wirasat ka masla chhe bhai char behnein
سوال
عرض یہ ہے کہ میں شبانہ سراج جوکہ لیاقت آباد میں رہتی ہوں ،میرے والد کا انتقال آج سے 10 سال پہلے ہوگیا تھا، ہم چھ بھائی اور 4 بہنیں اس وقت موجود تھیں ،بھائیوں کے نام یہ ہیں،جاوید،زاہد،ذاکر،شاہد،ناصر،عادل اور بہنوں کے یہ ہیں شمیمہ،شبانہ، شہلا،شمائلہ، اور والدہ ابھی بھی حیات ہیں جن کا نام زیب النساء ہے،والد صاحب کی اسپیئر پارٹس کی دوکانیں تھیں،اور ایک مکان ۔ انہوں نے بھائیوں کو دوکانیں کروادی تھیں اور مکان کے بارے میں کہا کہ یہ میری چاروں بیٹیوں کا ہے،اس میں کسی بھائی کو کوئی حصہ نہیں ہے۔دوبھائی چھوٹے ہیں جو امی کے ساتھ رہتے ہیں،وہ دوکانوں میں کام نہیں کرتے اب جب مکان بک رہا ہے تو بقیہ چار بھائی بھی اپنے حصے کا تقاضا کررہے ہیں،یاد رہے کہ والد کی وفات کےدوسال بعد ایک بہن یعنی شمائلہ کا انتقال ہوگیا تھا ، انکے شوہر ابھی موجود ہیں جنکا نام خالد ہے اور دوبچے ہیں ایک بیٹا جس کا نام باسط ہے اور ایک بیٹی جسکا نام شیزہ ہے، آپ بتائیں کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے سب کا مکان میں حصہ ہے یا صرف ہمارا ؟جواب لکھ دیں ۔
سائلہ: شبانہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ واقعی ایسا ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہوا تو دوکانیں اور مکان میں سے ہر ایک وراثت میں شامل ہونگے اور تمام کا تمام مالِ وراثت ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔دوکانیں تمام بھائیوں کو کام کے لیے دینے سے انکی ملکیت میں نہ آئیں گی ۔ اسی طرح محض یہ کہہ دینا ''کہ یہ مکان چاروں بیٹیوں کا ہے ان میں بھائیوں کا کوئی حصہ نہیں ہے ''بھی بیٹیوں کو اس مکان کا مالک اور بیٹوں کو محروم نہ کردے گا،کیونکہ یہ صورت والد کی طرف سے انکی زندگی میں آپ کے لیئے مشاع (یعنی مشترکہ چیز) کے ہبہ کی ہے، اور جب تک سب شریک اپنا اپنا حصہ الگ الگ نہ کرلیں اس وقت تک یہ ہبہ تام نہ ہوگا،
تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688 میں ہے:وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ):ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو،اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو۔
بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل فی بیان ما ینتقض التیمم جلد 1ص57 میں ہے :لِأَنَّ هِبَةَ الْمُشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ فَلَمْ يَثْبُتْ الْمِلْكُ رَأْسًا.:ترجمہ:کیونکہ مشاع کا ہبہ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوسکتی ہیں صحیح نہیں ہے ، لہذا ملکیت اصلا ثابت نہ ہوگی۔
بہرحال تمام وراثت کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل مال وراثت یعنی دوکانیں اور مکان وغیرہ کے 4608 حصے کیئے جائیں گے جس میں سے مرحوم کی وراثت میں سے انکی زوجہ (زیب النساء ) کو576 حصے دیئے جائیں گے جبکہ ہر بھائی کو 504 حصے اور ہر بہن کو 252 حصے جس بہن کا انتقال ہوگیا ان کے 252 حصے انکے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہونگے کہ انکی والدہ( زیب النساء) کو 42 حصے اور ان کے شوہر (خالد) کو 63 حصے،بیٹے باسط کو 98 اور بیٹی شیزہ کو 49 حصے دیئے جائیں گے ۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ، قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ:ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین:ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
بیویوں اور شوہروں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے، جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26ذیقعدہ 1439 ھ/08اگست 2018 ء