سوال
ایک شخص(خدا بخش) کا انتقال ہوا، جسکے ورثاء میں فقط تین بھائی(اللہ بچایا ، محمد رمضان، منظور احمد) ہیں کیونکہ وہ خود کنوارہ تھا جبکہ اسکے والدین کا اس سے پہلے ہی انتقال ہوگیا، یو ہی ایک بہن تھی جسکا انتقال بھی خدا بخش کے انتقال سے پہلے ہوگیا تھا، جائیداد میں 10 مرلے زمین ہے ، اسکی تقسیم کیسے ہوگی؟ کل کتنے حصص ہونگے اور کس کا کتنا حصہ ہوگا؟شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل: منظور احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد فقط تینوں بھائی کل مال وراثت کے حقدار ٹھہریں گے اور یہ جائیداد ان کے مابین برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوگا، یعنی اس جائیداد کو3 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں سے ہر بھائی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے، کیونکہ تمام بھائی عصبات میں سے ہیں اور عصبہ دیگر ورثاء کی عدم موجودگی میں میت کے تمام مال کا مستحق بن جاتا ہے۔ایک درجے کے ایک سے زائد عصبہ ہوں تو سب کوبرابر برابر ملتا ہے، جیساکہ السراجی فی المیراث میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25 ذوالحج 1445ھ/ 02 جولائی 2024 ء