مرد کا طلاق دے کر مُکر جانے کا حکم
    تاریخ: 30 جنوری، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 699

    سوال

    میرے شوہر لڑائی جھگڑے کے دوران کئی بار طلاق دے چکے ہیں ، اور آخری بار تو مجھے یہ الفاظ کہے '' میں اللہ کو حاضرناظر جان کر اور اسکے رسول کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں تجھے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ بار مُکر جاتے ہیں کہ میں نے طلاق نہیں دی۔اب میرے لئے کیا حکم ہے؟

    سائلہ: عائشہ : گلشن اقبال ،کراچی

    نوٹ: مذکورہ سوال کا جواب بر تقدیرِ صدقِ سائلہ (سائلہ کے سچی ہونے کی بنیاد پر)ہے ، اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتو جواب مختلف ہوسکتا ہے۔



    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مستفسرہ میں حکم شرع یہ ہے کہ اگرعورت کو کامل یقین ہے کہ مرد نے اسکو تین طلاقیں دی ہیں تو اس پر لازم و ضروری ہے کہ خود کو دیانۃ ً(یعنی اللہ تعالی اور اس کےبندے کے درمیان جو معاملہ ہےاس کے مطابق )تین طلاقیں والی سمجھےاوراپنے شوہرسے علیحدگی اختیار کرے ،مرد کو خود پر بالکل قدرت نہ دے ، اور عدت کے ایام گننا شروع کردے۔

    نیز اگر مرد نے عورت کو تین سے زائد طلاق دی ہیں، تو تین طلاقیں واقع ہوگئی اور باقی سب لغو وبے کار گئیں ۔ تین طلاق دینے کے بعد مرد کا انکار کچھ معنٰی نہیں رکھتا۔ لہذا اب عورت کے لیے مرد کے ساتھ رہنے کی اور رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے سوائے حلالہ شرعی کے۔اور اگر وہ علیحدگی اختیار نہیں کرتے اور میاں و بیوی والے تعلقات قائم رکھتے ہیں تو سخت گنہگار ہونگے ۔

    عدت کی تفصیل یہ ہے کہ اگر عورت حاملہ نہیں ہے تو مکمل تین حیض عدت گذارنا ضروری ہے، حیض نہ آتے ہوں تو تین ماہ عدت ہے، اور اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے، یعنی طلاق کے بعد جب بچہ پیدا ہوجائے تو اس کی عدت پوری ہوگی۔

    ردالمحتارعلی الدرالمختار میں ہے:وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إذَا سَمِعْته أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهُ تَمْكِينُهُ. وَالْفَتْوَى عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ لَهَا قَتْلُهُ، وَلَا تَقْتُلُ نَفْسَهَا بَلْ تَفْدِي نَفْسَهَا بِمَالٍ ۔ترجمہ:اور قاضی کی طرح ہے جب وہ خود (طلاق کے الفاظ )سنے یا عادل گواہ اس کو خبر دیں تو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے اوپر شوہر کو اختیار دے ۔اور فتوی اس پر ہے کہ عورت کے لئے مرد کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ،اورنہ ہی عورت اپنے آپ کو قتل

    کرے بلکہ مال کے ذریعے اس سے خلع حاصل کرے ۔ (ردالمحتارعلی الدر المختار باب صریح الطلاق، ج:3،ص: 251، طبع:دارالفکر )

    تبیین الحقائق میں ہے:إذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ، وَقَالَ إنَّمَا أَرَدْت بِهِ التَّكْرَارَ صُدِّقَ دِيَانَةً لَا قَضَاءً فَإِنَّ الْقَاضِيَ مَأْمُورٌ بِاتِّبَاعِ الظَّاهِرِ وَاَللَّهُ يَتَوَلَّى السَّرَائِرَ وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تُمَكِّنَهُ إذَا سَمِعَتْ مِنْهُ ذَلِكَ أَوْ عَلِمَتْ بِهِ؛ لِأَنَّهَا لَا تَعْلَمُ إلَّا الظَّاهِرَ ۔ترجمہ:جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا تو طلاق والی ہے ،تو طلاق والی ہے،تو طلاق والی ہے،اور کہا میں نے اس سے تکرار کاارادہ کی تھا تو اس کی دیانۃًتصدیق کی جائے گی نہ کہ قضاءًاس لیئے کہ قاضی کو ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم ہے ،اللہ تعالی ہی پوشیدہ رازوں کو جانے والا ہے ،اور عورت (اس معاملے)میں قاضی کی طرح ہے کہ اس کے لیئے حلال نہیں ہے کہ وہ (اس معاملے میں )اپنے اوپر شوہر کو اختیار دے جب اس نے (طلاق کے الفاظ )خود سنے ہو ں یا کسی اور (مضبوط )ذرائع سے اس کو معلوم ہوجائے کیوں وہ ظاہر ہی کو جانتی ہے۔( تبیین الحقائق ،اقسام الکنایۃ،ج:2،ص:218،طبع:المطبعۃالکبری الامیریۃ،مصر)

    سیدی اعلٰی حضرت اسی طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :اگر خود زوجہ کے سامنے اُسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملتے تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے اگر چہ اپنا مہر چھوڑکر، یا اور مال دے کر، اور اگر وُہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو پھر وبال اس پر ہے، لایکلّف اﷲنفسا الا وسعھا(اﷲتعالی وسعت کے مطابق ہی کسی جان کو تکلیف دیتا ہے)واﷲ تعالٰی اعلم۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق ،جلد 12 ص 424،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 جمادی الاولٰی 1443 ھ/21 دسمبر2021 ء