سوال
میرے 8 بیٹے اور دوبیٹیاں ہیں۔میرے بیٹوں نے مجھے گالیاں دے کر گھر سے نکال دیااور میری تمام جائیداد پر قبضہ کرلیا ہےبالخصوص میرے تین بیٹے جن کا تعلق ایک سیاسی تنظیم سے ہے انہوں نے میرے ساتھ برا سلوک کیا ہے اور ان سےسب خاندان والے ڈرتے ہیں ۔ اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ۔ رہنمائی فرمائیں۔
سائل:محمد حبیب:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
والد کی نافرمانی کرنے والا ، ان پر ہاتھ اٹھانے والا ، سخت کبیرہ گناہ کا مرتکب ، فاسق و فاجر، سخت عذابِ الٰہی کا مستحق ہے، جب تک اپنےوالد کو راضی نہ کرلے ، اس کا کوئی فرض ، نفل بلکہ کوئی بھی نیک عمل قبول نہیں اورمعاذ اللہ مرتے قت کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے۔ ایسوں پر لازم ہے کہ فوراً اپنے والد کو راضی کریں، ورنہ دنیا و آخرت میں غضبِ الٰہی کے لئے تیار رہیں ۔ شریعت کے مطابق کسی معاملہ میں والد اگر چہ بظاہر غلطی پر ہو لیکن اسکے باوجود اولاد کا والد سے برا سلوک کرنا منع ہے۔والدین کی نافرمانی درحقیقت اللہ کی نافرمانی ہے۔والدین کی نافرمانی حرام اور اکبر الکبائر گناہوں میں شمار ہوتی ہے،اورحدیث پاک میں اللہ تعالی نے اس کو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔
بلکہ قرآن مجید میں والدین کو اُف تک کہنے سے منع کیا گیا ہے۔وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا ۔ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں , تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ (سورہ اسراء آیت :23)
مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ تعالٰی نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا اسی کے ساتھ یہ بھی ذکر فرمایا کے والدین کے ساتھ حُسن سلوک کرو اور اُن کو اُف تک بھی نہ کہو، والدین کی عزت و احترام دینی ودنیاوی بہتری کا سبب ہوتی ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر والدین کا سایہ ہے اور سعادت مند ہے وہ اولاد جو ہر حال میں اپنے والدین بالخصوص والد کے ساتھ حُسن سلوک رکھتی ہے اور اُن کا احترام کرتی ہے۔
حدیث پاک میں اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کی نافرمانی قرار دیا گیا ہے۔چناچہ بخاری شریف میں ہے:عن عبد الرحمن بن أبي بکرة عن أبيه قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ألا أخبرکم بأکبر الکبائر قالوا بلی يا رسول الله قال الإشراک بالله وعقوق الوالدين۔ترجمہ:عبدالرحمن بن ابی بکرہ ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو سب سے بڑے گناہ نہ بتلا دوں، لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔
( بخاری شریف ،حدیث نمبر 2654)
اور اولاد کا والد کی جائیداد پر قبضہ کرنا اور والد کو بے دخل کرنا ایک الگ گناہ ہے ، باپ اس تمام جائیداد کا تنہا مالک ہے ،زندگی میں خاندان کے کسی فرد کا والد سے جائیداد میں حصہ کا تقاضا تک جائز نہ تھا چہ جائیکہ اس پر قبضہ کرکے والد کو بے دخل کرنا ، گھر سے نکالنا جیسے قبیح اورشنیع امورکا ارتکاب ، یہ صریح غصب ہے، اور اللہ کے عذاب کوکھلی دعوت دینا ہے۔
احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں ،بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکوسات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)
بخاری میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین )کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلدجلد 3ص130)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
تاریخ اجراء:17ربیع الثانی 1442 ھ/02 دسمبر 2020 ء