sjda main peshani rakhi naak na rakhi
سوال
اگر کسی نےپیشانی لگائی لیکن سجدہ میں ناک زمین پر نا لگائی تو کیا حکم ہو گا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ سجدے میں زمین پر پیشانی کا کچھ حصہ رکھنا فرض ہے اور اکثر حصہ رکھنا واجب ہے۔ اسی طرح ناک کو اس طرح زمین پر رکھنا کہ ہڈی تک دبی ہو، واجب ہے۔ لہذاسجدے میں صرف پیشانی رکھی اور ناک نہ لگائی تو فرض تو ادا ہوگیا، لیکن سجدے میں ناک زمین پر نہ لگانے کی صورت میں ایسی نماز مکروہِ تحریمی اور واجب الاعادہ ہوگی۔
زمین پر پیشانی کا کچھ حصہ رکھنا فرض ہے اور اکثر حصہ رکھنا واجب ہے، اس بارے میں علامہ خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: ’’اختلف هل الفرض وضع أكثر الجبهة أم بعضها وإن قل؟ قولان أرجحهما الثاني، نعم وضع أكثر الجبهة واجب للمواظبة كما حرره في البحر. وفي المعراج: وضع جميع أطراف الجبهة ليس بشرط إجماعا، فإذا اقتصر على بعض الجبهة جاز وإن قل، كذا ذكره أبو جعفر خزائن‘‘.ترجمہ :فقہاء نے اختلاف کیا کہ پیشانی کے اکثر حصے کو رکھنا فرض ہے یا بعض حصے کو رکھنا فرض ہے اس بارے دو قول ہیں ان میں سے راجح دوسراقول ہے ہاں پیشانی کے اکثر حصے کو رکھنا واجب ہے مواظبۃ کی وجہ سے جس طرح 'البحر ' میں اس کو تحریرکیااور 'المعراج 'میں ہے :پیشانی کے تمام اطراف کو رکھنا اجماع کے طور پہ شرط نہیں ۔اگر پیشانی کے بعض حصے پہ اقتصار کرلیااگر کم ہی کیو ں نہ ہو جائز ہے ۔اسی طرح ابو جعفر نے اسے بیان کیا۔خزائن ۔(رد المحتار ،کتاب الصلاة،باب صفة الصلاة،ج:2،ص:203،امدادیہ )
امام صاحب اور صاحبین رحمۃ اللہ تعالی کا جو اختلاف ہے وہ فقط ناک رکھنے کے حوالے سے ہے نہ کہ فقط پیشانی رکھنے کے حوالے سے اس بارے زین الدین ابن نجیم رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں : فيجوز بالجبهة وحدها اتفاقا على ما عليه الجم الغفير من أهل المذهب، وما في المفيد والمزيد: من أنه لا يتأدى الفرض عندهما إلا بوضعهما فخلاف المشهور عنهما، وإنما محل الاختلاف في الاقتصار على الأنف فعنده يجوز مطلقا وعندهما لا يجوز إلا من عذر بالجبهة كما صرح به صاحب الهداية. ترجمہ : لہٰذا صرف پیشانی پر سجدہ کرنا بالاتفاق جائز ہے، جیسا کہ اہلِ مذہب کی اکثریت کا موقف ہے۔ اور مفید و مزید میں جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک پیشانی اور ناک دونوں کو زمین پر رکھنے کے بغیر فرض ادا نہیں ہوتا، تو یہ ان دونوں ائمہ کے مشہور قول کے خلاف ہے۔اصل اختلاف صرف ناک پر اکتفا کرنے کی صورت میں ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک صرف ناک پر سجدہ کرنا مطلقاً جائز ہے، جبکہ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک صرف ناک پر سجدہ کرنا کسی عذر کے بغیر جائز نہیں۔ صاحبِ ہدایہ نے بھی اسی بات کی صراحت کی ہے۔(البحر الرائق، كتاب الصلاة،باب صفة الصلاة،ج:1،ص:554،مکتبہ رشیدیہ )
