تین بیٹیاں ایک بیٹے کا حصہ
    تاریخ: 31 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1075

    سوال

    میرے والد کا مکان ہے، ڈھائی سال قبل والد کا انتقال ہوگیا ہے، اور والدہ کا 28 سال قبل انتقال ہوا۔اس وقت ورثاء میں تین بیٹیاں اور میں ایک بیٹا ہے۔مکان کی قیمت 50 لاکھ ہے شرعی اعتبار سے ہر ایک کا کتنا حصہ بنتا ہے؟رہنمائی فرمادیں، تاکہ ہر ایک کو اسکا حصہ مل جائے۔

    سائل:سلیم احمد خان: کورنگی کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا اور ورثاء صرف یہی ہیں تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 5حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں سے بیٹے ک2 حصے ،ہر بیٹی کو الگ الگ ایک حصہ ملے گا۔رقم کی صورت میں بیٹے کو 20 لاکھ روپے اور ہر بیٹی کو 10، 10 لاکھ روپے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16 ذو الحج 1441 ھ/06 اگست 2020 ء