سوال
اگر کوئی شخص اپنی موجودہ بیوی کی بھتیجی سے نکاح کا ارادہ کرلے یا نکاح کرلے تو کیا شرعی حکم ہوگا؟سائل:افتخار: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
محض ارادہ ہے تو منع کیا جائے اور بزور طاقت اسکے ارادہ کو پھیرا جائے ۔کیونکہ بیوی کی موجودگی میں اسکی بھتیجی سے نکاح حرام ہے۔اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ .ترجمہ: اور حرام ہے کہ تم دو بہنیں (نکاح میں)جمع کرو۔(النساء: 23)
صحیح بخاری میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ المَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلاَ بَيْنَ المَرْأَةِ وَخَالَتِهَا۔ ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :مرد (اپنے نکاح میں) عورت اور اسکی پھوپھی،یونہی عورت اور اسکی خالہ کو جمع نہ کرے۔(صحیح البخاری، باب لاتنکح المراۃ علی عمتھا، حدیث نمبر 5109)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :ہفتم دو محارم میں جمع کرنا، مثلاً ایک عورت نکاح میں ہے تو جب تک وہ نکاح میں رہے اس کی بہن پھوپھی خالہ بھتیجی بھانجی سے نکاح حرام ہے۔(فتاویٰ رضویہ،کتاب النکاح،جلد 11 ص 517)
اگر نکاح کرلیا تواس پر لازم ہے کہ فورا جدا ہوجائے،اور اس نکاح کے باطل ہونے کا اعلان عام کرے اوراعلانیہ اللہ کی بارگاہ میں اس گناہ کی معافی مانگے۔ دونوں ہرگز آپس میں میاں بیوی والے تعلقات قائم نہ کریں اگرازدواجی تعلق قائم کیا تودونوں سخت حرام کار،گناہ گار ہونگے ،ان پرتوبہ و استغفار کرنا لازم ہے ، نیز عورت پر عدت جبکہ مرد پر مہر (مہر مثل اور مہر مسمی میں سے جو کم ہو وہ) دینا لازم ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:وإن تزوج إحداهما بعد الأخرى جاز نكاح الأولى، وفسد نكاح الثانية ولا يفسد نكاح الأولى لفساد نكاح الثانية؛ لأن الجمع حصل بنكاح الثانية فاقتصر الفساد عليه ويفرق بينه وبين الثانية فإن كان لم يدخل بها فلا مهر ولا عدة، وإن كان دخل بها فلها المهر وعليها العدة لما بينا، ولا يجوز له أن يطأ الأولى ما لم تنقض عدة الثانية۔ترجمہ:اور ان دو عورتوں میں سے (کہ جن دونوں کا بیک وقت نکاح میں رکھنا حرام ہے)ایک سے پہلے نکاح کیا اور دوسری سے بعد میں تو پہلی کا نکاح جائز ہے اور دوسری کا نکاح فاسد ہے ،دوسرے نکاح کے فاسد ہونے کی وجہ سے پہلا نکاح فاسد نہ ہوگا کیونکہ ان دو عورتوں کا اجتماع نکاح ثانی سے حاصل ہوا ہے لہذا فساد اسی پر مقصور رہے گا اور اس مرد اور دوسری عورت کے درمیان جدائی کی جائے گی ، پھر اگر اس دوسری سے مرد نے دخول نہ کیا تونہ اسکا مہر لازم ہے اور نہ ہی عدت ہے، اور اگر دوسری سے دخول کیا تو مہر اور عدت دونوں لازم ہیں اور اس مرد کے لیے پہلی بیوی سے اس وقت تک وطی جائز نہیں جب تک دوسری کی عدت نہ گزر جائے۔( بدائع الصنائع کتاب النکاح۔جلد2 ص 263)
فتاویٰ فیض رسول میں ہے:جس عورت سے پہلے نکاح کیا وہ صحیح اور درست ہے اور دوسری سے نکاح فاسد و ناجائز ہے اس لیے زید کے حق میں پہلی بیوی حلال اور دوسری حرام ہے اور اگر غلطی سے دونوں سے ہمبستری کرلی تو دونوں حرام ہوگئیں لہذا جس سے پہلے نکاح کیا تھا اگر اسے نکاح میں رکھنا چاہتا ہے تو دوسری بیوی کی عدت گزرجانے سے قبل پہلی بیوی سے بھی تعلقات ناجائز و حرام ہیں بعد تمام عدت بیوی بنا سکتا ہے، اور اگر دوسری کو نکاح میں رکھنا چاہتا ہے تو پہلی بیوی کو طلاق دے کر اسکی عدت پوری ہونے کے بعد نکاح میں لا سکتا ہے ، غرض دونوں کو بیوی بنانا کسی طرح جائز نہیں ہے ایسا کرنے والا فاسق و بدکار سخت حرام کا مرتکب ہوگا ایسے شخص سے میل جول رکھنا سخت گناہ ہے لہذا زید(شوہر)بالاعلان توبہ کرکے صحیح طریقے سے مطابق شرع بیوی بنائے۔(فتاویٰ فیض رسول ، کتاب النکاح جلد 1 ص 595،596)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:06 ربیع الاول 1441 ھ/04 نومبر 2019 ء