تین بیٹے اورتین بیٹیاں
    تاریخ: 1 اپریل، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 1079

    سوال

    میری والدہ کا اتنقال ہوگیا ہے اور والد اور ایک بھائی والدہ سے پہلے انتقال کر چکے ہیں ۔ اب ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں ۔ والدہ کی وراثت میں جو زیورات وغیرہ ہیں انکی شرعی تقسیم کیسے ہوگی۔ رہنمائی فرمادیں۔ سائل:حاجی فاروق: بہادر آباد

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایساہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو زیورات کی قیمت کو کل 9 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بیٹے کو دو اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    نوٹ: وراثت کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کو 7 پر تقسیم کرلیا جائے ۔ جو جواب آئے وہ لڑکی کا حصہ ہوگا اور اس سے دگنا ہر لڑکے کا حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29رمضان المبارک 1441 ھ/23 مئی 2020 ء