سوال
زید بیمار ہےاورروزہ رکھنے کی طاقت نہیں ہے۔اگر روزہ رکھےگا تو بہتکمزور ہے بظاہر مزید کمزور ہو جائےگا اور بیماریمزید بڑھنے کا اندیشہ ہے مگرپھر بھی وہ روزہ رکھنےکی سوچتا ہے اوراسکے گھر والےمنع کرتے ہیں روزہرکھنے سے اور مالداربھی نہیں ہے کہ روزہ کا فدیہ ادا کرسکے بظاہر آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں۔یوں سمجھ لیں کہ ایک طرح سے جسمانی اعتبار سے مجبور ہے ۔ایسے شخص کےمتعلق روزے کا حکماور شریعت کےاحکا م کیا ہیں جوابعنایت فرمائیں۔
سائل: الحنفی یوپی ،ہند۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ایسا شخص جس پر روزہ فرض ہوچکا اور رمضان کےفرض روزے کو جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے توڑتا ہے تو اس پر روزے کی قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوگا اور اس عمل پر توبہ و استغفار بھی لازم ہوگی۔البتہ صورت مسؤولہ میں دو صورتیں ہیں:
(1)زید ایسا مریض ہے کہ آئندہ صحت مند ہونے کا امکان موجود ہے لیکن روزہ رکھنے سے ضرر پہنچے گا۔
(2)زید ایسا مریض ہے کہ آئندہ صحت مند ہونے کا امکان نہیں تو ایسا شخص شیخ فانی کے حکم میں ہوگا ۔
پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ بیماری جانے کا انتظار کرے اوراگر شفایاب ہونے سے پہلے موت آگئی تو روزوں کے کفارے کی وصیت کرے۔ایسے مرض میں مبتلامریض جسے روزہ سے ضرر پہنچتا ہےجب تک شفایاب نہیں ہوتا اسے روزہ قضا کرنے کی شرعاً اجازت ہے۔اگر یہ شخص اسکے بدلے مسکین کو کھانا کھلاتا ہے تو مستحب ہے لیکن اس عمل کو روزوں کا بدلہ نہ سمجھے۔
دوسری صورت میںہر روزے کے عوض ایک فدیہ دینے کی اجازت ہےکہ یہ بھی شیخ فانی کے حکم میں ہے۔ایک روزے کا فدیہ ایک شرعی فقیر کو دو وقت پیٹ بھرکرکھانا کھلانا، یا ایک صدقہ فطر (یعنی 2کلو گندم کے آٹے) کی مقدار رقم کسی شرعی فقیر کو دینا ہے۔البتہ یہ بھی نہ کرسکے تو استغفار کرے۔لیکن یہ یاد رہے کہ فدیہ ادا کرنے کے بعد اگر آئندہ روزہ رکھنے پر قدرت حاصل ہوگئی تو اب روزے ہی رکھنے ہوں گے۔فدیہ اداکرنا کفایت نہیں کرےگا۔
یہ بات ملحوظ رہے کہ روزے کے بدلے اس کا فدیہ ادا کرنے کا حکم شیخِ فانی کیلئے ہے، مریض کیلئے نہیں ۔ شیخِ فانی وہ شخص جو بڑھاپے کی وجہ سے اتنا کمزور ہو چکا کہ حقیقتاً روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا،نہ سردی میں نہ گرمی میں،نہ لگاتار نہ متفرق طور پر اور نہ ہی آئندہ زمانے میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ایسے شخص کو فدیہ کا حکم ہے۔اسی طرح وہ جَوان بھی شیخ فانی کہلائے گا جسے ایسا عذر لاحق ہو کہ اس عذر کے جانے کی امید نہ ہوجیسا کہ بعض شوگر کے مریض جو ہر دو گھنٹوں میں کچھ نہ کھائیں تو ان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے اور شوگر ایسا مرض ہے جو کہ تا عمر لاحق رہتا ہے۔
دلائل و جزئیات:
قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ ہے: وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ۔ترجمہ : اور جنہیں اس (روزے) کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا۔(البقرۃ:184)
علامہ کاسانی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں:يباح للشيخ الفاني أن يفطر في شهر رمضان لأنه عاجز عن الصوم وعليه الفدية عند عامة العلماء. ترجمہ:شیخ فانی کے لئے رمضان کے مہینے میں روزہ چھوڑناجائز ہےکیونکہ وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہے ،اکثر علماء کے نزدیک اس پر فدیہ دینا واجب ہے۔(بدائع الصنائع، کتاب الصوم ، فصل فی فساد الصوم،2/97، دار الکتب العلمیۃ)
النقایۃ میں ہے:"وشیخ فان عجز عن الصوم افطر".ترجمہ:بوڑھا شخص جو کہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو ، وہ روزہ نہیں رکھے گا ۔
کنز الدقائق میں ہے :للشیخ الفانی وھو یفدی۔ترجمہ:شیخ فانی فدیہ ادا کرے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،فصل فی العوارض ،1/337،مطبعۃ الکبری الامیریۃ)
