طلاق مغلظہ کے بعد شوہر کے ساتھ رہنا
    تاریخ: 29 جنوری، 2026
    مشاہدات: 18
    حوالہ: 694

    سوال

    بعد سلام عرض یہ ہے کہ میری نند پچھلے سال اپنے شوہر سے لڑ کر حیدرآباد سے اپنے میکے آگئی تھیں پھر ان کے شوہر نے انکو فون پر یہ کہا " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق،طلاق،طلاق'' پھر اسکا فتویٰ دارالعلوم کورنگی سے لیا جس میں تھا کہ تین طلاقیں ہوگئی ہیں،لیکن اس میں یہ کہا کہ شوہر نے مجھے تین بار یہ کہا کہ '' میں تمہیں طلاق دیتا ہوں'' جوکہ جھوٹ تھا۔ پھر رمضان میں وہ یہ کہہ کر کہ میں نےتجدید نکاح کرلیا ہے اپنے شوہر کے پاس واپس چلی گئی اور حلالہ نہیں کیا ۔اب وہ کہتی ہے مجھ پر جادو کیا گیا تھا اس لیے طلاق نہیں ہوئی ہے ۔شوہر کے ساتھ رہ رہی ہے۔

    برائے مہربانی آپ ہماری رہنمائی کریں کہ کیا ہم ان سے تعلقات رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ ہمارے لیے کیا شرعی حکم ہے۔

    سائلہ:۔ کامرانہ



    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مفتی کا کام پوچھی گئی صورت کا حکم شرع بیان کرنا ہے واقعے کی تحقیق مفتی کے ذمے لازم نہیں ہے۔لہذاپوچھی گئی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ، اور اب وہ اپنے شوہر کے لیے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہیں ، انکا یہ جملہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق کے باب میں صریح ہے، اس سے ایک طلاق واقع ہوگئی پھر اس کے بعد طلاق طلاق طلاق کہا تو طلاق طلاق سے اگلی دو بھی واقع وگئیں ،اور تیسری بار طلاق کہنا لغو ہوگیا ۔بہر حال '' میں تمہیں طلاق دیتا ہوں''سے پہلی طلاق اوراسکے بعد طلاق طلاق کی تکرارسے بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوگئی کیونکہ یہ الفاظ صریح ہیں ، یعنی وہ الفاظ جو فقط طلاق کیلئے ہی استعمال ہوتے ہیں۔ اور صریح ،صریح کو لاحق ہوجاتی ہے،چنا چہ تنویر الابصار مع الدر المختار باب الکنایات جلد 3 ص 306 میں ہے: الصَّرِیحُ یَلْحَقُ الصَّرِیحَ ویَلْحَقُ الْبَائِنُ: ترجمہ:طلاق صریح ،صریح اور بائن دونوں کو لاحق ہوتی ہے۔

    نیز پچھلے جملے میں اضافت بھی موجود ہےاسکا اعتبار بعد والے الفاظ میں بھی ہوگا،جیسا کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلی رحمۃ للہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ ج12، ص145میں تصریح فرمائی۔

    '' پہلے طلاق میں بیوی کی نسبت آخری لفظ میں بھی معتبر ہوگی'' تو جب تین طلاقیں واقع ہوگئیں تو بغیر حلالہ کے ان کا اپنے شوہر کے ساتھ رہنا، شوہر سے تعلقات قائم کرناحرام ہے۔

    سیدی اعلیٰ حضرت سے اسی طرح کا سوال کیا گیا آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں اگر واقع میں تین بار طلا ق دی تو اس پر فرض ہے کہ اسے چھوڑدے اور بے حلالہ ہاتھ نہ لگائے اگر خلاف کرے گا مبتلائے زناہوگا اور مستحق عذاب شدید، واﷲعلٰی کل شیئ شہید(فتاویٰ رضویہ ج12، ص433 رضا فائو نڈیشن لاہور)

    دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں ''برادری والوں کو چاہئے کہ اگر وُہ مرد وعورت جُدا نہ ہوں تو اس کو برادری سے خارج کردیں، اُن سے سلام کلام نہ کریں، اُن کے پاس نہ بیٹھے اُنہیں اپنے پاس نہ بیٹھنے دیں، اور وہ لوگ جو پہلے اُن سےجُدا ہوگئے تھے اوراب مل گئے اور اُن کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں بیجا کرتے ہیں اُنہیں چاہئے اس سے بازرہیں،اﷲ تعالٰی فرماتا ہے :وامّا ینسینک الشیطان فلاتقعدبعد الذکری مع القوم الظلمین۔ترجمہ:شیطان تجھے بُھلادیتا ہے، تو یا د آنے پر ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھے۔''(فتاویٰ رضویہ ج12، ص408،409 رضا فائو نڈیشن لاہور)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی