بچہ گود لینے کے احکامات
    تاریخ: 23 فروری، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 858

    سوال

    میرے بیٹے کی شادی کو چار سال کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن وہ اولاد کی نعمت سے محروم ہے ۔گھر والوں کی خواہش ہے کہ کسی بچے کو گود لے لیا جائے۔سسرال میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر لڑکی گود لی جائے تو وہ شوہر کے لیے اور لڑکا لیا جائے تو وہ بیوی کے لیے نامحرم ہوگا؟ اس لیے نوزائیدہ بچہ گود نہ لیا جائے ۔ از روئے شرع رہنمائی فرمائیں کہ نوزائیدہ بچہ گود لینے کی ممانعت ہے؟نیز کیا نوزائیدہ لڑکی یا لڑکا میاں بیوی کے لیے نامحرم ہوں گے ؟ جب کہ وہ اولاد کی طرح اسکو پالیں۔ سائل:سید ظہیر حسین :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    کسی غریب ،نادار ماں باپ کی اولاد یا کسی عزیز کے بچے یا بچی کو حصول اجر وثواب کی نیت سے یاانسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت گود لینا ، پالنا ایک اچھا عمل ہے ۔ ایسا کرنے والا اللہ کریم کی بارگاہ میں اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔لیکن خود کو اس بچے یا بچی کا والد قرار دینا، اور اسکو اپنا حقیقی بیٹا یا بیٹی قرار دینا ،اسکی ولدیت تبدیل کرنا، یہ سب ناجائز و حرام امور ہیں ۔نیز گود لیا جانے والا بچہ ،گود لینے والے کا شرعا اور قانونا وارث نہیں بن سکے گا۔

    لہذا اگر عورت کوئی غیر محرم بچہ گود لے کر پالےتووہ بچہ نا محرم ہی رہے گا ۔لڑکا ہو تواسکے بالغ ہونے پرعورت کو اس سے پردہ شرعی کرنا لازم ہے اور لڑکی ہو تواسکے بالغہ ہونے پر مرد کواس سے پردہ شرعی کرنالازم ہوگا۔لیکن اگر اُسےدو سال کی عمر میں وہ عورت دودھ پلادے تو وہ بچہ رضاعی بیٹا یا بیٹی بن کر، دونوں کے لئے محرم ہو جائے گا۔اگر عورت کو دودھ نہ آتا ہو تو اس کی بہن یا ماں دودھ پلا دیں تویہ لڑکا اس عورت کا رضاعی بھانجا یا رضاعی بھائی بن کر، اس عورت کے لئے محرم ہو جائے گا۔اگر لڑکی لے پالک ہو تو اسے شوہر کی بہن یا ماں بھی دودھ پلا دیں تو وہ منہ بولے باپ کے لئے محرم ہو جائے گی۔قال اللہ تعالٰی:وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَآئَکُمْ اَبْنَآئَکُمْط ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاهِکُمْط وَاﷲُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِی السَّبِيْلَ ترجمہ: اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے (حقیقی)بیٹے بنایا، یہ سب تمہارے منہ کی اپنی باتیں ہیں اور اللہ حق بات فرماتاہے اور وہی (سیدھا) راستہ دکھاتا ہے۔(الاحزاب:آیت : 4)

    یوں ہی دوسری آیت میں ارشاد ہے :ادْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اﷲِج فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآءَ هُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّيْنِ وَمَوَالِيْکُمْط ترجمہ:تم اُن (مُنہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپ (ہی کے نام)سے پکارا کرو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ عدل ہے، پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو (وہ)دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔(الاحزاب:آیت : 5)

    حدیث پاک میں بھی اس کے بارے میں سخت وعید سنائی گئی ہے:عَنْ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ يَقُولُ: مَنِ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ.ترجمہ:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو اپنے باپ کے سوا کسی اور کے متعلق دعویٰ کرے اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔( بخاري، الصحيح، 6: 2485، رقم: 6385، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة، مسلم، الصحيح، 1: 80، رقم: 63، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي)

    اگرمدت رضاعت (دو سال کی عمر )میں دودھ پلا دیا تو لڑکا ہو یا لڑکی وہ محرم بن جائیں گے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ فِي بِنْتِ حَمْزَةَ لَا تَحِلُّ لِي يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ.ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے بارے میں فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں ہے کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔(بخاري، الصحيح، 2: 935، رقم: 2502، مسلم، الصحيح، 2: 1071، رقم: 1447)

    اسی طرح دوسری حدیث میں ہے :عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اﷲِ: إِنَّ اﷲَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ.ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو (رشتہ) نسب سے حرام کیا وہی رضاعت سے حرام فرمایا۔(ترمذي، السنن، 3: 452، رقم: 1146، بیروت، لبنان: دار احياء التراث العربي،أحمد بن حنبل، المسند، 1: 131، رقم: 1096، مصر: مؤسسة قرطبة)

    اور اگر دودھ نہ پلایا تو ان کا حکم دیگر نا محرم لوگوں کی طرح ہوگا: ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰی جُيُوْبِهِنَّص وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِی الْاِرْبَهِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِص وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّط وَتُوْبُوْٓا اِلَی اﷲِ جَمِيْعًا اَيُهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ترجمہ:اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی)اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ)کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دو پٹے (اور چادریں)اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی)ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بنائو سنگھار کو (کسی پر)ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کمسنی کے باعث ابھی)عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنیٰ ہیں)اور نہ (چلتے ہوئے)اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے)ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے)پوشیدہ کیے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر)فلاح پا جائو۔(النور،آیت 31)واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 13 صفر المظفر 1440 ھ/22اکتوبر 2018 ء