سوال
گھریلو لڑائی جھگڑوں کی بنیاد پر میری بیٹی کو اسکے شوہر نے طلاق دے دی اس طور پر دی کہ میری بیٹی اس سے تنگ ہوکر ہمارے گھر آگئی تو شوہر نے ہمارے چوکیدار کو طلاق نامہ دیا اور لڑکی کو وائس کیا کہ میں نے طلاق نامہ بھجوادیا ہے اس پر دستخط نہیں کئے اگر آپ ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو دستخط کردینا پھر میں لے طلاق نامہ لے جاوں گا طلاق ہوجائے گی، اور اگر ساتھ رہنا ہے تو بغیر کسی شرط کے بیگ پیک کرلینا میں تمہیں لے جاوں گا۔ لڑکی نے دستخط کردیئے ہیں اب سوال یہ ہے کہ طلاق ہوگئی یا نہیں ؟ اگر ہوگئی تو عدت و حق مہر کی تفصیل بتادیں۔
شوہر سے بات کی تو انہوں نے تصدیق کی کہ میں نے طلاق دینے کے لئے ہی طلاق نامہ بھیجا تھا کہ اگر لڑکی دستخط کردے تو طلاق ہے۔
سائلہ:زوجہ عبدالمجید: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب شوہر نے طلاق کو اس طلاق نامہ کے ذریعے بیوی کے دستخط پر موقوف کردیا بعد ازاں بیوی نے دستخط کردیئے تو بلاشبہ اس طلاق نامہ کے ذریعے لڑکی کو طلاق واقع ہوگئی پھر چونکہ اس طلاق نامہ پر تین طلاقیں موجود ہیں تو اس لئے تین طلاقیں ہی ہونگی، اب عورت پر فوراً عدت لازم ہے۔ اور مرد پر لازم ہے کہ اسکا مکمل حق مہر ادا کرے، نیز اگر لڑکی کا سامان جہیز وغیرہ لڑکے کے پاس ہے تو وہ بھی لوٹانا لازم ہے کہ جہیز خاص عورت کی ملک ہوتا ہے۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ
مرد کا وقوع طلاق کو عورت کے دستخط پر موقوف کرنا تعلیق ہے اور تعلیق طلاق کا حکم یہ ہے کہ جس چیز پر طلاق کو معلق کیا ہے اس چیز کے وجود کےبعد طلاق واقع ہوجائے گی لہذا جب عورت نے دستخط کردیئے تو تعلیق کے پائی جانے کے سبب طلاق واقع ہوگئی۔
تنویر الابصار مع الدر المختار (باب التعلیق ،ج:3ص:341،طبع:دار الفکر ،بیروت)میں تعلیق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى۔اعلٰی حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ اس عبارت کی وضاحت کر تے ہو ئے فر ما تے ہیں :تعلیق ربطِ مضمونِ جملہ بمضمونِ آخر ہے نہ کہ خبطِ مضمون بربطِ آخر ان دخلت الدار فانت طالق (اگر تو گھر میں داخل ہو تو تجھے طلاق) کہنے والے نے انت طالق کے مفادِ شرعی کو دخولِ دار پر معلق کیا تو ہنگامِ دخول اسی مفاد کا نزول ہوگا۔(اور وہ طلاق ہے)۔(فتاوی رضویہ ،باب التعلیق ،ج13ص137)
تعلیق کے حکم سے متعلق الہدایہ مع البنایہ میں ہے:(وإذا أضافه) أي أضاف الرجل الطلاق (إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) لأن المعلق بالشرط كالمنجز عند وجود الشرط (وهذا بالاتفاق)ترجمہ:جب کوئی شخص طلاق کو معلق کر دے کسی شرط پر تو شرط کے پائے جانے پر واقع ہو جائے گی جیسے کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے "اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو طلاق والی ہے "اور یہ اس لیئے ہے کہ کسی شیء کو شرط کے ساتھ معلق کرنا ایسا ہی ہے جیسے شرط کے پائے جانے پر نافذ کرنا ،اور اس پر سب کا اتفاق ہے ۔( الہدایہ مع البنایہ ،باب الایمان فی الطلاق ،ج:5،ص:413،طبع:دارالکتب العلمیہ)
جس طرح زبان سے دی جانے والی طلاق مؤثر ہوتی ہیں یونہی تحریری طلاق بھی مؤثر ہوتی ہے، کیونکہ تحریر عند الشرع خطاب کے درجے میں ہوتی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے:القلم احد اللسانین ۔ترجمہ:قلم دوزبانوں میں سے ایک ہے۔(ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ،جلد9ص 675)
حاشیہ شامی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے واللفظ لہ:الْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ۔ ترجمہ: کتابتِ (طلاق ) کی دو قسمیں ہیں ،(1) مرسومہ (2) غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں۔مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح) مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین یا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اورغیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں) طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اگر مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔(حاشیہ شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246،عالمگیریہ کتاب الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414)
جدالممتار میں سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :ولوقال للکاتب : اکتب طلاق امراتی '' اختلفوا فیما لو امر الزوج بکتابۃ الصک فقیل :یقع وھو اقرار بہ وقیل : ھو توکیل فلا یقع حتی یکتب وبہ یفتٰی وھو الصحیح فی زماننا۔ترجمہ: اگر کاتب سے کہا میری بیوی کی طلاق لکھ دو۔ اس میں اختلاف ہے اگر شوہر نے طلاق لکھنے کا حکم دیا تو ایک قول یہ ہے کہ یہ اقرار ہے واقع ہوجائے گی ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جب تک لکھ کر نہ دے اس وقت تک واقع نہ ہوگی ۔ اسی پر فتوٰی ہے۔اور ہمارے زمانے میں یہی صحیح ہے۔(جدالممتار علی ردالمحتار جلد 5 ص 57،داراہل السنہ)
عدت کے احکام :
عورت پر عدت لازم ہے ۔ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ہیں ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےعدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔ (البقرہ 288)
دوسری جگہ ارشاد ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)
نکاح کے وقت جو مہر مقرر ہوجائے وہ بیوی کا حق ہوتاہے، اور شوہر پر اس کا ادا کرنا واجب ہو تاہے ، چنانچہ مہر مؤکدہونے کے بعداگر بیوی نے معاف نہ کیا ہو توطلاق دینے سے ساقط نہیں ہوتالہذا شوہرپرپورا مہرادا کرنالازم ہوتاہے۔ہدایہ میں ہے: وإذا خلا الرجل بامرأته وليس هناك مانع من الوطء ثم طلقها فلها كمال المهر۔ترجمہ:اور جب مرد عورت سے خلوت اختیار کرلے اور وہاں وطی سے مانع کچھ نہ ہو پھر طلاق دے دے تو اس عورت کو مکمل مہر ملے گا۔(الھدایۃ، کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:56)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 ذوالعقدہ 1445ھ/ 13 مئی 2024 ء