سوال
السلام علیکم مفتی صاحب
ڈھائی تولہ سونا اور ادھار رقم پچاس ہزار جو ابھی تک نہیں مل سکی اسکے علاوہ کیش تین لاکھ کی رقم ہے اسکی زکوۃ کتنی ہوگی ۔پچاس ہزار کی رقم کئی بار قرضہ دیکر واپس بھی لے چکی ہوں ۔ اسکا وضاحت کے ساتھ حل بتادیں۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سونے کا نصاب یعنی سونے کی وہ مقدارجس پر زکوۃ لازم ہوتی ہے ،بیس مثقال یعنی ساڑھے سات تولہ ہے اور چاندی میں دوسو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ ہے۔اگر اتنے مال پر سال گزر جائے تو اس مال پر زکوۃ لازم ہے یعنی اسکا چالیسواں حصہ دینا لازم ہے۔
سنن ابی داؤد کتاب الزکوۃ باب زکاۃ السائمۃ ج 1ص143حدیث نمبر1573:عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ فَإِذَا كَانَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ، فَمَا زَادَ، فَبِحِسَابِ ذَلِكَ»حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوجائیں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں سے پانچ درہم زکوۃ ہے اور جب تمہارے پاس بیس دینار ہوجائیں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں سےنصف دینار زکوۃ ہے۔
تنویرالابصار مع الدر المختار کتاب الزکوۃ باب الاموال ج2 ص295میں ہے:نِصَابُ الذَّهَبِ عِشْرُونَ مِثْقَالًا وَالْفِضَّةِ مِائَتَا دِرْهَمٍ ترجمہ: سونے کا نصاب بیس مثقال (ساڑھے سات تولہ )ہے اور چاندی کا نصاب دوسو درہم ( ساڑھے باون تولہ) ہے۔
لیکن اگر کسی کے پاس سونا ہے جو نصاب کی مقدار کو نہیں پہنچتا لیکن اسکے پا س سونے علاوہ کچھ رقم بھی ہے تو اس رقم کو اور سونے کی ملا کردیکھیں اگر چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے تو اس پر زکوۃ لازم ہے ۔
اور اس وقت آپ کے پاس ڈھائی تولہ سونے کے علاوہ کیش تین لاکھ رقم ہے اور پچاس ہزار جو آپ نے ادھار دی ہوئی ہے ،وہ چاندی کے نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زائد ہیں اس طرح کہ ایک تولہ چاندی کی قیمت اس وقت 780روپے ہے تو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت40950روپے ہوئی،لہذا آپ پر زکوۃ لازم ہے، اب آپ سونے کی قیمت لگا کر اور جورقم آپکے پاس کیش کی صورت میں ہے اس تمام کا چالیسواں حصہ بطورِ زکوۃ نکالنا فرض ہے۔
اور جو رقم آپ نے قرض دی ہوئی ہےاس پر بھی زکوۃ لازم ہے لیکن ادا کرنا اس وقت واجب ہوگا جبکہ مقدار نصاب کا کم از کم پانچواں حصہ وصول ہوجائے تو اس پانچوے حصے کی زکوۃ دینا لازم ہوگا ۔
تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الزکوۃ باب الاموال جلد 2ص 305میں ہے(وَ) اعْلَمْ أَنَّ الدُّيُونَ عِنْدَ الْإِمَامِ ثَلَاثَةٌ: قَوِيٌّ، وَمُتَوَسِّطٌ، وَضَعِيفٌ؛ (فَتَجِبُ) زَكَاتُهَا إذَا تَمَّ نِصَابًا وَحَالَ الْحَوْلُ، لَكِنْ لَا فَوْرًا بَلْ (عِنْدَ قَبْضِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا مِنْ الدَّيْنِ) الْقَوِيِّ كَقَرْضٍ:ترجمہ: جانیں کہ اما م اعظم کے نزدیک دین تین طرح کا ہے ،قوی،متوسط اور ضعیف ۔تو دین قوی جیسے قرض اسکی زکوۃ لازم ہے جب نصاب مکمل ہوجائے اور سال گزر جائے لیکن یہ فورا لازم نہیں بلکہ دین میں سے چالیس درہموں پر قبضہ کے وقت لازم ہے ۔
اسکے تحت شامی میں ہے:وَيَتَرَاخَى الْأَدَاءُ إلَى أَنْ يَقْبِضَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَفِيهَا دِرْهَمٌ:ترجمہ: اور ادا مؤخر رہے گی حتی کہ چالیس درہموں پر قبضہ کی صورت میں ایک درہم لازم ہوگا ۔
اسکی مثال یوں سمجھیں مثلا 35000ہزار روپے نصاب ہو تو جب 7000روپے وصول ہوجائیں گے تو اس وقت اسکا چالیسواں حصہ یعنی 875روپے بطور زکوۃ دینے ہونگے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی