لوگوں کے سامنے طلاق کا اقرار
    تاریخ: 30 جنوری، 2026
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 698

    سوال

    میرے شوہر نے فون پہ میرے نانا کواور ماموں کوالگ الگ کہا کہ میں نے ناز (میرانام ہے) کو طلاق دے دی ہے۔آکر لے جائیں پھر جب میرے گھر والے آئے تو انہوں نے میرے کردار پر الزام لگائے اور باتوں باتوں میں میرے گھر والوں کو کہا کہ کیا اگر آپ کی بیوی کریکٹر لوز ہو تو کیا آپ لوگ اپنی بیوی کو طلاق نہیں دیتے ؟تو کیامیں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا؟

    اور یہ الفاظ انہوں نے 2سے 3 بار کہے ہیں، اور اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسے بولنے سے طلاق نہیں ہوتی کیونکہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی، میرے اس مسئلے کا شرعی طور پر حل بتائیں۔

    سائلہ: ناز

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مفتی کا کام پوچھی گئی صورت کا حکم شرع بیان کرنا ہے واقعے کی تحقیق مفتی کے ذمے لازم نہیں ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں دو لوگوں کو الگ الگ کہے گئے یہ الفاط "میں نے ناز کو طلاق دے دی ہے " سےدو طلاق رجعی واقع ہوگئیں

    مفتی امجد علی اعظمی بہار شریعت حصہ آٹھ ص 117 میں رقمطراز ہیں عورت کو طلاق نہیں دی ہے مگر لوگوں سے کہتا ہے میں طلاق دے دی تو قضاءً ہوجائے گی اور دیانۃً نہیں۔(بحوالہ الفتاوی الخیریہ ص 37)

    لہذا ہیں اب جب تک عدت میں ہیں رجوع کا حق حاصل ہے کہ وہ زبان سے کہہ دیں کہ میں نے رجوع کیا یا میاں بیوی والے معاملات کرلے تو رجوع ثابت ہوجائے گا ۔

    تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الطلاق باب الرجعۃ جلد 3ص 398 میں ہے :وَتَصِحُّ (بِنَحْوِ رَجَعْتُكِ) (وَ) بِالْفِعْلِ مَعَ الْكَرَاهَةِ(بِكُلِّ مَا يُوجِبُ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ) كَمَسٍّ وَلَوْ مِنْهَا اخْتِلَاسًا، أَوْ نَائِمًا (ملخصا) ترجمہ: اور اس '' میں نے تجھ سے رجوع کیا''سے رجوع درست ہے ، اور ہر اس فعل سے بھی رجوع درست ہے جو حرمت مصاہرت ثابت کردے، جیسا چھونا(شہوت کے ساتھ) اگر چہ نیند وغیرہ میں چھوئے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں دو طلاقیں واقع ہو گئیں ہیں اور عدت کے اند ر بغیر نکاح کئے رجوع کرسکتے ہیں اور عدت کے بعد نکاح جدید کے ساتھ دوبارہ ایک دوسرے کے میاں بیوی بن سکتے ہیں،لیکن اب صرف انکو ایک طلاق کا حق باقی ہے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی