سوال
ایک شخص شعیب کا انتقال ہوا،اسکے ورثاء میں انتقال کے وقت تین بیٹے اور ایک بیٹی موجود ہے۔ انکی ایک بیٹی ،زوجہ اور والدین کا ان سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا ، اس حوالے سے میرے چند سوال ہیں ۔
1:موجودہ ورثاء میں سے ہر ایک کا جائیداد میں سے کتنا کتنا حصہ ہوگا؟
2: جس بیٹی کا پہلے انتقال ہوا ،اس کا حصہ دیا جائے گا یا نہیں؟
3: ابھی جو بھائی موجود ہیں ان میں سے ایک بھائی اعظم الدین نے اپنا حصہ بڑے بھائی کو بیچ کر رقم لے لی ہے توکیا ا ب اسکو حصہ ملے گا یانہیں؟
سائل:ورثاء شعیب ،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
: اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 7حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں ہر بیٹے کو 2 حصے اور بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے۔لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 7 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
2: جس بیٹی کا مرحوم شعیب سے پہلے انتقال ہوا ہے شرعا انکا شعیب کی وراثت میں حصہ نہیں ہوگا،کیونکہ مال وراثت ان لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے جو مورث کی وفات کے وقت موجود ہو۔
الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه:ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)
یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367 میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) : أي وقت الحكم بالموت: ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)
لیکن اگر آپ چاہیں تو اپنے بھائی کے بچوں کو وراثت سے کچھ دے سکتے ہیں ، کہ یہ آپ کی طرف سے انکے لیے احسان ہوگا ،ایسے لوگوں کو اللہ کریم پسند فرماتا ہے۔قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین:ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔
3: جس بھائی نے اپنا حصہ بڑے بھائی کو بیچ دیا ،اب انکا وراثت میں حصہ نہیں ہے کیونکہ ایک شریک کا دوسرے شریک کو اپنا حصہ بیچنا جائز ہے جسکے بعد دوسرا شریک اسکا مالک بن جاتا ہے۔
ہدایہ میں ہے:ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور:ترجمہ: دوشریکوں میں سے ایک کو دوسرے شیک کو اپنا حصہ بیچنا تمام صورتوں میں جائز ہے۔( ہدایہ کتاب الشرکۃ جلد 3ص5)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:وَإِنْ بَاعَ نَصِيبَهُ مِنْ شَرِيكِهِ جَازَ كَيْفَمَا كَانَ لِوِلَايَتِهِ عَلَى مَالِهِ:ترجمہ:اور اگر اپنے شریک کو اپنا حصہ بیچاتو یہ جائز ہے خواہ کیسے ہی بیچے کیونکہ اسکو اپنے مال پر ولایت حاصل ہے۔( تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،جلد 3 ص 313)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 19 ذوالقعدہ1440 ھ/23 جولائی 2019 ء