا وصیت کی جائے، اور یہی قول ایک جماعت کے نزدیک مختار ہے۔اور یہی امام ابو حنیفہ سے “اصل” کی روایت ہے جیسا کہ “بدائع” میں ہے کہ نابینا پر خود حج لازم نہیں، اگرچہ زاد و راحلہ اور قائد موجود ہو، بلکہ اگر اس کے پاس مال ہو تو اس کے مال میں حج لازم ہوگا۔اور حسن نے امام ابو حنیفہ سے روایت کیا ہے کہ اس پر خود حج لازم ہے، لیکن ابن ہمام نے کہا کہ یہ روایت دوسری منقولات کے خلاف ہے۔اور “ذخیرہ” میں ہے کہ نابینا اگر زاد و راحلہ پائے لیکن رہنما نہ ہو تو اس پر خود حج لازم نہیں، اور کیا اس پر مال سے حج کرانا لازم ہے؟ اس میں امام ابو حنیفہ اور صاحبین کے درمیان اختلاف ہے۔اور کرمانی نے کہا کہ نابینا اگر رہنما پائے، اور “زَمن” اور “مقعد” اگر اٹھانے والا پائیں، تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک ان پر حج لازم ہوگا، مگر ان کے جسموں پر نہیں بلکہ ان کے مال میں، اگر ان کے پاس مال ہو۔پس انہوں نے اس روایت کو اختیار کیا کہ ان پر مال کے ذریعے حج لازم ہے، اور یہی صاحبین کا قول اور حسن کی روایت ہے امام ابو حنیفہ سے۔اور ابن ہمام نے کہا کہ یہی زیادہ قوی ہے، اور یہی “تحفۃ الفقہاء” اور “بدائع” کے مصنف کا اختیار ہے۔پس معلوم ہوا کہ حسن سے دو روایتیں ہیں:ایک یہ کہ ان پر مال سے حج لازم ہےدوسری یہ کہ خود حج لازم ہے، اور یہ شاذ روایت ہےاور اللہ ہی حقیقتِ حال کو بہتر جانتا ہے۔(المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط ،صفحہ 52تا 53،مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ )
رد المحتار میں ہے : (قَوْلُهُ صَحِيحِ الْبَدَنِ) أَيْ سَالِمٍ عَنْ الْآفَاتِ الْمَانِعَةِ عَنْ الْقِيَامِ بِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ فِي السَّفَرِ، فَلَا يَجِبُ عَلَى مُقْعَدٍ وَمَفْلُوجٍ وَشَيْخٍ كَبِيرٍ لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ بِنَفْسِهِ وَأَعْمَى، وَإِنْ وَجَدَ قَائِدًا، وَمَحْبُوسٍ، وَخَائِفٍ مِنْ سُلْطَانٍ لَا بِأَنْفُسِهِمْ، وَلَا بِالنِّيَابَةِ فِي ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ عَنْ الْإِمَامِ وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْهُمَا وَظَاهِرُ الرِّوَايَةِ عَنْهُمَا وُجُوبُ الْإِحْجَاجِ عَلَيْهِمْ، وَيُجْزِيهِمْ إنْ دَامَ الْعَجْزُ وَإِنْ زَالَ أَعَادُوا بِأَنْفُسِهِمْ.
