سوال
گزارش یہ ہے کہ فدوی کے والد کا انتقال 2001ء میں ہوا اس وقت ہماری والدہ بیگم خاتون،اورچار بھائی اور پانچ بہنیں زندہ تھیں اس طرح ہم کل نو بہن بھائی تھے،جنکے نام درج ذیل ہیں۔ فرید،صغیر،ظہیر،جمیل، صباء ،ممتاز،مسرت،شازیہ،امبر۔چار بھائیوں میں سے ایک بھائی کا انتقال 2005 میں ہوا جسکا نام فرید احمد ہے۔انکی ایک بیوی (طاہرہ ) اور چھ بیٹیاں (تبسم، ثناء،انعم،بشرٰی، امرین،نمرہ)بیٹا کوئی نہیں ہے۔ پھر 2007 میں ایک بہن (صباء) کا انتقال ہوا، یہ شادی شدہ ہیں ،انکے شوہر(افضل)ایک بیٹی(طیبہ)ہے،پھر طاہرہ کا 2010 میں انتقال ہوا انکچھ بیٹیاں ہیں جنکا نام لکھ دیا اور ایک بہن(نسیم)ہے،پھر بیگم خاتون کا 2019 میں وصال ہوا،انکے وصال کے وقت تین بیٹے (صغیر،ظہیر،جمیل)اور چار بیٹیاں (ممتاز، مسرت،شازیہ،امبر) ہیں ، شریعت کے اعتبار سے ان میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی۔
2:۔ہمارے والد صاحب کے دومکان تھے ان میں سے ایک مکان انہوں نے اپنی زندگی میں ہی میرے یعنی صغیر اور فرید دونوں بھائیوں کے نام کردیا تھاکہ یہ مکان تم دونوں کا ہے؟ اس مکان کا کیا حکم ہے ؟ اسکے علاوہ دوسرا مکان جس میں والدہ اور دو بھائی رہتے تھے اب اس تمام جائیداد کی تقسیم کیسے ہوگی۔
سائل: صغیر احمد ، نیو کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا اور ان ورثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو کل وراثت کو 1647360 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے صغیر،ظہیراور جمیل میں سے ہر ایک کو 277602 حصے ،ممتاز ،مسرت،شازیہ،امبر میں سے ہر ایک کو 138801 حصے، تبسم ثناء، انعم،بشرٰی، امرین، نمرہ میں سے ہر ایک کو 27720حصے، افضل کو 27930حصے ،طیبہ کو 55860حصے، اور نسیم کو 9240 حصے ملیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواںماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے، قال اللہ تعالیوَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ:ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔
لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالٰی فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ:ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی، اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھالڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی ہوں تو ان کے حصے کے بارے میں فرمایا،قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین :ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ کل جائیداد کی قیمت لگواکر اسکو مبلغ یعنی 1647360پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا حصہ ہوگا۔
2:آپکے دوسرے مسئلے کا جواب یہ ہے کہ جو مکان آپکے والد نے آپ اور آپکے بھائی کے نام کیا ،اگر وہ قابل تقسیم تھا یعنی ایسا تھا کہ اس میں ہر ایک کا حصہ جدا جدا کرنا ممکن تھا لیکن آپکے والد نے ہر ایک کا حصہ الگ الگ بیان نہیں کیا بلکہ مشترکہ طو ر ہر دونوں بھائیوں کے نام کردیا تو اس صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ وہ مکان بھی وراثت میں تقسیم ہوگا کیونکہ زندگی میں مکان،پلاٹ یا فلیٹ،یا کوئی اور چیز نام کردینا گفٹ یا ھبہ کے طور پر ہوتا ہے لہذا اگر کسی ایک شخص کے لیے کوئی جگہ یا مکان یا پلاٹ یا گاڑی گفٹ کیا گیا ہو اور وہ موہوب لہ (یعنی جس کے لیے گفٹ کیا گیا ہے) کو اپنے قبضے میں لے لے، تو یہ ھبہ تام ہوجاتا ہے یعنی اس میں اس شخص کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے جس کے لیے وہ مکان ھبہ کیاگیاہے ۔ اور اگر ایک سے زائد لوگوں کو ھبہ کیا جائے اور وہ چیز ایسی ہو جسکو تقسیم کیا جاسکتا ہو تو ضروری ہے کہ ہر ایک کا حصہ جدا جدا بیان کردیا جائے کہ اتنا اس کا اور اتنا اسکا ورنہ ھبہ تام نہ ہوگا، تو جب ھبہ تام نہ ہوگا تو وہ چیز واہب کی ملکیت میں ہی رہے گی اور بعد از وصال اسکی وراثت میں تقسیم ہوگی ۔
ہاں اگر قابل تقسیم چیز نہ ہو یا قابل تقسیم تو ہو لیکن ہر ایک کا حصہ الگ الگ بیان کردے تو اب وہ چیز موہوب لہ( جس جس کے لیے ھبہ کیا گیا ہے)انکی ملکیت ثابت ہوجائے گی اور واہب( ھبہ کرنے والے) کے وصال کے بعد اسکی وراثت میں تقسیم نہ ہوگی بلکہ موہوب لہ کی ملکیت میں ہی رہے گی۔
تنویرالابصارمیں ہے:وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)
ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
بدائع الصنائع میں ہے :لِأَنَّ هِبَةَ الْمُشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ فَلَمْ يَثْبُتْ الْمِلْكُ رَأْسًا:ترجمہ:کیونکہ مشاع کا ہبہ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوسکتی ہیں صحیح نہیں ہے ، لہذا ملکیت اصلا ثابت نہ ہوگی۔( بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل فی بیان ما ینتقض التیمم جلد 1ص57)
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو (یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام) اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے
کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19 رجب المرجب 1440 ھ/27 مارچ 2019 ء