مسئلہ وراثت تین بھائی تین بہین

    masla e wirasat teen bhai teen behen

    تاریخ: 16 مئی، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1350

    سوال

    میرے والد کا 2002 میں انتقال ہوا تھا ، ہم تین بہن اور تین بھائی تھے اس وقت،والدہ تو بہت پہلے ہی چل بسیں تھیں،بھائیوں کے نام (عبدالرزاق،سلیم ،عبد الرحیم) بہنوں کے نام (مریم، زرینہ ،فاطمہ)اسکے بعد 2006 میں بھائی عبدالرزاق کا انتقال ہوگیا تھا، انکی بیوہ (حلیمہ) اور اور تین بیٹے (شاہد،راشد،کاشف)دو بیٹیاں(صائمہ اور صبا ء) انکی وفات کے وقت موجود تھے۔اسکے کچھ عرصہ بعد ایک بہن مریم کا انتقال ہوگیا وہ شادی شدہ تھیں ،انکے شوہر انکی وفات سے پہلے ہی وفات کرچکے ہیں ،جبکہ اولاد میں دو بیٹیاں (عائشہ، حمیدہ)اور 4 بیٹے(عبدالغفار،فاروق، عبدالغنی،اشرف)ہیں ۔پھر عبدالرزاق بھائی کی ایک بیٹی صباء کا بھی انتقال ہوگیا لیکن اولاد کوئی نہیں کیونکہ شادی کے 5 مہینے بعد ہی انکا انتقال ہوگیا تھا،شوہر ہیں لیکن انہوں نے دوسری شادی کر لی ہے۔

    والد کی وراثت میں ایک مکان ہے 40 گز کا ڈبل اسٹوری اسکو بیچنا چاہ رہے ہیں ،شریعت کے اعتبار سے سب لوگوں کا کتنا کتنا حصہ بنے گا ؟ بھائی کی بیوہ اور بچوں کا کتنا بنے گا؟ جو بہن فوت ہوگئی اسکی اولاد کا کتنا بنے گا؟ کل رقم 20 لاکھ بن رہی ہے ہر ایک کے حصے میں کتنے پیسے آئیں گے؟

    سائل: عبدالرحیم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ واقعی ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہوا،تو وراثت کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل وراثت کے 8640 حصے کیئے جائیں گے، ہر ایک وارث کے حصے کی تفصیل درج ذیل ہے ،

    سلیم 1920 رحیم 1920 زرینہ 960 فاطمہ 960 حلیمہ 275 شاہد 440

    راشد 440 کاشف 440 صائمہ 220 عبدالغفار 192 فاروق 192 عبدالغنی 192

    اشرف 192 عائشہ 96 حمیدہ 96 شوہر صباء 105

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    بیویوں اور شوہروں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے، جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    السراجی فی المیراث ص18 میں ہے:اما للزوجات الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد او ولد الابن والثمن مع الولد او ولد الابن وان سفل:ترجمہ: ایک بیوی ہو یا ایک سے زائد اولاد نہ ہونے کی صورت میں اسکا (زوج کی وراثت سے )چوتھا حصہ ہے، اور بیٹا، بیٹی یا پوتا پوتی کی موجودگی میں زوجہ کو آٹھواں حصہ ملے گا۔

    اور والدین کے بارے میں ارشاد ہے،قال اللہ تعالیٰ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ :ترجمہ کنزالایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو -پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے ، تو ماں کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں ،توماں کا چھٹا۔

    اور رقم اس طرح تقسیم ہوگی کہ محمد سلیم کو 4لاکھ 44 ہزار 4سو 44 روپے ، اور عبد الرحیم کو بھی 4لاکھ 44 ہزار 4سو 44 روپے جبکہ زرینہ کو 2لاکھ 22 ہزار 2سو 22 روپے،اور فاطمہ کو بھی 2لاکھ 22 ہزار 2سو 22 روپے،حلیمہ کو 63ہزار 6سو 57 روپے ،شاہد ، راشد اور کاشف میں سے ہر ایک کو 1لاکھ 18 سو 52 روپے ،صائمہ کو 50 ہزار 9 سو 26 روپے ، عبدالغفار،فاروق،عبدالغنی اور اشرف میں سے ہر ایک کو 44ہزار 4 سو 44 روپے اور عائشہ اور حمیدہ میں سے ہر ایک کو 22 ہزار 2سو 22 روپے،اور صباء کے شوہر کو24ہزار 3 سو 5 روپے ملیں گے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 ذوالقعدہ 1439 ھ/16اگست 2018 ء