سوال
میرا نکاح جس لڑکی سے ہوا ، اس لڑکی کے ایک لڑکے کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں جس کا ثبوت میرے پاس ویڈیو کی صورت میں موجود ہے اور میری بیوی خود اس بات کا اقرار کرتی ہے جبکہ جس لڑکے سے تعلق ہے وہ میرا رشتہ دار ہے۔ اس کے والدین کا کہنا ہے اسکے ساتھ جو چاہے کرو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔میرا سوال یہ ہے کہ اگر لڑکی کو طلاق دوں تو مجھ پر گناہ تو نہیں ہوگا؟ نیز اگر میں اسکو معاف کردوں تو کیا ایسا کرسکتا ہوں یا نہیں ؟ دونوں سوالوں کے جواب ارشاد فرمائیں ۔
سائل: عبدالمامون :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو حکمِ شرع یہ ہے کہ ایسی عورت کو طلاق دینے سے مرد پر کوئی گناہ نہ ہوگا ۔ بلکہ اگر میاں بیوی کو اس بات کا خوف ہو کہ وہ شریعت کے قائم کردہ حدود کی پاسداری نہیں کر سکیں گے تو اس صورت میں مرد کا اپنی بیوی کو طلاق دینا مستحب ہے۔ یعنی طلاق دینے کی صورت میں مردکو ثواب ملے گا۔لیکن واضح رہے کہ مر د پر طلاق دینا واجب نہیں ہے محض مستحب ہے۔لہذا اگر عورت صدقِ دل سے توبہ کر لےاور آئندہ زندگی بھر کبھی بھی ایسا کوئی عمل نہ کرنے کا عزمِ مصمم (پختہ ارادہ) کرلےتو مرد کو چاہئے کہ وہ اسےمعاف کرکے اپنے ساتھ رکھ لے۔
ارشادِ باری تعالی ہے:فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ۔ترجمہ:پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے۔(البقرة: 229)
اس بارے میں البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:وَفِي آخِرِ حَظْرِ الْمُجْتَبَى لَا يَجِبُ عَلَى الزَّوْجِ تَطْلِيقُ الْفَاجِرَةِ وَلَا عَلَيْهَا تَسْرِيحُ الْفَاجِرِ إلَّا إذَا خَافَا أَنْ لَا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَفَرَّقَا۔ترجمہ:مرد پر فاجرہ عورت کو طلاق دینا واجب نہیں اور نہ ہی عورت پر فاجر مرد سے طلاق لینا واجب ہے مگر جب ان دونوں کو خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گےتو ان دونوں کے علیحدہ ہونے میں کوئی حرج نہیں۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ، ج:3:ص:115)
یوں ہی الدرالمختار مع ردالمحتار میں ہے:أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لَوْ مُؤْذِيَةً۔ترجمہ:اگر عورت مرد کو تکلیف پہنچاتی ہو(خواہ کسی بھی طریقے پر ہو) تواسے طلاق دینا مستحب ہے۔( الدر مختار ابنِ عابدین شامی،ج:3،ص:50)
سیدی اعلٰی حضرت ارشاد فرماتے ہیں: زانیہ کو طلاق دینا شوہر پر لازم نہیں۔درمختار میں ہے: لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ۔ترجمہ: فاجرہ عورت کو طلاق دیناخاوند پر واجب نہیں ہے۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 13 ص617)
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: جاہلوں میں جو یہ مشہور ہے کہ عورت اگر معاذاﷲ بدوصفی کرے تو نکاح جاتا رہتا ہے محض غلط بات ہے، اور جب نکاح باقی ہے تو اس صورت میں زید پر فرض ہے کہ یا تو اسے طلاق دے دے یا اس کے نان نفقہ کی خبر گیری کرے ورنہ یوں معلق رکھنے میں زید بیشک گنہگار ہے اور صریح حکم قرآن کا خلاف کرنے والا، اور صریح حکم قرآن کا خلاف کرنے والا، فلاتمیلو اکل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ اور کلی میلان نہ ہو کہ بیوی کو معلق کر چھوڑو۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 06 ص617)
خلاصہ یہ ہے کہ فاجرہ عورت کو طلاق دینا واجب نہیں البتہ وہ اپنے گناہوں سے باز نہیں آتی تو اسے طلاق دینا مستحب ہےیعنی ثواب ہے۔اگر وہ صدقِ دل سے توبہ کر لیتی ہے تو مرد کو چاہئے کہ وہ اسےاپنے ساتھ رکھے۔
طلاق کا طریقہ:
طلاق کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جس طہر(پاکی کے ایام جو حیض کے علاوہ ہوتے ہیں اور اُن دنو ں میں تعلق زوجین حلال ہوتا ہے) میں تعلق قائم نہیں کیا اس میں ایک طلاق دے ، مثلاوہ اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے ایک طلاق دی، اس طرح وہ عورت اسکے نکاح سے من وجہ نکل جائےگی اور عدت میں چلی جائےگی ، اور جیسے ہی عدت ختم ہوگی ویسے ہی آپکے نکاح سے مکمل نکل جائے گی ۔ یہاں یہ مسئلہ بھی ذہن نشین رہے کہ طلاق ایک دی جائے یا دو یا تین، عورت سے رشتہ ہر صورت میں ختم ہوجائےگا ۔لہذا بہتر یہی ہے کہ مرد اگر بحالت مجبوری طلاق دینا چاہے تو فقط ایک طلاق دے، اسی میں زوجین کی بھلائی ہے، ہوسکتا ہے کوئی سمجھوتہ ہوجائے اور زوجین کے درمیان پھر سے میلان پیدا ہوجائے، اور دوبارہ نکاح کی ترکیب بن جائے، کیونکہ ایک یا دو طلاق کے بعد رجوع یا نکاح جدید کا سلسلہ ممکن ہے جبکہ تین طلاقوں کے بعد نکاح ممکن نہیں سوائے یہ کہ حلالہ شرعی کیا جائے۔طلاق یافتہ کی عدت تین حیض (اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے)اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہےوَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ:228)
والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔(الطلاق :4) ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 محرم الحرام 1443 ھ/30 اگست2021 ء