ولیمہ کب کیا جائے
    تاریخ: 23 فروری، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 855

    سوال

    میرے لڑکے کی شادی 20 مئی 2023 مقرر ہوئی ہے ، میرا رادہ یہ ہے کہ میں 20 مئی کی صبح لڑکے کا نکاح کرکے لڑکی کو گھر لے آؤں گا اور اسی دن شام میں ولیمہ کردونگا یعنی دعوتِ ولیمہ سے قبل دونوں رات ساتھ نہیں گزاریں گے اور نہ ہی ازدواجی عمل کریں گے ۔ کیا ایسا کرنے میں کوئی شرعی قباحت ہے کہ نہیں؟

    سائل:راشد سجاد : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شبِ زفاف کے بعد جو دعوت کی جائے اسے ولیمہ کہا جاتا ہے لہذا ہر وہ دعوت جو رخصتی سے قبل یا رخصتی کے بعد مگر شبِ زفاف سے پہلے کی جائے اسے ولیمہ نہیں ہے ، اس سے نہ ولیمہ کی سنت ادا ہوگی، اور نہ اسکا ثواب ملے گا۔

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: شب زفاف کی صبح کو احباب کی دعوت ولیمہ ہے، رخصت سے پہلے جو دعوت کی جائے ولیمہ نہیں، یونہی بعد رخصت قبل زفاف۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 11 ص 256، رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    یاد رہے کہ ولیمہ کے لئے دخول (ازدواجی تعلق ) شرط نہیں ہے ، بلکہ شبِ زفاف گزارنا اگرچہ بلادخول محض خلوتِ صحیحہ کے ساتھ ہو کافی ووافی ہے۔ یہی راجح ہے جیساکہ عمدۃ القاری میں علامہ ملا علی قاری نے بعض مالکیہ کے حوالے سے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ولفظہ کذا : وَاسْتحبَّ بعض الْمَالِكِيَّة أَن تكون عِنْد الْبناء وَلو وقَع الدُّخُول عقيبها، وَعَلِيهِ عمل النَّاس۔ ( عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ، باب الصفرۃ المتزوج، ج 14 ص 112)

    ھندیہ میں ہے: ووليمة العرس سنة، وفيها مثوبة عظيمة، وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء ويذبح لهم، ويصنع لهم طعامًا۔ترجمہ: اور شادی کا ولیمہ مسنون ہے اس میں بڑا ثواب ہے اور ولیمہ یہ ہے کہ جب مرد عورت کو رخصت کرکے لے آئے تو اسے چاہیے کہ پڑوسیوں اور عزیز و اقارب کو دعوت دے اور انکے لئے جانور زبح کرے اور کھانا بنائے۔ (فتاوٰی ھندیہ ، جلد 3 ص 343)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضاقادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 13 ربیع الاول 1444 ھ/10 اکتوبر 2022 ء