الدر المختار میں ہے: "(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرا وإلا فيستغفر الله هذا إذا كان الصوم أصلا بنفسه وخوطب بأدائه".ترجمہ: ایسا شیخ فانی جو روزہ سے عاجز ہو اس کے لئے روزہ نہ رکھنا جائز ہے اور وہ وجوبی طور پر فدیہ دے گا، اگر چہ مہینہ کے شروع میں دے دے۔ اور متعدد فقیر نہ ہوں تو بھی ٹھیک ہے جس طرح صدقہ فطر دیا جاتا ہے اگر وہ شیخ خوشحال ہو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ سے بخشش کا طالب ہو۔ یہ اس صورت میں ہے جب روزہ اصلا اس پر واجب ہو اور روزہ کی ادائیگی کے ساتھ اسے خطاب کیا گیا ہو۔(الدر المختار،کتاب الصوم،فصل فی العوارض،2/427،دار الفکر)
اسی کے تحت رد المحتار میں ہے: "ثم عبارة الكنز وهو يفدي إشارة إلى أنه ليس على غيره الفداء لأن نحو المرض والسفر في عرضة الزوال فيجب القضاء وعند العجز بالموت تجب الوصية بالفدية. ترجمہ:پھر ’’ کنز‘‘ کی عبارت هو يفدي اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ فدیہ کسی دوسرے پر لازم نہیں ہوگا، کیونکہ مرض اور سفر وغیرہ زائل ہونے والے ہیں۔ پس قضا واجب ہوگی اور موت کے ساتھ عجز کی صورت میں فدیہ کی وصیت کرنا واجب ہے۔(رد المحتار،کتاب الصوم،فصل فی العوارض،2/427،دار الفکر)
سیدی اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’بعض جاہلوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کیلئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو ،ایسا ہر گز نہیں ،فدیہ صرف شیخِ فانی کیلئے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو ،نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمرجتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اُس کیلئے فدیہ کا حکم ہے اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کو روزہ مضر ہو ،اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگرچہ تکلیف ہو ،بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازمِ روزہ ہے اور اسی حکمت کیلئے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے ،اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہو تو معاذ اللہ عزّوجل روزے کا حکم ہی بیکار و معطل ہو جائے ‘‘۔(فتاویٰ رضویہ،10/521،رضا فاؤنڈیشن،لاہور )
ایک اور جگہ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”جس جوان یا بوڑھے کو کسی بیماری کے سبب ایسا ضعف ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتے انہیں بھی کفارہ دینے کی اجازت نہیں بلکہ بیماری جانے کا انتظار کریں،اگر قبلِ شفا موت آجائے تو اس وقت کفارہ کی وصیت کر دیں،غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں،نہ لگاتار نہ متفرق اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو اس عذر کے جانے کی امید نہ ہو،جیسے وہ بوڑھا کہ بڑھاپے نے اُسے ایسا ضعیف کردیا کہ روزے متفرق کر کے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتا تو بڑھاپا تو جانے کی چیز نہیں ایسے شخص کو کفارہ کا حکم ہے ‘‘۔( فتاویٰ رضویہ،10/547،رضا فاؤنڈیشن ، لاہور )
ایسا مریض جس کے آئندہ صحت مند ہونے کا امکان موجود ہو،فدیہ دینا مستحب ہے،چنانچہ امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:”اگر واقعی کسی ایسے مرض میں مبتلاہے جسے روزہ سے ضرر پہنچتا ہے تو تاحصولِ صحت اُسے روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے اُس کے بدلے اگر مسکین کو کھانادے تو مستحب ہے ، ثواب ہے ، جبکہ اُسے روزہ کا بدلہ نہ سمجھے اور سچے دل سے نیت رکھے کہ جب صحت پائے گا جتنے روزے قضا ہوئے ہیں ادا کرے گا‘‘۔(فتاویٰ رضویہ،10/521،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور ) ۔
صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں:’’ہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھاناکھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے‘‘۔(بہار شریعت،1/1006،مکتبۃ المدینۃ)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:7 شعبان المعظم1444 ھ/28فروری 2023ء