وراثت کا مسئلہ تین بہنیں ایک بھائی

    wirasat ka masla teen behnein ek bhai

    تاریخ: 14 مئی، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1346

    سوال

    سوال یہ ہے کہ آج سے 13 سال پہلے ہمارے والد کا انتقال ہوگیا تھا،جبکہ والدہ کا انتقال بہت پہلے ہوگیا تھا والد کے انتقال کے وقت ہم تین بہنیں ( پروین،سیما،ریحانہ) اور ایک بھائی (طارق) زندہ تھے ،ایک سال پہلے بھائی کا بھی انتقال ہوچکا ہے ، والد کی وراثت میں ایک فلیٹ تھا ،بھائی کی شادی ہوگئی ،انکی کوئی اولاد نہیں ہے لیکن انکی زوجہ موجود ہیں ، جن کا نام نصرت ہے، تو شرعی اعتبار سے سب کا اس فلیٹ میں کیا حصہ ہے ۔ سب کا حصہ بتادیں تحریری طور پر۔

    سائلہ: سیما اعجاز


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہوا تو کل وراثت کے10 حصے کیئے جائیں گے ، جس میں سے تینوں بہنوں ( پروین،سیما، ریحانہ) کو 3،3 حصے ملیں گے ،جبکہ طارق کی زوجہ (نصرت ) کو 1 حصے ملے گا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْن:ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین:ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    السراجی فی المیراث ص18 میں ہےاما للزوجات الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد او ولد الابن:ترجمہ: ایک بیوی ہو یا ایک سے زائد اولاد نہ ہونے کی صورت میں اسکا (زوج کی وراثت سے )چوتھا حصہ ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 ذیقعد 1439 ھ/08اگست 2018 ء