تین بیٹے ایک کا انتقال ہوا اسکی اولاد کا حکم
    تاریخ: 1 اپریل، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 1080

    سوال

    ایک شخص (وحید الدین ) کا انتقال ہوا ، اسکے ورثاء میں ایک بیوی(اخترالنساء ) اور تین بیٹے (فیاض، فصیح ، فرید) ہیں، جبکہ بیٹی کوئی نہیں ہے ۔ اسکی بیوی (اخترالنساء) کا انتقال اس سے پہلے ہوا اسکے ورثاء بھی وہی ہیں پھر ایک بیٹے (فیاض) کا انتقال ہوا اسکی دو شادیاں تھیں پہلی بیوی (امبر) فوت ہوئی تو اس نے دوسری شادی کی ۔ پہلی بیوی سے دو لڑکیاں (فائزہ، نور) اور ایک لڑکا (کیف) ہے جبکہ دوسری بیوی(شیلا) سے ایک لڑکا (فائق) ہے۔ اسکے انتقال کے وقت دوسری بیوی حیات تھی۔

    وراثت میں ایک مکان ہے جسکی قیمت ساٹھ لاکھ ہے ؟ رقم میں سے ہر ایک کا کتنا حصہ ہوگا تفصیلاً ارشاد فرمائیں۔

    سائل: فرید: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد مکان کی کل قیمت کو 144 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ورثاء کے حصے درج ذیل ہیں:

    فرید فصیح شیلا کیف فائق فائزہ نور

    48 48 6 14 14 7 7

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(سورۃ النساء آیت نمبر: 10)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء: 10)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05 شعبان المعظم 1443 ھ/10 مارچ 2022 ء