طلاق میں مسئلہ اجازت کا حکم
    تاریخ: 30 جنوری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 696

    سوال

    گزشتہ 08 ماہ قبل میں نے اپنی بیوی (سدرہ بی بی) کو سمجھایا تھا کہ ''اگر آپ میری اجازت کے بغیر اپنے والدین کے گھر جاؤ گی تو آپ میری طرف سے فارغ ہو جاؤ گی (پانچ سے سات بار کہا) اور میری طرف سے آپ کو تین طلاق ہو جائیں گی '' مورخہ 5 اگست 2024 کو ہم میاں بیوی کی گھریلو لڑائی جھگڑے کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی سے غصے میں کہا کہ تم اپنی والدہ کے گھر چلی جاؤ اپنے بھائی کو بلاؤ اور اس کے ساتھ چلی جاؤ اور میں کچھ ٹائم کے لیے گھر سے باہر چلا گیا جب میں 30 منٹ بعد میں واپس گھر آ رہا تھا تو میری بیوی اپنے بھائی کے ساتھ جارہی تھی ،میں نے ان کو روکا اور اس کے بھائی سے پوچھا کہ آپ میری بیوی کو کہاں لے کر جارہے ہو تو اس کے بھائی نے کہا میں اپنی بہن کو واپس اپنے گھر لے کر جا رہا ہوں تو میں نے اس کے بھائی سے کہا معلوم ہے نا اگر میری بیوی میری اجازت کے بغیر جائے گی تو اس کے ساتھ کیا ہو گا ؟ میری اس بات پر میری بیوی اور اس کے بھائی نے کہا ہمیں سب پتہ ہے میں نے کہا آپ میری رضامندی کے بغیر لے کر جارہے ہو۔ تو اس کے بھائی نے کہا اب جو کچھ بھی ہوگا بعد میں دیکھا جائے گا۔ پھر میں نے اس سے اپنے بچے لے لیے اور میری بیوی اپنے بھائی کے ساتھ چلی گئی جس میں میری رضا مندی شامل نہیں تھی ،مہربانی فرما کر ہمیں اس بارے بتا یا جائے کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں ۔

    سائل:صداقت علی: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مستفسرہ میں عورت جب اپنے والدین کے گھر چلی گئی تو اسی وقت اسکو تین طلاقیں واقع ہوگئی، جسکے بعد عورت مرف پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ، عورت پر فوراً عدت لازم ہے، اب رجوع کی کوئی صورت نہیں الا یہ کہ تحلیلِ شرعی ہوجائے۔

    مدخولہ عورت کی عدت تین حیض ہے، حیض نہ آتے ہوں تو تین ماہ عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہے تو ہر صورت میں اسکی عدت وضعِ حمل ہے یعنی جب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے اس وقت تک عدت ہے۔

    تفصیل اس مسئلے کہ یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں مرد کے الفاظ ''اگر آپ میری اجازت کے بغیر اپنے والدین کے گھر جاؤ گی تو آپ میری طرف سے فارغ ہو جاؤ گی، اور میری طرف سے آپ کو تین طلاق ہو جائیں گی ''عربی الفاظ ''لاتخرجی الاباذنی یا الابغیر اذنی یا إن دخلت دار أبيك إلا بإذني فأنت طالق ''کی طرح ہی ہیں ، اور ان الفاظ کا حکم یہ ہے کہ یہ الفاظ کہنے کے بعد عورت ہر بار مرد کی اجازت کی محتاج ہے حتی کہ اگر مرد نے ایک بار اجازت دے دی اور بعد میں دوسری بار عورت بلااجازت نکل گئی تو اسے طلاق واقع ہوجائے گی۔ یونہی اگر اجازت دینے کے بعد جانے سے پہلے منع کردیا تب بھی یہی حکم ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں مرد نے پہلے تعلیق کی بعد میں اجازت دی اس اجازت سے محض ایک بار جانا جائز ہوا تاہم جانے سے قبل ہی مرد نے اسے روک دیا اسکے باوجود عورت اپنے والدین کے گھر چلی گئی لہذا اسے حسبِ تعلیق تین طلاقیں واقع ہوگئیں۔

