سوال
لڑکی کی شادی 19 مارچ 2019 کو ہوئی ، شادی کے 5 ماہ بعد لڑکے والوں نے لڑکی کو ماں باپ کے گھر بھیج دیا اور پھر مزید دو ماہ بعد طلاق نامہ بھیج دیا ۔(طلاق نامہ سوال کے ساتھ منسلک ہے)کیا اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی۔
نوٹ : طلاق نامہ پر تین طلاقیں اس انداز سے درج تھیں ، میں شہباز عبداللہ ولد عبداللہ ہارون اپنی زوجہ رابعہ بنت عبدالماجد کو طلاق دیتا ہوں، میں شہباز عبداللہ ولد عبداللہ ہارون اپنی زوجہ رابعہ بنت عبدالماجد کو طلاق دیتا ہوں، میں شہباز عبداللہ ولد عبداللہ ہارون اپنی زوجہ رابعہ بنت عبدالماجد کو طلاق دیتا ہوں۔
نیز طلاق نامہ پر لڑکے کے دستخط اور انگوٹھے کے نشان بھی ہیں ۔اور لڑکا ان تمام چیزوں کی تصدیق بھی کرتا ہے۔
سائل:عبدالغنی :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں رابعہ بنت عبدالماجد کو تین طلاق واقع ہوچکی ہیں ، اب وہ لڑکے کے لیے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے : ''اذا قال لامراتہ : انت طالق و طالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلاثا ''ترجمہ: جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اور طلاق ہے،اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہیں کیا ،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں۔( فتاوی عالمگیری ج1ص390)
حاشیہ شامی و عالمگیریہ میں ہے :واللفظ لہالْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ:ترجمہ: کتابتِ (طلاق ) کی دو قسمیں ہیں ،1: مرسومہ۔2: غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں، مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح) مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین ےا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اور غیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں)طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اس مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔( شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246،عالمگیریہ کتاب الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414)
طلاق نامہ، مرسومہ طلاق کی ہی صورت ہے لہذا آپ کی بیوی کو طلاق نامہ کے مطابق تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔جس کے بعد وہ لڑکے کے لئے حرام ہوچکی ہیں۔اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ 'ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدود ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''( البقرہ 230)
حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك :ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 12ص 84 رضا فاؤنڈیشن کراچی)
نوٹ: یہ بات یاد رکھیں کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا شریعت میں سخت گناہ ہے،قرآنِ پاک کےبتائےہوئےطریقےکےخلاف،بلکہ قرآن پاک کےساتھ ایک طرح کا کھیل اور مذاق ہے،جیساکہ ایک حدیث اس بات کی غمازی کرتی ہے: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقْتُلُهُ؟ترجمہ: رسول اللہﷺکوایک شخص کےمتعلق یہ اطلاع ملی کہ اس نےاپنی بیوی کوایک ساتھ تین طلاق دےدی ہیں،توآپ ﷺسخت غصہ کی حالت میں کھڑےہوگئےاورارشادفرمایا کہ:ابھی جب کہ میں تمہارےدرمیان موجودہوں،کیا کتاب اللہ سےکھیلاجائےگا؟ (یعنی ایک ساتھ تین طلاق دینا قرآنِ پاک کے بتائے ہوئے طریقہٴ طلاق سے کھیل ہے)اس وقت ایک صحابی کھڑےہوگئے،اورعرض کیا کہ:یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اس آدمی کوقتل ہی نہ کردوں،جس نےیہ حرکت کی ہے؟(سنن نسائی، کتاب الطلاق، باب الثلاث المجموعۃ ومافیھا حدیث نمبر،3401)
لیکن اگر کسی نے ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی تو وہ باتفاق ائمہ اربعہ کے واقع ہوجائیگی۔
طلاق دینے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جس طہر(پاکی کے ایام جو حیض کے علاوہ ہوتے ہیں اور اُن دنو ں میں تعلق زوجین حلال ہوتا ہے) میں تعلق قائم نہیں کیا اس میں ایک طلاق دے ، مثلاوہ اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے ایک طلاق دی، اس طرح وہ عورت اسکے نکاح سے من وجہ نکل جائےگی اور عدت میں چلی جائےگی ، اور جیسے ہی عدت ختم ہوگی ویسے ہی آپکے نکاح سے مکمل نکل جائے گی ۔اب اگر بعد میں دوبارہ ملنا چاہیں تو صرف نیا نکاح اور نیا حق مہر طے کرنا ہوگا۔لیکن یاد رہے کہ طلاق ایک دی جائے یا دو یا تین، عورت سے رشتہ ہر صورت میں ختم ہوگا مگرایک یا دو طلاق دینے کی صورت عدت گزرنے کے بعد اسی عورت سے دوبارہ نکاح جائز ہوگا مگر تین کے بعد دوبارہ نکاح بغیر حلالے کے نہیں ہوسکتا ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29 ربیع الاول 1441 ھ/27 نومبر 2019ء