وَالْحَاصِلُ: أَنَّهُ مِنْ شَرَائِطِ الْوُجُوبِ عِنْدَهُ وَمِنْ شَرَائِطِ وُجُوبِ الْأَدَاءِ عِنْدَ هُمَا وَثَمَرَةُ الْخِلَافِ تَظْهَرُ فِي وُجُوبِ الْإِحْجَاجِ وَالْإِيصَاءِ كَمَا ذَكَرْنَا وَهُوَ مُقَيَّدٌ بِمَا إذَا لَمْ يَقْدِرْ عَلَى الْحَجِّ وَهُوَ صَحِيحٌ فَإِنْ قَدَرَ ثُمَّ عَجَزَ قَبْلَ الْخُرُوجِ إلَى الْحَجِّ تَقَرَّرَ دَيْنًا فِي ذِمَّتِهِ، فَيَلْزَمُهُ الْإِحْجَاجُ، فَلَوْ خَرَجَ وَمَاتَ فِي الطَّرِيقِ لَمْ يَجِبْ الْإِيصَاءُ لِأَنَّهُ لَمْ يُؤَخِّرْ بَعْدَ الْإِيجَابِ وَلَوْ تَكَلَّفُوا الْحَجَّ بِأَنْفُسِهِمْ سَقَطَ عَنْهُمْ وَظَاهِرُ التُّحْفَةِ اخْتِيَارُ قَوْلِهِمَا وَكَذَا الْإِسْبِيجَابِيُّ وَقَوَّاهُ فِي الْفَتْحِ وَمَشَى عَلَى أَنَّ الصِّحَّةَ مِنْ شَرَائِطِ وُجُوبِ الْأَدَاءِ اهـ مِنْ الْبَحْرِ وَالنَّهْرِ، وَحَكَى فِي اللُّبَابِ اخْتِلَافَ التَّصْحِيحِ وَفِي شَرْحِهِ أَنَّهُ مَشَى عَلَى الْأَوَّلِ فِي النِّهَايَةِ وَقَالَ فِي الْبَحْرِ الْعَمِيقِ إنَّهُ الْمَذْهَبُ الصَّحِيحُ وَأَنَّ الثَّانِيَ صَحَّحَهُ قَاضِي خَانْ فِي شَرْحِ الْجَامِعِ وَاخْتَارَهُ كَثِيرٌ مِنْ الْمَشَايِخِ وَمِنْهُمْ ابْنُ الْهُمَامِ ۔
ترجمہ:(قوله: صحیح البدن) یعنی ایسا شخص جو ان آفات (بیماریوں اور عذر) سے سلامت ہو جو سفر میں ضروری امور انجام دینے سے مانع ہوں۔ لہٰذا حج اس شخص پر لازم نہیں جو اپاہج ہو، فالج زدہ ہو، یا ایسا بوڑھا ہو جو خود سواری پر برقرار نہ رہ سکتا ہو، اور نہ ہی نابینا پر—اگرچہ اسے کوئی رہنمائی کرنے والا مل جائے—اور نہ قیدی پر، اور نہ اس شخص پر جو حاکم کے خوف میں مبتلا ہو۔ ان سب پر نہ بذاتِ خود حج لازم ہے اور نہ ہی نائب کے ذریعے (یعنی کسی کو بھیج کر)، ظاہرِ مذہب کے مطابق امام ابو حنیفہؒ سے یہی منقول ہے، اور یہی دونوں صاحبین سے بھی ایک روایت ہے۔اور ظاہر روایت کے مطابق (امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک) ان پر کسی کو حج کے لیے بھیجنا (الإحجاج) واجب ہے، اور اگر عذر دائمی رہے تو یہ ان کے لیے کافی ہو جائے گا، لیکن اگر عذر ختم ہو جائے تو پھر خود حج ادا کرنا لازم ہوگا۔
خلاصہ:امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک صحت، وجوبِ حج کی شرط ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک وجوبِ اداء کی شرط ہے۔ اس اختلاف کا اثر اس بات میں ظاہر ہوتا ہے کہ آیا ایسے شخص پر کسی کو حج کے لیے بھیجنا (الإحجاج) اور وصیت کرنا واجب ہے یا نہیں، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔یہ حکم اس صورت کے ساتھ مقید ہے جب وہ شخص حالتِ صحت میں حج پر قادر نہ ہو۔ لیکن اگر وہ صحت کی حالت میں قادر تھا، پھر حج کے لیے نکلنے سے پہلے عاجز ہو گیا، تو حج اس کے ذمہ قرض بن جائے گا، لہٰذا اس پر لازم ہوگا کہ کسی کو اپنی طرف سے حج کے لیے بھیجے۔پس اگر وہ خود سفرِ حج پر نکلا اور راستے میں وفات پا گیا تو اس پر وصیت لازم نہ ہوگی، کیونکہ اس نے وجوب کے بعد تاخیر نہیں کی۔ اور اگر یہ لوگ (یعنی معذور افراد) خود تکلف کر کے حج ادا کر لیں تو ان سے فرض ساقط ہو جائے گا۔اور تحفہ کی ظاہر عبارت میں صاحبین کے قول کو اختیار کیا گیا ہے، اسی طرح الإسبیجابی نے بھی، اور فتح القدیر میں اسے قوی قرار دیا گیا ہے، اور اسی پر عمل کیا گیا ہے کہ صحت، وجوبِ اداء کی شرط ہے (بحر و نہر سے ماخوذ)۔اور اللباب میں تصحیح کے اختلاف کو نقل کیا گیا ہے، اور اس کی شرح میں ذکر ہے کہ النہایہ میں پہلے قول کو اختیار کیا گیا ہے، جبکہ البحر العمیق میں کہا گیا کہ یہی صحیح مذہب ہے، اور دوسرے قول کو قاضی خان نے شرح الجامع میں صحیح قرار دیا ہے اور بہت سے مشائخ نے اسے اختیار کیا ہے، جن میں ابن الہمام بھی شامل ہیں۔
(ردالمحتار ، کتاب الحج ،جلد2،صفحہ 459 ط حلبی)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :
صورت مستفسرہ میں زید پر حج اصلاً واجب نہیں۔ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب مصحح ظاہر الروایۃ میں تو ایسی تندرستی جو اس سفر مبارک کے قابل ہو شرط وجوب ہے کہ بغیر اس پر حج سرے سے واجب ہی نہ ہوتا، نہ خود جاتا نہ دوسرے کو بھیجتا، اور صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ کے مذہب مصحح میں اگرچہ تندرستی مذکور شرط وجوب نہیں، شرط وجوب ادا ہے کہ وہ نہ ہو تو خود جانا لازم نہیں مگر اپنے عوض اپنے روپے سے اپنی حیات میں یا بعد موت حج کرانا واجب ہے مگر مال جملہ حاجات سے فاضل ،جانے آنے کے قابل باتفاق فقہائے کرام شرط وجوب ہے کہ بے اس کے حج واجب ہی نہیں ہوتا، اور مکان حاجات اصلیہ سے ہے اس کی خریداری یا بنانے کے بعد اس زمانے میں کہ اب مصارف حج بہت قریب گزرے ہوئے زمانے سے تقریباً دو چند ہوگئے اتنا بچنا کہ اس سے حج کے لیے جانے آنے رہنے کے بھی تمام مصارف ہوں او رزید کے لیے اس حالت میں کہ نہ اور مال نہ کسب پر قدرت، کچھ ذریعہ معاش بچ بھی رہے معقول نہیں لہذا بالاتفاق ورنہ علی التنزیل صاحب مذہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب صحیح مرجح پر تو بلا شبہہ زید پر حج کرانا بھی نہیں اور خود حج کو جانا تو بالا جماع اصلا صورت وجوب نہیں رکھتا لا یکلف اﷲ نفسا الا وسعھا ترجمہ:اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔(فتاوی رضویہ جلد10،صفحہ 699،رضا فاؤنڈیشن لاہور )
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :
عذر اگر ایسا ہو کہ مانع سفر ہے مثلاً آنکھیں یا پاؤں نہیں اور اس عذر کے زوال کی کوئی امید نہیں تو اپنی طرف سے حج بدل کرادے، اور اگر عذر مانع سفر نہیں تو خود جائے، اور اگر مانع سفر ہے مثلاً زوال کی امید ہے جیسے تپِ شدید یا درد وغیرہ تو حج بدل نہیں کراسکتا بلکہ زوال کا انتظار کرے، جب شفاء ہوجائے خود جائے، اور اگر قبل شفا وقت آجائے تو حج بدل کی وصیت کرجائے، اگر اپنی طرف سے کوئی تقصیرنہ کی تھی یعنی جب سے حج فرض ہوا تھا نہ مانع سفر لاحق تھا اور قبل زوال وقت آگیا اس پر مواخذہ نہ ہوگا، اورا گر ایک سال بھی ایسا گزرگیا تھا کہ جاسکتا تھا اور نہ گیا تو گنہ گار ہوا، استغفار واجب ہے۔ اور حج بدل کرانا فرض ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ جلد10 جلد709،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ اعلم بالصواب