Imam sahib ko izaafi chhuttiyon ke paise dena kaisa
سوال
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام صاحب کا ماہانہ اجارہ (Monthly contract) ہے روزانہ پانچ نمازیں پڑھانے کا اور طے شدہ مخصوص چھٹیاں ہیں۔ لیکن اس سے ہٹ کر امام صاحب کا بغیر بتائے مختلف نمازوں میں غائب رہنا شرعاً کیسا ہے؟ اور اس کے باوجود اگر کمیٹی ان کو مکمل تنخواہ دیتی ہے تو کیا وہ کمیٹی والے بھی گنہگار ہوں گے؟ اور اگر سابقہ کئی سالوں سے اسی انداز میں وہ تنخواہ دیتے آ رہے ہیں تو کیا اس صورت میں ان پر تاوان (Compensation) کی کوئی صورت بنے گی؟ سائل: اختر رضا نظامی، رحیم یار خان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاباللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
1:۔امام صاحب کو چاہیے کہ ماہانہ طے شدہ چھٹیوں کے علاوہ جب کوئی ضروری چھٹی کریں تو انتطامیہ کو پہلے اطلاع کردیں تاکہ وہ امام صاحب سے متعلقہ مسجد کے معاملات جیسے امامت وغیرہا کا کوئی بندو بست کر سکیں !البتہ اگر کوئی انتہائی ایمرجنسی پیش آجائے کہ جس کی وجہ سےاطلاع دینا مشکل ہو جائے توایسے میں اطلاع نہ کرنے میں مسئلہ نہیں ۔اور اگراما م صاحب کی عادت ہے کہ وہ دانستہ طور پر نہیں بتاتے تو یہ اخلاقی طور پر درست نہیں لیکن اسسے معاذ اللہ! وہ فاسق و فاجر نہیں بن جائیں گے۔
2:۔اگریہ اضافی اجارہ کمیٹی اپنے پاس سے دیتی ہے ،مسجد چندے کےعلاوہ کسی اور صوابدیدی فنڈ سے دیتی ہےیاپھر چند لوگ مل کر سیلری دیتے ہیں اور دینے والوں کو کوئی اعتراض نہیں تو ان سب صورتوں میں اضافی اجارہ دینا جائز ہے ۔
البتہ اگر امام صاحب کو اجارہ مسجد چندہ سے دیا جاتا ہے اور جس جگہ کے حوالے سے سوال ہے وہاں کے عرف میں امام کی خدمت بطور وظیفہ نہیں بلکہ بطور عوض (اجارہ) ہے تو اب ضرور مسئلہ ہے ایسی صورت میں کمیٹی کا اضافی اجارہ دینا اور امام صاحب کا لینا جائز نہیں۔اس لحاظ سے جتنے بھی پیسے کمیٹی نے اضافی دیے ،امام صاحب اتنی رقم واپس کریں اور کمیٹی پر لازم ہے کہ اتنی رقم واپس لیں ورنہ اپنے پاس سے دیں!
