تین بیٹیاں چار بھائی دو بہنیں
    تاریخ: 31 مارچ، 2026
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 1076

    سوال

    میرے والد (امیر احمد) کا وصال ہوا اسکے انتقال کے وقت ورثاء میں تین بیٹیاں، 4 بھائی اور 2 بہنیں ہیں ۔ ایک بھائی اور ایک بہن کاپہلے فوت ہوچکے۔ وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی نیز جن کا پہلے انتقال ہوا انکی اولاد کا حصہ ہوگا یا نہیں؟

    سائل: روزینہ : کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو امور متقدمہ ثلاثہ علی الارث (مرحوم کےکفن دفن کےاخراجات ، قرض ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر کسی غیروارث کےلئےوصیت کی ہوتواسکومرحوم کےتہائی مال سےپورا کرنے)کےبعد مالِ وراثت کے کل 90 حصےکئےجائیں گے۔البتہ جن ورثاء کا انتقال پہلے ہوچکا انکا وراثت سے کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

    بقیہ تمام ورثاء کے حصے درج ذیل ہیں۔

    بیٹی بیٹی بیٹی بھائی بھائی بھائی بھائی بہن بہن

    20 20 20 6 6 6 6 3 3

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے :اگر دو سے زائد بیٹیاں ہوں تو انکا کتنا حصہ ہوگا، اس بارے میں ارشاد ہے ۔ قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ کنز الایمان :پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگر دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)۔

    میت کے سب بہن بھائی عصبات ہونے کے سبب مابقی مال لے لیں گےبایں طور کہ ہر بھائی کو بہن سے دگنا ملے گا۔جیساکہ ارشادِ باری تعالٰی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء: 10)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    السراجی فی المیراث میں ہے: والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال :ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54 مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)

    رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: جو کچھ مالِ وراثت ہے اس کی قیمت (باعتبار مارکیٹ ویلیو) کو فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (90) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا ۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 ذوالقعدہ 1444 ھ/25 مئی 2023 ء