مسئلہ وراثت کا شرعی حکم

    masla-e-wirasat ka sharai hukum

    تاریخ: 14 مئی، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1345

    سوال

    میرے نانا کا انتقال 1965ءمیں ہوا جبکہ میری والدہ کشورجہاں کا 1994ءمیں انتقال ہوا ۔میرے نانا نے اپنی زندگی میں ہی ساری وراثت اپنی زوجہ (میری نانی)کے نام کردی تھی اور قبضہ بھی دے دیا تھا ۔پھر نانی کا انتقال 2006ء میں ہوا ۔نانی نے اپنی زندگی میں ہی اپنی وراثت جس میں دو بلڈنگز تھی اپنی تمام اولاد کے نام کر دی تھی۔اب ماموں نے بلڈنگزبیچ دی ہے تو شرعا ہمارا حصہ کیا ہوگا۔

    سائل:عمران قریشی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    کسی بھی شخص کا اپنی زندگی میں ہی اپنی اولاد کے حصے کردینا شرعا ََتقسیم میراث نہیں بلکہ گفٹ یا ہبہ کہلائے گا،کیونکہ وراثت اس مال یا اس جائیداد کو کہتے ہیں جو کسی بھی شخص کی وفات کے بعد اسکے ورثاء میں تقسیم کیا جائے

    البحر الرائق شرح کنز الدقائق کتاب الفرائض باب یبدأ من ترکۃ المیت جلد 8ص557میں ہے:وَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ:ترجمہ:وہ وقت کہ جس میں وراثت جاری ہوتی ہے ، اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے ،عراق کے علماء فرماتے ہیں کہ وراثت اس وقت ثابت ہوگی جب میت کی زندگی کا آخری لمحہ ہو ،اور بلخ کے علماء فرماتے ہیں کہ مورث (جسکی وراثت ہے) کی موت کے بعد وراثت ثابت ہوگی۔

    یوںہی شامی کتاب الفرائض ج6 ص758 میں ہے:وَشُرُوطُهُ: ثَلَاثَةٌ: مَوْتٌ مُوَرِّثٍ حَقِيقَةً، أَوْ حُكْمًا كَمَفْقُودٍ، :ترجمہ: اور وراثت کی تین شرطیں ہیں ۔ پہلی شرط یہ مورث کی موت ہے ، حقیقتاََ مر جائے یا حکماََ جیسے مفقود شخص ۔

    اور ھبہ یا گفٹ کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے اگر ھبہ مشاع کاہویعنی مشترکہ مکان یا جائیداد ہو تو ملکیت کے ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ اس مکان یا جائیداد میں سے ہر ایک کا حصہ الگ الگ کرلیا جائے اور اگر اسکی تقسیم کیے بغیر قبضہ کیا تو ھبہ تام نہیں ہوا ،اور اس چیز میں موہوب لہ( جس کو گفٹ کیا گیا ہے) کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی ،

    بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل فی بیان ما ینتقض التیمم جلد 1ص57 میں ہے :لِأَنَّ هِبَةَ الْمُشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ فَلَمْ يَثْبُتْ الْمِلْكُ رَأْسًا.:ترجمہ:کیونکہ مشاع کا ہبہ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوسکتی ہیں صحیح نہیں ہے ، لہذا ملکیت اصلا ثابت نہ ہوگی۔

    اسی طرح تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688 میں ہے وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)

    ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)

    اور غیر مشغول ہو۔

    لہذا آپکی والدہ آپکی نانی کے ترکے میں حصے دار نہ ہونگی کیونکہ میت سے پہلے جس وارث کا انتقال ہوجائے اسکو وراثت سے کچھ نہیں ملتا،

    الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424 میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه:ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367 میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) ش: أي وقت الحكم بالموت:ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔

    لیکن اگر آپ کے ماموں وغیرہ چاہیں تو آپ لوگوں کو وراثت سے کچھ دے سکتے ہیں ، کہ یہ ان کی طرف سے آپ کے لیے احسان ہوگا ،ایسے لوگوں کو اللہ کریم پسند فرماتا ہے۔

    قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔

    اور دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے قال اللہ تعالیٰ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ، فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( الرحمان : 60،61):ترجمہ: احسان کا بدلہ احسان ہی ہے ، توتم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی