wirasat ka masla teen behne nau bhai
سوال
والد کا انتقال ہوا ہے ورثاء میں تین بہنیں اور 9 بھائی ہیں۔شریعت کے اعتبار سے ان میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی ۔ وراثت کی رقم 2کروڑ 40 لاکھ روپے ہے ، شرعی اعتبار سے ہر ایک کے حصے میں کتنے روپے آئیں گے؟
سائل: کامران چشتی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ واقعتا ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہوا اور انکے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے ، تو شریعت کے مطابق کل وراثت کے 21 حصے کیئے جائیں گے جس میں سے ہربھائی کو دو،دو حصے اور ہر بہن کو ایک ،ایک حصہ ملے گا ۔ قال اﷲ تعالیٰ للذکر مثل حظ لانثیین(النساء : 11) ترجمہ : مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے۔
سراجی فی المیراث ص25پر ہے
ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وھو یعصبہن:ترجمہ: اور بیٹے کے ہوتے ہوئے بیٹی کو للذکر مثل حظ لانثیین( یعنی مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے) کے تحت حصہ ملے گا،یعنی بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔وہ انکو عصبہ بنادے گا۔
نوٹ: رقم کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل رقم 2کروڑ 40 لاکھ میں سے ہر بیٹے کو 22,85,714.2 روپے اور ہر بیٹی کو ہر بیٹےکے حصے کا نصف یعنی 11,42,857.1 روپے ملیں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26ذوالقعدہ 1439 ھ/08اگست 2018 ء