اسٹیٹ لائف بیمہ پالیسی کا حکم
تاریخ: 17 اکتوبر، 2025
مشاہدات: 105
حوالہ: 13
سوال
1:تقریبا 20 سال پہلے کی بات ہے کہ میرے پاس ایک ڈھائی ہزار کا سیونگ سرٹیفکٹ تھا جو دس سال گزرنے کے بعد مجھے دس ہزار رقم ملی جسے میں نے نا علمی میں استعمال کرلیا ۔ رہنمائی فرمائیں کہ میں اسکی تلافی کیسے کروں۔
2: اسی طرح میرے مرحوم شوہر نے میرے نام کے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکٹ بنارکھے تھے ،میں ایک بیوہ عورت ہوں اور میری تین بیٹیاں ہیں کیا یہ رقم میرے لئے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ان پیسوں کا کیا کیا جائے ۔؟
3: یونہی میری بیٹی کے نام پراسکی شادی کے لئے انہوں نے اسٹیٹ لائف کی پالیسی لی تھی، اب شوہر کی موت کے بعد میری بیٹی کی پڑھائی کے لئے 26 ہزار روپے آتے ہیں اس رقم کو استعمال کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟اگر نہیں تو اس رقم کا کیا کیا جائے جو استعمال ہوچکی ۔ اسی طرح اسکی شادی پر اس پالیسی کے اعتبار سے جو رقم ملے گی اسکا استعمال کرنا کیسا ہے ۔
4: میرے پاس مرحوم شوہر کی اسٹیٹ لائف بیمہ پالیسی کی رقم موجود ہے ،میں ایک بیوہ عورت ہوں اور میری تین بیٹیاں ہیں کیا یہ رقم میرے لئے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ان پیسوں کا کیا کیا جائے ۔؟ برائے مہر بانی شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ:روزینہ بیگم:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1،2:کسی بھی قسم کا سیونگ سرٹیفکٹ بنوانا اور اس پر نفع لینا دونوں ہی ناجائز و حرام ہیں ،کہ یہ سود ہے ۔
3،4:اسی طرح معاملہ انشورنس کا ہے کہ ہر طرح کی بیمہ پالیسی یا انشورنس ناجائز و حرام ہے۔کہ یہ بھی جوا اور سود کا مجموعہ ہے۔
لہذاان معاہدات کو فورا ختم کرنا لازم ہے ۔البتہ اصل رقم، مالک کی ہے اسکے علاوہ اب تک سیونگ سرٹیفکٹ یا بیمہ پالیسی سے جتنی زائد رقم حاصل ہوئی اس تمام رقم کو بغیر نیتِ ثواب کے صدقہ کرے۔اسکے ساتھ اللہ کریم کی بارگاہ میں بصدقِ دل توبہ اور آئندہ ایسا معاہدہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے۔
سیونگ سرٹیفکٹ سود اس لئے ہے کہ جس ادارے یا حکومت کے پاس یہ سرٹیفکٹ رکھوائے جاتے ہیں وہ ان پر مخصوص مدت گزرنے کے بعد طے شدہ منافع ادا کرتے ہیں۔جب کہ دہندگان کی اصل رقم بعینہ محفوظ رہتی ہے۔ انہیں یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ جب چاہیں اپنی رقم
لے سکتے ہیں۔ سو یہ قرض پر نفع کی صورت ہے اور حدیث پاک میں قرض پر نفع کو سود قرار دیا گیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرما ن ہے:عَنْ عُمَارَةَ الْهَمْدَانِيِّ: قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلہ سَلَّمَ:
«كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا»ترجمہ: عمارہ ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا '' ہر وہ قرض جو نفع دے وہ سود ہے۔ (کنز العمال ، کتاب الدین والسلم ،رقم الحدیث:15512،مسند الحارث باب فی القرض یجر المنفعۃ جلد 1 ص500)
بدائع الصنائع میں ہے:(وَأَمَّا) الَّذِي يَرْجِعُ إلَى نَفْسِ الْقَرْضِ: فَهُوَ أَنْ لَا يَكُونَ فِيهِ جَرُّ مَنْفَعَةٍ، فَإِنْ كَانَ لَمْ يَجُزْ، نَحْوُ مَا إذَا أَقْرَضَهُ وَشَرَطَ شَرْطًا لَهُ فِيهِ مَنْفَعَةٌ؛ لِمَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ «نَهَى عَنْ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا» ؛ وَلِأَنَّ الزِّيَادَةَ الْمَشْرُوطَةَ تُشْبِهُ الرِّبَا؛ لِأَنَّهَا فَضْلٌ لَا يُقَابِلُهُ عِوَضٌ، وَالتَّحَرُّزُ عَنْ حَقِيقَةِ الرِّبَا، وَعَنْ شُبْهَةِ الرِّبَا وَاجِبٌ۔