    مبسوطِ سرخسی میں ہے: ولو قال لامرأته: إن دخلت دار أبيك إلا بإذني فأنت طالق فالحيلة في ذلك في أن لا يحنث أن يقول لها: قد أذنت لك في دخول هذه الدار كلما شئت فتدخل كلما شاءت، ولا يحنث؛ لأنه جعل الدخول بإذنه مستثنى من يمينه، والإذن بكلمة كلما يتناول مرة بعد مرة ما لم يوجد النهي فهي كل مرة إنما تدخل بإذنه إلا أن يمنعها من الدخول فحينئذ إذا دخلت بعد ذلك كان دخولا بغير إذنه۔ترجمہ: اور اگر اس نے اپنی بیوی سے کہا: اگر تم اپنے باپ کے گھر میری اجازت کے بغیر داخل ہوئی تو تمہیں طلاق ہے ،تو اس میں حانث نہ ہونے کا حیلہ یہ ہے کہ مرد اس عورت سے کہے جب جب تو چاہے اس وقت میں نے تجھے اس گھر میں داخل ہونے کی اجازت دی ، پھر وہ جب چاہے داخل ہوجائے حانث نہ ہوگی،کیونکہ اس نے اجازت کے ساتھ دخول کو قسم سے مستثنٰی قرار دیا ہے اور کلمہ کلما کے ذریعے اجازت دینا ان تمام صورتوں کو بار بار شامل ہے جب جب مرد کی جانب سے منع نہ پایا جائے، مگر یہ کہ جب اس عورت کو بعد میں دخول سے منع کرے گا تو اس وقت اگر داخل ہوئی تو یہ دخول بلااجازت ہوگا، جس سے طلاق واقع ہوجائے گی۔ (المبسوط للسرخسی، ج 30 ص 234)

    تنویر مع الدر میں ہے:( لا تخرجي) بغير إذني أو (إلا بإذني) أو بأمري أو بعلمي أو برضاي ( شرط) للبر (لكل خروج إذن)۔ ترجمہ:میری اجازت ، میرے حکم یا میرے علم یا میری رضامندی کے بغیر نہ نکلنا (کہنے کی صورت میں ) ہر مرتبہ نکلنے کے لئے اجازت شرط ہوگی۔

    اس کے تحت علامہ شامی رقمطراز ہیں:وإنما شرط تكراره لأن المستثنى خروج مقرون بالإذن فما وراءه داخل في المنع العام لأن المعنى لا تخرجي خروجا إلا خروجا ملصقا بإذني،۔ترجمہ:مصنف علیہ الرحمہ تکرار کی شرط اس لئے لگائی کیونکہ مشتثنٰی ایسا خروج ہے جو اجازت کے ساتھ ملا ہوا ہو، سو جو اسکے علاوہ ہوگا وہ منعِ عام میں داخل ہوگا، کیونکہ اسکا معنٰی یہ ہے کہ تو نکلنا مگر اس حال میں کہ تیرا نکل میری اجازت کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ (تنویر مع الدر و حاشیہ ابن عابدین ، ج 3 ص 758 تا 760)