ضروری تنبیہات :
امام صاحب کی چھٹیوں کے حوالے سے گزارش ہے کہ جس طرح عام لوگوں کو مہینے میں تین سے چار چھٹیاں ملتی ہیں ،بیماری کی چھٹیاں ملتی ہیں ، سالانہ چھٹیاں ملتی ہیں ، اسی طرح امام صاحبان کے لیے بھی چھٹیوں کا کوئی منظم نظام ہونا چاہیے ،آخر وہ بھی اسی معاشرے کےافراد ہیں،ان کی ذہنی و جسمانی ساخت ،ہم جیسی ہی ہے، خوشی غمی ان کے ہاں بھی ہوتی ہے،وہ بھی بیمار ہوتے ہیں ،رشتہ داروں کے ہاں آنے جانے کا ان کے ہاں بھی رواج ہے۔اس استحصال کا نتیجہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے باشعور لوگ اس منصب سے دور ہو چکے ہیں اور یہی سلسلہ جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ ہمارا محراب و منبر ، ان پڑھ بے ہنر لوگوں کے ہاتھوں میں ہو گا۔
دلائل و جزئیات:
متقدمین احناف کے ہاں طاعات(عبادات ) پر اجارہ جائز نہیں تھا سو اس وقت رواج یہ تھا کہ ائمہ ،مؤذنین اور مدرسین کو وظائف دیے جاتے تھے اسی لیے متقدمین فقہائے کرام نے اس حوالے سے فقہی احکام کی بنیاد وظائف پر رکھی پھر مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ ضرورت کے پیشِ نظر طاعت پر اجارے کو جائز قرار دیا گیا توائمہ ،مؤذنین اور مدرسین کے فقہی احکامات اجارے پر مرتب فرمائے گئے چناچہ بعض متاخرین فقہائے کرام نے اس فرق کوملحوظ نہیں رکھا ،انھوں نے وظائف پر مبنی احکامات کو اجارے کے احکام کے تحت ذکر کر دیا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے طاعت پر اجارے کو قبول نہیںکیا یا ان کے عرف میں صلہ میں وظائف ہی دیے جاتے ہوں گے ،سو ہم اگر اس فرق کو مد نظر نہیں رکھیں گے تو احکامات خلط ملط ہو جائیں گے ۔سو جہاں آج بھی عرف وظائف پر ہے جیسا بعض گاوں دیہاتوں میں تو وہاں حکم وظائف کے اعتبار سے اور جہاں عرف اجارہ پر مبنی ہے وہاں حکم اجارہ پر مبنی ہو گا۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے : سئل فی رجل بیدہ وظیفۃ امامۃ علی مسجد اوقات الصلاة الخمس فِي كل يوم بعثمانی وقد تناول جمیع المعلوم من قیم الوقف والحال انہ قد کان ام فی بعض الاوقات دون بعض فھل لایستحق المعلوم الابمقدار ماباشر والباقی یرجع علیہ بہ ویکون موفرا لجھۃ الوقف ام كيف الحال؟
اجاب الذی تحصل من کلام البحر ان مقتضی کلام الخصاف انہ لایستحق الابمقدار ماباشر، وبہ صرح ابن وھبان فی المسافر للحج اوصلۃ الرحم حیث قال لاینعزل ولایستحق المعلوم مدۃ سفرہ مع انھما فرضان عليه وان مقتضى كلام صاحب القنية صاحب القنية وهو امام يترك الامامة لزيارة اقربائه في الرساتيق اسبوعا أو نحوه أو لمصيبة أولاستراحة لا بأس به ومثله عفو فى العادة والشرع انه يستحق اذا كان كذلك للعرف وأنت على علم ان كلام الخصاف لا يصادمه كلام صاحب القنية وقد نص في أنفع الوسائل إن مقتضى كلام الخصاف هو الفقه أقول ويؤيده ايضا نصهم على جواز الاجارة في هذه الطاعات فكان شبه الاجارة قويا فيها والله اعلم
ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کے پاس پانچ نمازوں کے اوقات میں مسجد کی امامت کا منصب ہےیومیہ ایک روپیہ عثمانی کے عوض ، اور وہ وقف کے متولی سے پورا وظیفہ وصول کرتا رہا ہے، حالانکہ وہ بعض نمازوں کی امامت کرتا تھا اور بعض کی نہیں۔تو کیا وہ صرف انہی نمازوں کے بقدر وظیفہ کا مستحق ہوگا جن کی اس نے امامت کی، اور باقی رقم اس سے واپس لی جائے گی تاکہ وہ وقف کے حق میں محفوظ رہے؟ یا کچھ اور حکم ہے؟
جواب:البحر الرائق کی عبارت ما حصل یہ ہے کہ: خصاف کے کلام کا تقاضا یہی ہے کہ امام صرف اسی مقدارِ وظیفہ کا مستحق ہوگا جس قدر اس نے خود امامت کی ہے۔اسی بات کی صراحت ابن وہبان نے اس شخص کے بارے میں کی ہے جو حج یا صلہ رحمی کے لیے سفر پر جائے۔ وہ فرماتے ہیں کہ:"وہ اپنے منصب سے معزول نہیں ہوگا، لیکن سفر کی مدت کا وظیفہ بھی اس کا حق نہیں ہوگا۔"حالانکہ حج اور صلہ رحمی دونوں اس پر فرض ہیں۔دوسری طرف صاحبِ قنیہ کے کلام کا تقاضا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر امام اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے دیہات میں ایک ہفتہ یا اس کے قریب چلا جائے، یا کسی مصیبت یا آرام کی غرض سے کچھ دن امامت چھوڑ دے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور عرف و شریعت دونوں کے اعتبار سے اتنی مدت معاف ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں وہ اپنے وظیفہ کا مستحق رہے گا، کیونکہ عرف اس کی تائید کرتا ہے۔اور آپ جانتے ہیں کہ خصاف کا کلام صاحبِ قنیہ کے کلام سے متعارض نہیں ہے۔تحقیق أنفع الوسائل میں صراحت ہے کہ خصاف کے کلام کا مقتضا ہی فقہی اعتبار سے راجح ہے۔میں کہتا ہوں کہ اس موقف کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ فقہاء نے ان عبادات پر اجارہ کو جائز قرار دیا ہے، سو اعتبار سے اجارہ سے مشابہت کافی مضبوط ہے ۔واللہ اعلم ۔(فتاوی خیریہ ، کتاب الوقف ،جلد 01 صفحہ 118 دارالمعرفۃ بیروت)
علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ ابن شحنہ کے ملازمین وقف کی چھتیوں کے حوالے سے منظوم حکم کی شرح میں لکھتے ہیں : أَقُولُ: حَاصِلُ مَا فِي شَرْحِهِ تَبَعًا لِلْبَزَّازِيَّةِ أَنَّهُ إذَا غَابَ عَنْ الْمَدْرَسَةِ فَإِمَّا أَنْ يَخْرُجَ مِنْ الْمِصْرِ أَوْ لَا فَإِنْ خَرَجَ مَسِيرَةَ سَفَرٍ ثُمَّ رَجَعَ لَيْسَ لَهُ طَلَبُ مَا مَضَى مِنْ مَعْلُومِهِ بَلْ يَسْقُطُ، وَكَذَا لَوْ سَافَرَ لِحَجٍّ وَنَحْوِهِ وَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ لِسَفَرٍ بِأَنْ خَرَجَ إلَى الرُّسْتَاقِ فَإِنْ أَقَامَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فَأَكْثَرَ فَإِنْ بِلَا عُذْرٍ كَالْخُرُوجِ لِلتَّنَزُّهِ فَكَذَلِكَ وَإِنْ لِعُذْرٍ كَطَلَبِ الْمَعَاشِ فَهُوَ عَفْوٌ إلَّا أَنْ تَزِيدَ غَيْبَتُهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ، فَلِغَيْرِهِ أَخْذُ حُجْرَتِهِ وَوَظِيفَتِهِ أَيْ مَعْلُومِهِ وَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ مِنْ الْمِصْرِ فَإِنْ اشْتَغَلَ بكتابة علم شرعي، فهو عفو وإلا جاز عزله أيضا واختلف، فيما إذا خرج للرستاق وأقام دون خمسة عشر يوما لغير عذر فقيل: يسقط، وقيل: لا هذا حاصل ما ذكره ابن الشحنة في شرحه.وملخصة: أنه لا يسقط معلومه الماضي، ولا يعزل في الآتي إذا كان في المصر مشتغلا بعلم شرعي أو خرج لغير سفر، وأقام دون خمسة عشر يوما بلا عذر على أحد القولين أو خمسة عشر فأكثر، لكن لعذر شرعي كطلب المعاش، ولم يزد على ثلاثة أشهر وأنه يسقط الماضي، ولا يعزل لو خرج مدة سفر ورجع أو سافر لحج ونحوه أو خرج للرستاق لغير عذر ما لم يزد على ثلاثة أشهر، وأنه يسقط الماضي ويعزل لو كان في المصر غير مشتغل بعلم شرعي أو خرج منه وأقام أكثر من ثلاثة أشهر، ولو لعذر قال الخير الرملي: وكل هذا إذا لم ينصب نائبا عنه وإلا فليس لغيره أخذ وظيفته. اهـ. ويأتي قريبا حكم النيابة، هذا وفي القنية من باب الإمامة إمام يترك الإمامة لزيارة أقربائه في الرساتيق أسبوعا أو نحوه أو لمصيبة أو لاستراحة لا بأس به ومثله عفو في العادة والشرع اهـ وهذا مبني على القول بأن خروجه أقل من خمسة عشر يوما بلا عذر شرعي، لا يسقط معلومه، وقد ذكر في الأشباه في قاعدة العادة محكمة عبارة القنية هذه وحملها على أنه يسامح أسبوعا في كل شهر، واعترضه بعض محشيه بأن قوله في كل شهر، ليس في عبارة القنية ما يدل عليه قلت: والأظهر ما في آخر شرح منية المصلي للحلبي أن الظاهر أن المراد في كل سنة.۔ترجمہ:میں کہتا ہوں کہ ابن الشحنہ نے اپنی شرح میں، البزازیہ کے حوالے سے، اس مسئلے کا خلاصہ یہ بیان کیا ہے کہ اگر مدرسہ کا کوئی مدرس غیر حاضر ہو جائے تو دو صورتیں ہیں:پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شہر سے اتنی دور چلا جائے جو شرعی سفر کے برابر ہو۔ پھر جب واپس آئے تو دورانِ غیر حاضری کی تنخواہ یا وظیفہ کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہوگا، بلکہ وہ ساقط ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر وہ حج یا اس جیسے کسی سفر کے لیے گیا ہو تو بھی یہی حکم ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ وہ شرعی سفر پر نہ گیا ہو، بلکہ شہر کے مضافاتی دیہات (رستاق) میں گیا ہو۔ اب اگر وہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کرے تو دیکھا جائے گا:اگر یہ قیام کسی عذر کے بغیر ہو، مثلاً صرف سیر و تفریح کے لیے گیا ہو، تو اس کا بھی وہی حکم ہے کہ سابقہ وظیفہ ساقط ہو جائے گا۔اور اگر کسی شرعی عذر کی بنا پر گیا ہو، جیسے روزگار کی تلاش کے لیے، تو یہ غیر حاضری معاف سمجھی جائے گی، البتہ اگر اس کی غیر حاضری تین ماہ سے زیادہ ہو جائے تو پھر دوسرا شخص اس کی رہائش گاہ (حجرہ) اور اس کا منصب یا وظیفہ سنبھال سکتا ہے۔اور اگر وہ شہر سے باہر نہ گیا ہو تو:اگر وہ کسی شرعی علم کی تصنیف یا تحریر میں مشغول ہو تو اس کی غیر حاضری معاف ہوگی۔لیکن اگر کسی دینی علمی کام میں مشغول نہ ہو تو اسے منصب سے معزول کرنا بھی جائز ہے۔البتہ اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے رستاق گیا اور پندرہ دن سے کم قیام کیا تو کیا اس کا وظیفہ ساقط ہوگا یا نہیں؟ بعض فقہاء کے نزدیک ساقط ہو جائے گا، جبکہ بعض کے نزدیک ساقط نہیں ہوگا۔ ابن الشحنہ نے اپنی شرح میں اسی قدر بیان کیا ہے۔اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ درج ذیل صورتوں میں نہ تو گزشتہ وظیفہ ساقط ہوگا اور نہ آئندہ منصب سے معزولی ہوگی:وہ شہر ہی میں رہ کر کسی دینی علمی کام میں مشغول ہو۔یا رستاق جائے لیکن شرعی سفر کی مقدار تک نہ جائے اور پندرہ دن سے کم قیام کرے، (ایک قول کے مطابق) اگرچہ بلا عذر ہو۔یا پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کرے، مگر کسی شرعی عذر مثلاً روزگار کی تلاش کی وجہ سے، بشرطیکہ اس کی غیر حاضری تین ماہ سے زیادہ نہ ہو۔اور درج ذیل صورتوں میں گزشتہ مدت کا وظیفہ ساقط ہوگا، لیکن معزول نہیں کیا جائے گا:وہ شرعی سفر کی مقدار تک سفر کرکے واپس آجائے۔یا حج یا اس جیسے کسی سفر پر گیا ہو۔یا بلا عذر رستاق گیا ہو، بشرطیکہ اس کی غیر حاضری تین ماہ سے زیادہ نہ ہو۔اور درج ذیل صورتوں میں نہ صرف گزشتہ وظیفہ ساقط ہوگا بلکہ اسے منصب سے بھی معزول کیا جا سکتا ہے:وہ شہر میں رہتے ہوئے کسی دینی علمی کام میں مشغول نہ ہو۔یا شہر سے باہر جا کر تین ماہ سے زیادہ قیام کرے، اگرچہ کسی عذر ہی کی وجہ سے کیوں نہ ہو۔علامہ خیر الدین رملی فرماتے ہیں کہ یہ تمام احکام اس وقت ہیں جب اس نے اپنی جگہ کسی نائب کو مقرر نہ کیا ہو، لیکن اگر نائب مقرر کر دیا ہو تو پھر کسی دوسرے کو اس کا منصب یا وظیفہ لینے کا حق نہیں۔ آگے نائب بنانے کا حکم بھی بیان ہوگا۔اسی سلسلے میں القنیہ میں باب الامامۃ کے تحت مذکور ہے کہ اگر امام اپنے رشتہ داروں کی ملاقات کے لیے دیہات میں ایک ہفتہ یا اس کے قریب ٹھہر جائے، یا کسی مصیبت یا آرام کی غرض سے کچھ دن کے لیے امامت چھوڑ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ عرف اور شریعت دونوں کے اعتبار سے اتنی مدت معاف سمجھی جاتی ہے۔یہ حکم اس قول پر مبنی ہے جس کے مطابق اگر رستاق میں پندرہ دن سے کم قیام ہو، اگرچہ کسی شرعی عذر کے بغیر ہو، تب بھی اس کا وظیفہ ساقط نہیں ہوتا۔علامہ ابن نجیم نے الأشباہ والنظائر میں قاعدہ "العادة محكمة" کے تحت القنیہ کی یہی عبارت نقل کی ہے اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ہر مہینے ایک ہفتہ تک کی غیر حاضری عرفاً قابلِ درگزر ہے۔ان کے بعض حاشیہ نگاروں نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ "ہر مہینے" کا ذکر خود القنیہ کی عبارت میں موجود نہیں۔میں کہتا ہوں کہ حلبی نے شرح منیة المصلي کے آخر میں جو بات لکھی ہے وہ زیادہ ظاہر معلوم ہوتی ہے، یعنی اس سے مراد ہر مہینے نہیں بلکہ ہر سال ایک ہفتے کی معافی ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار جلد 06،صفحہ:359 تا360،مکتبہ امدادیہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان اس کے تحت لکھتے ہیں : مُحصّل ضابطته هاهنا: أنّه إن خرج لسفَرٍ سقط المعلوم مطلقاً قلّت المدّة أو كثرت بَيْد أنّه إن سافر لفَرِيضة الحجّ أو صِلة الرَّحِم لا يستحقّ العَزْل وإلاّ عزل كما هو مفاد صريح ما في الشرح حيث حكم بالفرق بين السفر للحجّ والصِّلة ولغيرهما، وقد حكم في السَّفَر لهما بسقوط المعلوم فلا ينتهض فارقاً، إنّما الفارق أنّه لا يعزل إن سافر لهما، ويعزل إن لغيرهما، أمّا المحشّي فلم يفرّق وحكم بعدَم العزل في السَّفَر مطلقاً ولو لغير حجّ إذا رجع وليس فيما مرّ من تلخيصه لِما في "ابن الشِّحنة" ما ينصّ على هذا، فليحرّر، والله تعالى أعلم