ترجمہ:اور جوشرط نفسِ قرض کی طرف لوٹتی ہے وہ یہ ہے کہ قرض اس نوعیت کا ہو جس میں نفع کا حصول نہ ہوتا ہو، وگرنہ وہ قرض جائز نہیں ،مثلاً کسی کو قرض دیا اور اس میں نفع کی شرط لگادی (یہ حرام ہے) کیونکہ نبی کریم ﷺسے مروی ہے کہ آپ نے اس قرض سے منع فرمایا جو نفع دیتا ہو،کیونکہ مشروط زیادتی سود کے مشابہ ہے اور کیونکہ یہ ایسی زیادتی ہے جس کے مقابل کوئی عوض نہیں ہے،سود اور سود کے شبہ سے بچنا واجب ہے ۔(بدائع الصنائع جلد 7 ص 395)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:بہر حال یہاں نہیں مگر صورت قرض، اور اس پر نفع مقرر کیا گیا، یہی سود ہے اور یہی جاہلیت میں تھا، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: کل قرض جر منفعۃ فھو ربٰو۔ترجمہ:قرض پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ ربا ہے۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 17 ص 373)
جو مال ناجائز طریقے سے حاصل ہو اسکو صدقہ کیا جائے گا،اس سلسلے میں شامی میں ہے:لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ ترجمہ:جو مال ناجائز طریقے سے حاصل ہو اس مال سے خلاصی کا طریقہ صدقہ ہے جبکہ اسکے مالک کو لوٹانا متعذر ہو۔(ردالمحتار ، فصل فی البیع جلد 6ص 385)
اور انشورنس یا بیمہ پالیسی اس لئے ناجائز ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک خریدوفروخت کا معاہدہ ہے جس میں انشورنس پالیسی خریدار، انشورنس کمپنی سے ایک مقررہ مدت کی کوئی پالیسی خریدتا ہے ، اور یہ خریدتا اس لیے ہے تاکہ انشورنس کمپنی،اس پالیسی خریدار کو مقررہ مدت کے دوران کسی غیر یقینی واقعے مثلا کوئی حادثہ یا موت کے رونما ہونے کی صورت میں اسکی جمع کردہ رقم سے زائد رقم دے گی یا اسی طرح کسی غیر یقینی واقعےکے رونما نہ ہونے کی صورت میں اسکی جمع کردہ رقم سے دست برداری کرے گا۔ اس میں
اولاََ:اس میں جمع کردہ رقم سے کم یا زیادہ رقم دینے کا عقد ادھار کی صورت میں ہوتا ہے لہذا یہ ربو کی ایک صورت ہے ۔
ثانیاََ:یہ بات بھی عقد میں ملحوظ ہوتی ہے کہ اگر مقررہ مدت میں کسی طرح کا حادثہ یا واقعہ رونما نہ ہوا تو پالیسی ہولڈر اپنی جمع کردہ رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتا بلکہ اسکو تمام رقم سے دست برداری کرنی ہوگی۔اور یہ صراحتا جوا ہے ۔
اور یہ تمام امور قرآن و حدیث کی رو سے ناجائز و حرام ہیں۔سود کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے :وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا۔ترجمہ: اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ (الْبَقَرَة ، 2 : 275)
دوسری جگہ ارشادہے:یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے)ایمان رکھتے ہو۔ (الْبَقَرَة ، 2 : 278)
صحیح البخاری میں ہے :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ»ترجمہ: حضرت ابو ہرہرہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا سات چیزوں سے بچو جو کہ تباہ وبرباد کرنے والی ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم !وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا:”(1)شرک کرنا(2)جادو کرنا (3)اسے ناحق قتل کرنا کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا (4)سود کھانا (5)یتیم کا مال کھانا (6)جنگ کے دوران مقابلہ کے وقت پیٹھ پھیرکربھاگ جانا(7) اور پاکدامن،شادی شدہ، مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔(صحیح البخاری ، کتاب الوصایا ، باب
قول اللہ تعالیٰ ان الذین یاکلون اموال الیتمی الحدیث:2766، ج 2،ص242)
یوں ہی جوا کے بارے میں ارشاد ہے :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔ترجمہ:اے ایمان والو شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔( المائدۃ: 90)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
محمد زوہیب رضا قادری
15جمادی الثانی 1442 ھ/28 جنوری 2021 ء