سجدہ میں صرف پیشانی پہ اکتفاء کیا تو تینوں آئمہ کا اتفاق ہےسجدہ ادا ہوجائے گااس بارے النہایہ میں :’’ قلت جاز أن يكون تقديم الأنف على الجبهة مع أن وضع الجبهة أقوى؛ لأداء الفرض عند وضعها بإجماع العلماء الثلاثة بخلاف الأنف لاختيار (٣) ما ذكرنا من شرح الطحاوي بأنه يضع أولا على الأرض ما كان أقرب إلى الأرض عند السجود‘‘.ترجمہ : میں نے کہاناک کو پیشانی پہ مقدم کرنا جائز ہے ساتھ یہ کہ پیشانی کا رکھنا زیادہ قوی ہے کیونکہ فقط پیشانی کو رکھنے سے فرض اداہوجاتاہے تینوں علماء کا اجماع ہے بخلاف اکیلے ناک رکھنے سے(یعنی فرض ادانہیں ہوتا)اس قول کواختیار کرتے ہوئے جو جو ہم نے طحطاوی کی شرح سے ذکر کیاکہ زمین پہ پہلے جسم کا وہ حصہ رکھے گا جو سجدہ کرتے وقت زمین کے زیادہ قریب ہو۔( النهاية في شرح الهداية، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة،كيفية السجود والقيام منه،ج:2،ص:253)
صاحب ہدایہ کے اس قول ' (قَوْلُهُ فَإِنْ اقْتَصَرَ عَلَى أَحَدِهِمَا جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله) کی تشریح میں محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن ہمام رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں : فإن كان الأنف كره، وإن كان الجبهة ففي التحفة والبدائع لا يكره عنده، وفي المفيد والمزيد: وضع الجبهة وحدها أو الأنف وحده يكره ويجزئ عنده، وعند صاحبيه لا يتأدى إلا بوضعهما إلا لعذر.قيل فيه نظر، فإنه لم يجز الاقتصار على الجبهة عندهما وهو خلاف المشهور، ففي النهاية أن وضع الجبهة يتأدى به الفرض بإجماع الثلاثة، وهو ظاهر من الهداية حيث قال بعد قوله فإن اقتصر على أحدهما جاز عنده.وقالا: لا يجوز الاقتصار على الأنف إلا من عذر، ولم يقل على أحدهما أو عليه والحديث المذكور في الكتب الستة عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ «أمرت أن أسجد على سبعة أعظم على الجبهة واليدين والركبتين وأطراف القدمين» ورواية «وأشار بيده إلى أنفه» غير ضائرة، فإن العبرة للفظ الصريح، والإشارة إلى الجبهة تقع بتقريب اليدين إلى جهة الأنف للتقارب، ثم المعتبر وضع ما صلب من الأنف لا ما لان .........فالحق أن مقتضاه ومقتضى المواظبة المذكورة الوجوب، ولا يبعد أن يقول به أبو حنيفة، وتحمل الكراهة المروية عنه على كراهة التحريم، وعلى هذا فجعل بعض المتأخرين الفتوى على الرواية الأخرى الموافقة لقولهما لم يوافقه دراية ولا القوي من الرواية، هذا.ولو حمل قولهما لا يجوز الاقتصار إلا من عذر على وجوب الجمع كان أحسن إذ يرتفع الخلاف بناء على حملنا الكراهة عنه عليه من كراهة التحريم، ولم يخرجا عن الأصول إذ يلزمهما الزيادة بخبر الواحد وهما يمنعان.ترجمہ: اگر صرف ناک کو زمین پر رکھا جائے تو مکروہ ہوگا، اور اگر صرف پیشانی کو زمین پر رکھا جائے تو تحفہ اور بدائع میں ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مکروہ نہیں۔ مفید اور مزید میں ہے کہ صرف پیشانی یا صرف ناک زمین پر رکھنے سے مکروہ ہوگا، تاہم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک سجدہ ادا ہوجائے گا، جبکہ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک دونوں کو زمین پر رکھے بغیر سجدہ ادا نہیں ہوگا، البتہ کسی عذر کی صورت میں گنجائش ہے۔کہا گیا یہ قول محل نظر ہے کہ صاحبین کے نزدیک 'صرف پیشانی پر اکتفا کرناجائز نہیں ' مشہور قول کے خلاف ہے۔ نہایہ میں ہے کہ صرف پیشانی زمین پر رکھنے سے فرض ادا ہوجاتا ہے، تینوں ائمہ رحمهم اللہ کے اجماع کے سبب ۔ ہدایہ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے؛ کیونکہ مصنف نے اپنے قول ’’فإن اقتصر على أحدهما جاز عنده‘‘ کے بعد’’وقالا: لا يجوز الاقتصار على الأنف إلا من عذ ر کہایہاں پہ علی احدهما،یا علیه نہیں کہا۔
