سوال
کوئی مرد کسی عورت سے اس شرط پر نکاح کرے کہ عورت اپنے تمام حقوق یا چند حقوق معاف کردے تو کیا ایسا نکاح جائز ہے یا نہیں؟سائل:ندیم : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سوال انتہائی مبہم ہے ، بہر حال اگر مرد عورت سے ہر طرح کے حقوق مثلا مہر، نفقہ، سکنٰی ، حق زوجیت، والدین سے ملنے کا حق وغیرہ سے برات کی شرط پر نکاح کررہا ہے تواس میں بعض شروط فاسدہ ہیں ۔جسکا حکم یہ ہے کہ نفسِ نکاح تو درست ہوگا کہ نکاح شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ وہ شرط از خود فاسد ہوجائیں گی۔
لہذا عورت کے لئے دخول کے بعدمہرِ مثل لازم ہوگا ، مرد پر رہائش دینا ضروری ہوگا، قضاء ایک بار جماع کرنا واجب ہونا ، عورت کو ہفتے میں ایک بار والدین سے ملنے کی اجازت ہوگی البتہ والدین کے ہاں بغیر اجازتِ شوہر رات نہیں گزارسکتی بلکہ ضروری ہے کہ رات کو شوہر کے گھر واپس لوٹ جائے۔ اور یہی نفقہ کا حکم ہے ، کہ معاف نہ ہوگا بلکہ شوہر پر لازم ہوگا۔
محرر ِمذہبِ حنفی امام محمد بن حسن شیبانی لکھتے ہیں:وكل شَرط فِي النِّكَاح فَلَيْسَ بجائز وَالنِّكَاح جَائِز لَا يُبطلهُ ذَلِك الشَّرْط الا الطَّلَاق، وَقَالَ مُحَمَّد وَكَذَلِكَ اُخْبُرْنَا سُفْيَان الثَّوْريّ عَن مَنْصُور بن الْمُعْتَمِر عَن ابراهيم النَّخعِيّ رَضِي الله عَنهُ قَالَ كل شَرط فِي النِّكَاح فَالنِّكَاح يهدمه الا الطَّلَاق أَرَأَيْتُم رجلا تزوج امراة على ان لَا يتَزَوَّج عَلَيْهَا اَوْ لَا يتسرى ايفسد هَذَا النِّكَاح بِهَذَا الشَّرْط؟ أَرَأَيْتُم رجلا تزوج الْمَرْأَة على ان يَدعهَا ان تخرج حَيْثُ احبت مَتى شَاءَت ايفسد هَذَا النِّكَاح لمَكَان الشَّرْط ؟ارايتم رجلا تزوج بِمهْر مُسَمّى على ان لَا يدع اباها وَلَا امها وَلَا اخوتها والا احدا من اهلها يدْخلُونَ عَلَيْهَا ايفسد هَذَا الشَّرْط النِّكَاح أَرَأَيْتُم رجلا تزوج امراة على ان تنْفق الْمَرْأَة عَلَيْهِ اَوْ تزَوجهَا على ان لَا نَفَقَة لَهَا ايفسد النِّكَاح بِشَيْء من هذَيْن الشَّرْطَيْنِ وَلَو كَانَ شَيْء من هَذِه الشُّرُوط يفْسد النِّكَاح لأفسد النِّكَاح ان يتَزَوَّج الرجل الْمَرْأَة على غير مهر فقد جَاءَ فِي هَذَا اثر عَن عمر بن الْخطاب رَضِي الله عَنهُ يرويهِ اهل الْعرَاق واهل الْحجاز ان عمر رَضِي الله عَنهُ اجاز النِّكَاح وَجعل لَهَا صدَاق مثلهَا من نسائها لَا وكس وَلَا شطط فَلَو كَانَ شَيْء من هَذِه يفْسد النِّكَاح لافسده ان يتَزَوَّج من غير صدَاق وَلَكِن النِّكَاح فِي ذَلِك جَائِز وَالشّرط بَاطِل۔ترجمہ: اور نکاح میں لگائی جانے والی ہر شرط جو کہ جائز نہ ہو تو اسکی وجہ سے نکاح جائز رہے گا یہ شرط اسے باطل نہیں کرسکے گی۔مگر طلاق کی شرط سے نکاح ختم ہوجائے گا۔اور امام محمد نے فرمایا اسی طرح سفیان ثوری منصور بن معتمر سے اور وہ ابراہیم نخعی سے روایت کرتے ہیں کہ نکاح ہر ناجائز شرط کو منہدم کردیتا ہے ماسوائے طلاق کے ۔ آپکی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس عورت کی موجودگی میں کسی دوسری سے شادی نہ کرے گا یا کسی دوسری کے ساتھ رات نہ گزارے گا،کیا اس شرط کی وجہ سے نکاح فاسد ہوجائے گا ؟ آپکی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے اس شرط پر نکاح کرے کہ اسے اختیار ہے جہاں جانا چاہے جب جانا چاہے ، کیا اس شرط کی وجہ سے نکاح فاسد ہوجائے گا ؟ آپکی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص مہرِ مسمٰی پر اس شرط کے ساتھ نکاح کرے کہ وہ اسکو اسکے باپ، ماں اور بہن بھائیوں سے ملنے نہیں دے گا اور نہ ہی کسی کو یہاں آنے کی اجازت دے گا، کیا اس شرط کی وجہ سے نکاح فاسد ہوجائے گا ؟ آپکی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص اس شرط پر نکاح کرے کہ عورت نان و نفقہ دے گی یا یہ کہ عورت کے لئے نان و نفقہ نہ ہوگا ، کیا ان دو شرطوں کی وجہ سے نکاح فاسد ہوجائے گا ؟اور اگر ان شروط میں سے کسی سے نکاح فاسد ہوتا تو اس صورت میں نکاح ضرور فاسد ہوگا جب مرد بغیر مہر کے نکاح کرے ۔ حالانکہ اس بارے میں سیدنا عمر بن خطاب کا اثر موجود ہے جسے اہلِ عراق و اہلِ حجاز نے روایت یا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نکاح جائز قرار دیا اور اس عورت کے لئے اسکے خاندان کی عورتوں کے مہر کی مثل حق مہر مقرر کیا نہ کم نہ زیادہ ۔ پس اگر ان چیزوں میں سے کوئی چیز نکاح کو فاسد کرتی تو اس صورت میں نکاح ضرور فاسد ہوگا جب مرد بغیر مہر کے نکاح کرے ۔لیکن ان تمام صورتوں میں نکاح جائز اور شرط باطل ہے (الحجۃ علی اہل مدینۃ جلد 3 ص 210 تا 214)
اسی میں ہے:وَالنِّكَاح كُله جَائِز مَعَ الشُّرُوط الْفَاسِدَة وَتبطل الشُّرُوط الْفَاسِدَة وَيجوز النِّكَاح.ترجمہ:اور ان تمام صورتوں میں شروطِ فاسدہ کے باوجود نکاح جائز ہے ، اور یہ شروط فاسدہ باطل ہوجائیں گی لیکن اسکے باوجود نکاح جائز ہے۔(ایضا، ج3 ص 221)
تنویر مع الدر میں ہے:لا يبطل) النكاح (بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح بل الشرط۔ترجمہ:شرطِ فاسد سے نکاح فاسد نہ ہوگا، بلکہ وہ شرط فاسد ہی باطل ہوجائے گی یعنی اگر شرط فاسد کے ساتھ عقد کیا گیا نکاح باطل نہ ہوگا بلکہ شرط فاسد ہوجائے گی۔
اسکے تحت شامی میں ہے: (قوله: مع الشرط فاسد) كما إذا قال تزوجتك على أن لا يكون لك مهر فيصح النكاح ويفسد الشرط ويجب مهر المثل۔ ترجمہ:شرط فاسد کی مثال جیساکہ جب کوئی مرد کسی عورت سے کہے کہ میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کرتا ہوں کہ تجھے کچھ مہر نہیں ملے گا تو نکاح صحیح ہے البتہ شرط فاسد ہوجائے گی اور عورت کو مہرِ مثل ملےگا۔(تنویر الابصار مع الدر المختار و حاشیہ ابن عابدین کتاب الطلاق، فروع طلق امراتہ تطلیقتین جلد3 ص 53)
یاد رہے کہ اگر مرد کی جانب سے یہ شرط بھی شامل ہو کہ عورت (ایک سے زائد بیویاں ہونے کی صورت میں )اپنی باری کا حق بھی معاف کردے گی۔تو یہ حق بھی معاف ہوسکتا ہے لیکن اگر بیوی بعد میں اس حق سے رجوع کرنا چاہے تو اسے یہ اختیار حاصل ہوگا اور شوہر کو تمام بیویوں کے درمیان مساوات ضروری ہوگا۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 20 ربیع الاول 1443 ھ/27 اکتوبر 2021 ء