سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کی نوک زمین پر لگانے سے نماز کا حکم ؟

    Sajde Mein Paon Ki Ungliyon Ki Nok Zameen Par Lagane Se Namaz Ka Hukm

    تاریخ: 16 جولائی، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 1632

    سوال

    اگر کسی نمازی کی سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کی نوک زمین پر لگائی تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی ؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سے پہلے یہ بات واضح رہے کہ سجدے کی حالت میں دونوں پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر لگانا فرض، اکثر انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگانا واجب اور تمام انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگانا سنت ہے۔ بعد ازاں، پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ اگر سجدے میں پاؤں کی تمام انگلیوں کی صرف نوکیں (یعنی سَرے) زمین پر لگیں اور کسی بھی انگلی کا پیٹ زمین پر نہ لگایا ، تو ایسی صورت میں نماز ادا ہی نہیں ہوئی ۔ اور اگر ایک یا دو انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگ گئے، لیکن اکثر انگلیوں کے پیٹ زمین پر نہیں لگے، تو فرض ادا ہو جائے گا، لیکن اکثر انگلیوں کے پیٹ زمین پر نہ لگانے کی وجہ سے نماز مکروہِ تحریمی اور واجب الاعادہ ہوگی۔

    سجدہ کے صحیح ہونے کے لیے پاؤں کی ایک انگلی کا رکھنا شرط ہے اس بارے 'مراقی الفلاح ' میں ہے : و من شروط صحة السجود وضع إحدى اليدين وإحدى الركبتين في الصحيح كما قدمناه و وضع شيء من أصابع الرجلين موجها بباطنه نحو القبلة حالة السجود على الأرض ولا يكفي لصحة السجود وضع ظاهر القدم‘‘.ترجمہ : اور سجدے کی صحت کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ صحیح قول کے مطابق دونوں ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ اوردو گھٹنوں میں سے ایک گھٹنا زمین پررکھنا، جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔اور سجدے کی حالت میں پاؤں کی انگلیوں میں سے کسی انگلی کا کچھ حصہ اس طرح زمین پر رکھنا ضروری ہے کہ اس کا پیٹ قبلے کی طرف ہو، اور صرف پاؤں کا ظاہری حصہ زمین پر رکھنے سے سجدہ درست نہیں ہوگا۔( مراقي الفلاح شرح متن نور الإيضاح،كتاب الصلاة،باب شروط الصلاة وأركانها،ص:87،المكتبة العصرية)

    اس بارے اعلحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن نے تفصیل سے کلام کیا آخر میں اس ساری گفتگو کا خلاصہ نقل کرتے ہوئے فرمایا:’’اس تمام گفتگوسے آشکار ہو گیاکہ حالت سجدہ میں قدم کی دس انگلیوں میں سے ایک کے باطن پر اعتماد مذہبِ معتمد اور مفتیٰ بہ میں فرض ہے اور دونوں پاؤں کی تمام یا اکثر انگلیوں پر اعتماد بعید نہیں کہ واجب ہواس بنا پر جو حلیہ میں ہے اور قبلہ کی طرف متوجہ کرنا بغیر کسی انحراف کے سنت ہے اس یکتا،منفرد اور روشن گفتگو کو غنیمت جانو شاید اس فقیر کے علاوہ کسی اور کے ہاں تم کو نہ ملے اللہ تعالیٰ کے لیے ہی حمد وثناہے ۔(فتاوی رضویہ ،ج:7،ص:376،رضا فاؤنڈیشن )

    صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی ٰ علیہ لکھےہیں :’’ زمین پر جمنا سجدہ کی حقیقت ہے اور پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط۔ تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے، نماز نہ ہوئی بلکہ اگر صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی، جب بھی نہ ہوئی اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں۔(بہار شریعت ،ج:1،حصہ :3،ص:513 ،مکتبہ المدینہ )واللہ تعالى اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد سجاد سلطانی

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    04 جمادی الاولی 17/1448 اکتوبر2026 کو جاری کیا گیا