اور وہ حدیث جو کتبِ ستہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں: پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے کناروں پر۔اور یہ روایت کہ ' آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ فرمایا' صریح روایت کے منافی نہیں؛ کیونکہ اعتبار صریح الفاظ کا ہے۔ اور پیشانی کی طرف اشارہ کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو ناک کی جانب قریب کرنا، باہمی قربت کی وجہ سے ممکن ہے۔ نیز ناک کا وہ حصہ معتبر ہے جو سخت یعنی ہڈی والا ہو، نہ کہ نرم حصہ۔درست بات یہ ہے کہ مذکورہ حدیث اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہمیشگی کرنا دونوں کا تقاضا وجوب کاہے، اور یہ بعید نہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہوں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے جو کراہت منقول ہے، اسے کراہتِ تحریمی پر محمول کیا جائے گا۔ اس بنا پر بعض متأخرین نے جو اس دوسری روایت کی بنیاد پر فتویٰ دیا ہے جو صاحبین کے قول کے موافق ہے، تو یہ نہ دلائل کے فہم کے اعتبار سے درست ہے اور نہ قوی روایت کے اعتبار سے۔اور اگر امام ابویوسف و امام محمد رحمہما اللہ کے قول ’’لا يجوز الاقتصار إلا من عذر‘‘ کو دونوں اعضاء کو جمع کرنے کے وجوب پر محمول کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا؛ کیونکہ اس صورت میں ہمارے اس موقف کی بنا پر کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے منقول کراہت سے مراد کراہتِ تحریمی ہے، اختلاف ختم ہوجاتا ہے۔ نیز امام ابویوسف و امام محمد رحمہما اللہ اصول سے بھی خارج نہیں ہوتے، کیونکہ دونوں اعضاء کو جمع کرنا ایک زائد حکم کا تقاضا کرتا ہے، اور وہ دونوں خبرِ واحد کے ذریعے اس اضافے کے قائل نہیں ہیں۔(فتح القدیر ،کتاب الصلاة،ج:1،ص:209/210،مکتبہ رشیدیہ)
چہرہ کا بعض حصہ رکھنا فرض اکثر رکھنا اور ناک رکھنا دونوں واجب ہیں اس بارے مخدوم ہاشم ٹھٹوی رحمۃاللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:’’ وأما وضع أكثر الجبهة فواجب لا فرض كما في «الدر المختار»، كما أن وضع الأنف بعد وضع الجبهة واجب أيضًا لا فرض‘‘.ترجمہ : اور رہی بات پیشانی کے اکثر حصے کو زمین پر رکھنے کی تو یہ فرض نہیں بلکہ واجب ہے، جیسا کہ در مختار میں ہے۔ جس طرح پیشانی رکھنے کے بعد ناک کو زمین پر رکھنا بھی فرض نہیں بلکہ واجب ہے۔(فرائص الاسلام ،ص:278،دار الفتح للدراسات والنشر)
فقط پیشانی رکھی ناک نہیں رکھی تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اس بارےعلامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں ہیں :’’سجدہ میں ناک زمین پر لگا کر ہڈی تک دبانا واجب ہے تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ اس کی ناک زمین پر نہ لگی یا زمین پر تولگی مگر ناک تک نہ دبی تو نمازمکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی ۔(فتاوی فیض الرسول ،حصہ اول ،ص:251،شیر برادرز)
والله تعالى اعلم بالصواب