    علامہ کاسانی نے بدائع میں اس سلسلے میں تفصیل ذکر فرمائی ہے:ولو قال: أنت طالق إن خرجت من هذه الدار إلا بإذني أو بأمري أو برضائي أو بعلمي أو قال: إن خرجت من هذه الدار بغير إذني أو أمري أو رضائي أو علمي فهو على كل مرة عندهم جميعا، وههنا ثلاث مسائل: إحداها: هذه، والثانية: أن يقول أنت طالق إن خرجت من هذه الدار حتى آذن لك أو آمر أو أرضى أو أعلم والثالثة: أن يقول أنت طالق إن خرجت من هذه الدار إلا أن آذن لك أو آمر أو أعلم أو أرضى أما المسألة الأولى فالجواب ما ذكرنا أن ذلك يقع على الإذن في كل مرة حتى لو أذن لها مرة فخرجت ثم عادت ثم خرجت بغير إذن حنث، وكذلك لو أذن لها مرة فقبل أن تخرج نهاها عن الخروج ثم خرجت بعد ذلك يحنث، وإنما كان كذلك لأنه جعل كل خروج شرطا لوقوع الطلاق واستثنى خروجا موصوفا بكونه ملتصقا بالإذن لأن الباء في قوله إلا بإذني حرف إلصاق هكذا قال أهل اللغة، وأما المسألة الثانية فجوابها أن ذلك على الإذن مرة واحدة حتى لو أذن لها مرة فخرجت ثم عادت ثم خرجت بغير إذن لا يحنث.وكذا إذا أذن لها مرة ثم نهاها قبل أن تخرج ثم خرجت بعد ذلك لا يحنث؛ لأن كلمة حتى كلمة غاية وهي بمعنى إلى، وكلمة إلى كلمة انتهاء الغاية فكذا كلمة حتى.ألا ترى أنه لا فرق بين قوله حتى آذن وبين قوله إلى أن آذن۔ترجمہ:اگر مرد کہے تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر سے نکلی مگر میری اجازت کے بغیر یا میرے حکم سے یا رضامندی سے یا میرے علم سے، یا کہا تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر سے نکلی مگر میری اجازت کے بغیر یا میرے حکم سے یا رضامندی سے یا میرے علم سےتوفقہاء کے نزدیک یہ ہر مرتبہ اجازت پر محمول ہوگا ۔ یہاں تین مسائل ہیں، پہلا یہی اور دوسرا یہ کہ وہ کہے تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر سے نکلی مگریہ کہ میں تجھے اجازت دوں یا حتی کہ میں تجھے اجازت دوں۔ بہرحال پہلے مسئلے میں تو اسکا حکم وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا کہ یہ ہر بار اجازت پر محمول ہوگایہاں تک کہ اگر اس نے عورت کو ایک بار اجازت دے دی پھر وہ نکلی پھر لوٹ آئی پھر بلااجازت نکلی حانث ہوگا، اسی طرح اگر عورت کو ایک بار اجازت دے دی پھر نکلنے سے پہلے ہی نکلنے سے منع کردیاپھر وہ اسکے بعد نکل گئی حانث ہوجائے گا۔کیونکہ اس نے ہر مرتبہ نکلنا وقوع طلاق کے لئے شرط قرار دیا ہے اور اس نکلنے کو مستثنٰی قرار دیا ہے جو اجازت کے ساتھ ملا ہوا ہوکیونکہ اسکے قول باذنی میں با ء الصاق کے لئے ہے اہل لغت نے یہی فرمایا ہے۔بہرکیف دوسرا مسئلہ تو اسکا جواب یہ ہے کہ یہ ایک بار اجازت پر محمول ہوگاحتی کہ اگر مرد نے اس عورت کو ایک بار نکلنے کی اجازت دے دی پھر وہ گھر سے نکلی پھر لوٹ آئی پھر بلااجازت نکلی تو حانث نہ ہوگا، اور یونہی اگر عورت کو ایک بار اجازت دے دی پھر نکلنے سے پہلے ہی نکلنے سے منع کردیاپھر وہ اسکے بعد نکل گئی حانث نہ ہوگا۔کیونکہ کلمہ حتٰی ، کلمہ غایت ہے، اور کلمہ الٰی ، کلمہ انتہاء غایت ہے سو یونہی کلمہ حتٰی کا بھی حکم ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس کے قول '' حتٰی آذن ''اور ''الٰی ان آذن ''میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 3 ص 43)

    خلاصہ یہ ہوا کہ عورت کوتین طلاقیں واقع ہوگئیں ، اورتین طلاقیں واقع ہونے کے بعدمیاں بیوی کا ساتھ رہنا حرام ہے ،اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالی ہے:'فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ''ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدود ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''( البقرہ 230)

    حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك :ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 12ص 84 رضا فاؤنڈیشن کراچی) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 صفر المظفر 1446ھ/ 21 اگست 2024 ء