سوال
میرا جس سے نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ہوئی تو اگر اسکے گھر والے بغیر طلاق دلائے کہیں اور نکاح کر دیں تو کیا یہ نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟سائل: طلحہ سیف: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سیدی اعلیٰ حضرت سےاسی قسم کا سوال کیا گیاکہ '' بغیر خالد(شوہر)کے طالق دئے ہندہ کا نکاح کرادینا اور میاں بیوی کی طرح دونوں کا اکٹھا رہنا کیسا ہے؟ اور نکاح کرانے والے حضرات او رجو لوگ اس نکاح سے راضی ہیں اور جوایسے آدمی سے میل جول رکھتے ہیں ان کے لئے کیا وعید اور حکمِ شرعی ہے؟
آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں :بے طلاق وہ کسی سے نکاح نہیں کرسکتی۔قال تعالٰی والمحصنٰت من النساء.ترجمہ: اﷲتعالٰی نے فرمایا:شادی شدہ( منکوحہ) عورت دوسروں کے لئے حرام ہیں۔جن لوگوں نے دانستہ یہ نکاح کرادیا سب زنا کے دلال ہوئے اور زید ہندہ زانی زانیہ۔اور اُن سب کے لئے عذابِ شدید نارِجہنم کی وعیدہے، یُونہی وُہ جو اس سے نکاح پر راضی ہوئے، نکاح نہیں زنا پر راضی ہوئے۔والرضا بالحرام وقد یکون کفرا والعیاذاباﷲ تعالٰی۔حرام فعل پر رضاحرام ہے،اور کبھی یہ رضا کفر ہوتی ہے۔والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ان سب سے مسلمانوں کو میل جول منع ہے،قال تعالٰی : وامّا ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکرٰی مع القوم الظٰلمین ترجمہ:خبردار شیطان تجھے بُھلا دیتا ہے یاد ہونے پرظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ اُن سے میل جول کرنے والے اگر اُس نکاح پر راضی یا اُسے ہلکا جانتے ہیں تو اُن کےلئے بھی یہی حکم ہے۔(فتاویٰ رضویہ کتاب النکاح جلد 12 ص 398رضا فاؤنڈیشن لاہور )۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:6محرم الحرام 1440 ھ/17ستمبر 2018 ء