خدا کی قسم میں اب تجھ سے کبھی بات نہیں کرونگا
    تاریخ: 25 فروری، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 888

    سوال

    میں نے اپنی زوجہ سے کسی بات پر بحث کے دوران یہ الفاظ ادا کرے ہیں تو اب کیا شرعی حکم ہے میرے لیے؟ " خدا کی قسم میں اب تجھ سے کبھی بات نہیں کرونگا " رہنمائی فرمائیں۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہ بات ذہن نشین رہے کہ آنے والے زمانے میں کسی کام کے کرنے یانہ کرنے میں اللہ عزّوجلّ کی یا اللہ عزّو جلّ کی صفات کی قسم کھانا اصطلاح ِ شرع میں" یمین منعقدہ" کہلاتا ہے ،یمین منعقدہ کے توڑنےپر کفارہ لازم ہوجاتاہے ۔

    بعد ازاں پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ جب آپ نے خدا کی قسم کھا کر بیوی کو کہا کہ میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گا "اور اس قسم کو توڑ کر بیوی سے بات کر دی تو اس قسم توڑنے پر آپ پر کفارہ لازم ہے ۔قسم کا کفارہ یہ ہے دس مسکینوں کوصبح و شام کا کھانا کھلائیں جن مساکین کو صبح کا کھانا کھلائیں انہیں کو شام کے وقت کھانا کھلائیں دوسرے دس مسکینوں کوکھلانے سے ادا نہیں ہوگا ،اس میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دس مسکینوں کو ایک ہی دن کھلا دیں یا یا ہر روز ایک ایک کو یا ایک ہی مسکین کو دس دن صبح و شام دونوں وقتوں کا کھانا کھلائیں ۔ یا دس مسکینوں متوسط درجے کے کپڑے دیں ،یا غلام آزاد کریں لیکن فی زمانہ غلام آزاد کرنے کی صور ت مفقودہے ، ہاں کفارے میں یہ بھی اختیار ہے کہ کھانے کے بدلے ہر شرعی فقیر کو الگ الگ ایک صدقہ فطر کی مقدار دے دیں یہ کل دس صدقہ فطر ہو جائیں گے اگر دس مسکینوں کو کھانانہ کھلاسکیں یا کپڑے بھی نہ پہنا سکیں تواس صورت میں لگاتار تین دن کے روزے رکھیں ۔

    دلائل و جزئیات:

    یمین منعقدہ کی تعریف کرتے ہوئے ابو الحسين احمد بن محمد القدوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :’’ واليمين المنعقدة: هي الحلف على الأمر المستقبل أن يفعله أو لا يفعله فإذا حنث في ذلك لزمته الكفارة‘‘.ترجمہ :آنے والے کا م پر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پرقسم کھانا یمین منعقدہ کہلاتا ہے جب یمین منعقدہ میں حانث ہوگا تو کفارہ لازم ہوگا ۔(مختصر القدوری ، كتاب الأيمان،ص:209،دار الكتب العلمية)

    قسم کے کفارے کے متعلق اللہ عزّوجلّ کا فرمان عالی شان :’’لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمْ وَلٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمْ اَوْ کِسْوَتُہُمْ اَوْ تَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ ؕ فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیۡمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ؕوَاحْفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمْ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡن ‘‘.ترجمہ : اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا،اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یاانہیں کپڑے دینایاایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے،یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اوراپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اللّٰہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو۔(المائدہ:89)

    قسم کے کفاے کی تفصیل کے متعلق صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ )فرماتے ہیں :’’قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس 10مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اون کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔ مسئلہ ۲: غلام آزاد کرنے یا مساکین کو کھانا کھلانے میں اون تمام باتوں کی جو کفارہ ظہار میں مذکور ہوئیں یہاں بھی رعایت کرے مثلاً کس قسم کا غلام آزاد کیا جائے کہ کفارہ ادا ہواور کیسے غلام کے آزاد کرنے سے ادا نہ ہوگا اور مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگااور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا اونھیں کو شام کے وقت بھی کھلائے دوسرے دس ۱۰ مساکین کو کھلانے سے ادانہ ہوگا۔ اور یہ ہوسکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلادے یا ہرروزایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے۔ اور مساکین جن کو کھلایا ان میں کوئی بچہ نہ ہو اور کھلانے میں اباحت(2) و تملیک(3) دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا ایک صاع (4)جَو یا ان کی قیمت کا مالک کردے یا دس ۱۰ روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روز بقدر صدقہ فطر دیدیا کرے یا بعض کو کھلائے اور بعض کو دیدے۔ غرض یہ کہ اوس کی تمام صورتیں وہیں سے معلوم کریں فرق اتنا ہے کہ وہاں ساٹھ ۶۰ مسکین تھے یہاں دس ۱۰ ہیں۔(۔(بہار شریعت ،حصہ نہم ،ص:305)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدسجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:16 رمضان المبارک 1447ھ/06مارچ 2026