ويؤيّد الشّارح ما يأتي حاشيةً: (أنّه إن بقي في المِصر غير مشتغلٍ بالعِلم عزل)، وليس أدون حالاً منه من سافر للهو ولعب مثلاً ويرجع، وما يأتي حاشيةً: (أنّه إن خرج لغير سفَر وأقام أكثرَ من ثلاثة أشهر ولو لعذرٍ عزل) فكيف يصحّ إطلاق عدم العزل فيمن سافر ورجع؟!. وإن خرج لِما دونه -كما إلى الرُّستاق- فإمّا بضَرورةٍ كطلَب مَعاشٍ، أو بدونها كتنزّه. على الأوّل لا يسقط معلوم ولا يعزل إن لَم يزد على ثلاثة أشهر، وإن زاد سقط وعزل. وعلى الثانِي إن أقام خمسةَ عشرَ يوماً فأكثر سقط قولاً واحداً ولا يعزل إلاّ أن يزيد على ثلاثة أشهر، وإن أقام دونها قيل: يسقط وقيل: لا، وعدم العَزْل واضحٌ، وإن لَم يخرج من المصر فإن بقي مشتغِلاً بالعِلْم الشرعيّ لَم يسقط ولَم يعزل ولَم يحدّوه بمدّة؛ لأنّه مقيمٌ فيما هو مطلوب منه، وإلاّ سقط وعزل ولَم يذكروا فيه أيضاً مدّةً، لكن يسامح بنحو أسبوع في سنة كالبَطالة المعتادة، والله تعالى أعلم.
ترجمہ:یہاں حاصلِ ضابطہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص شرعی سفر پر نکل جائے تو اس کا گزشتہ وظیفہ ہر صورت میں ساقط ہو جائے گا، خواہ غیر حاضری کی مدت کم ہو یا زیادہ۔البتہ اگر اس کا سفر فرض حج یا صلہ رحمی کے لیے ہو تو اسے منصب سے معزول نہیں کیا جائے گا، ورنہ معزول بھی کر سکتے ہیں ۔ یہی بات شرح کی صریح عبارت سے واضح ہوتی ہے، کیونکہ وہاں حج اور صلہ رحمی کے سفر اور دوسرے اسفار کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔رہا یہ کہ حج اور صلہ رحمی کے سفر میں بھی گزشتہ وظیفہ ساقط ہونے کا حکم موجود ہے، تو یہ فرق کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ اصل فرق یہ ہے کہ حج یا صلہ رحمی کے سفر میں معزولی نہیں ہوگی، جبکہ دوسرے سفر میں معزولی ہوگی۔البتہ محشی نے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا، بلکہ مطلقاً یہ حکم لگایا ہے کہ اگر مسافر واپس آ جائے تو اسے معزول نہیں کیا جائے گا، خواہ اس کا سفر حج کے لیے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے۔حالانکہ ابن الشحنہ کی عبارت کے گزشتہ خلاصے میں ایسی کوئی صریح بات موجود نہیں واللہ تعالیٰ أعلم۔
شارح کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے جو آگے حاشیہ میں آرہی ہے کہ: "اگر کوئی شخص شہر میں رہتے ہوئے دینی علم میں مشغول نہ ہو تو اسے معزول کر دیا جائے گا۔"ظاہر ہے کہ جو شخص محض لہو و لعب یا سیر و تفریح کے لیے سفر پر گیا ہو اور پھر واپس آ جائے، اس کا حال اس شخص سے بہتر نہیں ہو سکتا جو شہر میں رہتے ہوئے دینی کام سے غافل ہے۔