الگ گھر کا مطالبہ کرنا کیسا؟
    تاریخ: 23 فروری، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 857

    سوال

    میں ایک جوائنٹ فیملی میں رہتی ہوں ، میرے شوہر اور ساس بہت اچھے ہیں ، میرے سسر مجھے گالی گلوچ کرتے ،میری ہر بات پر اعتراض کرتے ہیں دن رات میرے پیچھے لگے رہتے ہیں ، میرے کھانے ،پینے پر نظر رکھتے ہیں میرے شوہر سے بھی کہہ چکے ہیں کہ تمہاری بیوی بہت کھاتی ہے۔انکی وجہ سے میری زندگی خراب ہوگئی ہے ، میری ساس بھی کہتی ہے برداشت کرو انکی تو عادت ہے ایسا کرنے کی۔ اب میں نے اپنے شوہر سے تقاضا کیا ہے کہ مجھے الگ گھر چاہیے ؟میری چار ماہ کی بچی بھی ہے میں چاہتی ہوں کہ وہ اچھے ماحول میں رہے ،اس صورت حا ل میں اگر میرے شوہر الگ گھر لے کر رہتے ہیں تو کیا وہ گناہ گار تو نہیں ہوں گے۔میری ساس نہیں چاہتی الگ ہونا اور وہ میرے ساتھ بھی اچھی ہے تو کیا اس صورت میں ہمیں گناہ تو نہیں ہوگا۔برائے مہربانی قرآن و حدیث سے ہمیں ان باتوں کا جواب عنایت فرمادیں۔سائلہ: بمعرفت سنان : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اس مکان میں اگر آپ کی جان و مال اور عزت محفوظ ہےاورشرعی پردہ کے ساتھ ،ساتھ دیگر ضروریات زندگی بلا مشقت حاصل ہیں تو بلا وجہ شرعی الگ مکان کا تقاضہ کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ آپ کےشوہر کے ذمےآپکو ایک محفوظ گھر دینا تھا وہ دے چکے ۔لیکن اگر اس گھر میں آپ اذیت میں ہے(جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا )تو اس صورت میں الگ مکان دینا ہوگا ، اس صورت میں آپکے شوہر گناہ گار تو نہ ہونگے لیکن آپ کے ساتھ ساتھ والدین کا خرچہ بھی انکے ذمے ہی ہوگا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے : أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ [الطلاق: 6] ترجمہ: عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھراور انہیں ضرر نہ دو کہ ان پر تنگی کرو۔

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله وأهلها بقدر حالهما وبيت منفرد من دار له غلق ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وفي البحر: يشترط أن لا يكون في الدار أحد من أحماء الزوج يؤذيها(متصرفاً)۔

    اسی کے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں :لا يكفي ذلك إذا كان في الدار أحد من أحمائها يؤذيها، وكذا الضرة بالأولى(وقبل ھذا نقل عن الملتقظ )فإن المنافرة في الضرائر أوفر۔ترجمہ:اور مرد پر واجب ہے کہ وہ عورت کے لیئے ایک رہنے کے مکان کا انتظام کرے جس میں مرد اور عورت کے اہل خانہ(ماں،باپ ،بہن ،بھائی اور بالغ اولاد وغیرہ)نہ ہوں جو مرد وعورت کی حیثیت کے مطابق ہواور وہ ایک ایسا علیحدہ کمرہ ہو جس کو تالا کیا جا سکے اور اس میں گھر کے لوازمات بھی ہوں اور لوازمات سے مراد بیت الخلاء اور کچن ہے اور بحر میں ہے کہ گھر میں شوہر کےایسے رشتہ داروں کا نہ ہونا بھی شرط ہے جواس کو اذیت دیتے ہوں۔ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ"ایک ہی مکان میں علیحدہ کمرہ دینا کافی نہیں ہوگا جب گھر میں مرد کے رشتہ دار اس کو اذیت دیتے ہوں اور سوکن کی موجوگی میں بدر جہ اولی (الگ مکان)دینا ہوگایہ اس لیئے کہ سوکنوں میں منافرت زیادہ ہوتی ہے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار،مطلب فی مسکن الزوجۃ،ج:3،ص:600،طبع:دارالفکر،بیروت)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 16 رمضان المبارک 1440 ھ/22 مئی 2019 ء