اسی طرح آگے حاشیہ میں یہ بھی آرہا ہے کہ: "اگر کوئی شخص شرعی سفر سے کم فاصلے پر جائے اور تین ماہ سے زیادہ قیام کرے، اگرچہ کسی عذر کی وجہ سے ہو، تو اسے بھی معزول کر دیا جائے گا۔"تو پھر یہ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ جو شخص باقاعدہ شرعی سفر پر گیا ہو اور واپس آ جائے، اس کے بارے میں مطلقاً یہ کہا جائے کہ اسے معزول نہیں کیا جائے گا؟اب اگر وہ شرعی سفر سے کم فاصلے پر گیا ہو، مثلاً رستاق (دیہات) کی طرف، تو اس کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: کسی ضرورت کی وجہ سے گیا ہو، جیسے روزگار کی تلاش میں۔اس صورت میں اگر اس کی غیر حاضری تین ماہ سے زیادہ نہ ہو تو نہ اس کا گزشتہ وظیفہ ساقط ہوگا اور نہ اسے معزول کیا جائے گا۔ البتہ اگر تین ماہ سے زیادہ ہو جائے تو وظیفہ بھی ساقط ہوگا اور معزولی بھی ہوگی۔
دوسری صورت: بغیر کسی ضرورت کے گیا ہو، مثلاً سیر و تفریح کے لیے۔اگر وہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کرے تو ایک قول کے مطابق اس کا گزشتہ وظیفہ ساقط ہو جائے گا، البتہ معزولی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک غیر حاضری تین ماہ سے زیادہ نہ ہو جائے۔اور اگر پندرہ دن سے کم قیام کرے تو اس بارے میں اختلاف ہے۔ ایک قول کے مطابق گزشتہ وظیفہ ساقط ہوگا، جبکہ دوسرے قول کے مطابق ساقط نہیں ہوگا۔ البتہ اس صورت میں معزول نہ کیے جانے کا حکم واضح ہے۔اور اگر وہ شہر سے باہر ہی نہ گیا ہو تو: اگر دینی علم میں مشغول رہا تو نہ اس کا وظیفہ ساقط ہوگا، نہ وہ معزول ہوگا۔ فقہاء نے اس کے لیے کسی خاص مدت کی قید بھی نہیں لگائی، کیونکہ وہ اسی کام میں مصروف ہے جس کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔لیکن اگر دینی علم میں مشغول نہ ہو تو اس کا وظیفہ بھی ساقط ہوگا اور وہ معزول بھی ہوگا۔ یہاں بھی فقہاء نے کوئی مدت متعین نہیں کی، البتہ عرف کے مطابق تقریباً سال میں ایک ہفتہ کی رعایت دی جائے گی، جیسا کہ معمول کی تعطیلات ۔(جد الممتار علی رد المحتار،کتاب الوقف جلد06،صفحہ:98 تا99،دار اہل السنۃ)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ چھٹیوں کے حوالے سے ضابطہ لکھتے ہیں:اصل کلی شرعی یہ ہے کہ اجیر خاص پر حاضر رہنا اور اپنے نفس کو کار مقرر کے لئے سپرد کرنا لازم ہے جس دن غیر حاضر ہوگا اگرچہ مرض سے اگرچہ اور کسی ضرورت سے اس دن کے اجر کا مستحق نہیں مگر معمولی قلیل تعطیل جس قدر اس صیغہ میں معروف ومروج ہو عادۃً معاف رکھی گئی ہے اور یہ امر باختلاف حاجت مختلف ہوتا ہے ۔(فتاوی رضویہ جلد14،صفحہ 211،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مزید لکھتے ہیں:جتنی مدتوں وہ کبھی کبھی آیا اور تنخواہ پوری دی گئی حساب کرکے اوقات حاضری کی تنخواہ مجرا کرنا لازم ہے، اس پر فرض ہے کہ واپس دے، اور متولی پر فرض ہے کہ واپس لے۔(فتاوی رضویہ جلد14،صفحہ 259،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔واللہ اعلم بالصواب
الجـــــواب صحــــیـح
ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
محمدیونس انس القادری
04محرم الحرام 1448ھ/20جون2026ء