حیاتی میں تقسیم ترکہ
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 270

    سوال

    ہم چھ بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ہمارے والد کی تیسری شادی ہے۔ پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہیں اور ہم سب بہن بھائی دوسری بیوی کی اولاد ہیں۔ہمارا گھر 28 لاکھ کی مالیت کا ہے۔ہمیں یہ جاننا ہے کہ اس میں باپ،بیٹے اور بیٹی کا کتنا حصہ ہے؟ اور ہمارے والد صاحب حیات ہیں۔

    سائل: محمد راشد اسحاق۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب تک کوئی شخص زندہ ہو، اس وقت تک اس کےمال میں بطور ترکہ کوئی حقدار نہیں ہوتا کیونکہ مالِ وراثت مورث کی وفات کے بعد تقسیم ہوتا ہے نہ کہ حیات میں۔البتہ اگر والداپنی خوشی سےاپنی زندگی میں ہی مکان کوفروخت کرکےاس کی رقم تقسیم کرنا چاہیں، تو اپنے لیےاور ازواج کیلئے جتنی رقم رکھناچاہیں ، رکھ سکتے ہیں۔اس کے بعد بقیہ مال اولاد میں تقسیم کرناچاہیں ، تواس میں زیادہ بہتر یہ ہےکہ لڑکے اور لڑکی کا فرق کیے بغیر سب کوبرابر دیں۔ہاں اگر تمام اولاد درجے میں برابر نہ ہوں یعنی کسی میں فضلِ دینی پائی جائے،مثلاً حافظ،عالم یا خدمت گزار ہو تو کسی ایک کو زیادہ دینا گناہ بھی نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو ،پھر اگر اولاد فاسق فاجر ہو تو محروم بھی کئے جاسکتے ہیں۔

    لیکن یاد رکھیں کہ بیٹا ہویا بیٹی،کسی کوبھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنےباپ یا ماں کی حیات میں ان سے وراثت طلب کرےاور اس طرح مطالبے سے اگران کو اذیت پہنچتی ہو ، تواولادکےلیے ایسا مطالبہ کرنا بھی ناجائزو حرام ہےکہوہی سارے مال کے مالک ہیں۔

    فقہی جزئیات:

    مال وراثت زندہ وارثین میں ہی تقسیم ہوتا ہے، چنانچہ ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:" ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه".ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو اس کی موت سےپہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے۔ (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ ،کتاب المفقود ،2/424،دار احیاء التراث العربی)

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:"وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت أي وقت الحكم بالموت".ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔(البنایۃ شرح الہدایۃ،کتاب المفقود،7/367،دار الکتب العلمیۃ)

    فضل دینی کی وجہ سے اولاد میں سے کسی کو زیادہ مال دینا مکروہ نہیں،چنانچہ سید احمد بن محمد بن اسماعيل الطحطاوی الحنفی (المتوفی:1231ھ) فرماتے ہیں:"يكره ذلك عند تساويهم في الدرجة كما في المنح والهندية .أما عند عدم التساوي كما اذا كان احدهم مشتغلا بالعلم لا بالكسب لا باس أن يفضله على غيره كما في الملتقط أي ولا يكره وفي المنح روي عن الامام أنه لا باس به اذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين".ترجمہ:درجہ میں برابر ہونے کی صورت میں تمام اولاد کو برابر مال دینا مکروہ ہے جیسا کہ منح اورہندیہ میں ہے لیکن مساوی نہ ہوں مثلا ایک علم دین میں مشغول ہے اور کسب نہیں کرتا تو اس کو دوسروں پر فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے یعنی مکروہ نہیں ہے۔ اورمنح میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ جب دین میں فضیلت رکھتاہو تو اس کو فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار، کتاب الھبۃ ،9/473،دار الکتب العلمیۃ بیروت )

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جبکہ یہ لڑکا باپ کا خدمت گزار زیادہ ہے تو ان دو پر ایک طرح کا فضل دینی رکھتاہے اگر اور کوئی وجہ اس کے منافی نہ ہو تو ایسی صورت میں باتفاق روایات اس کو ترجیح دینے میں مضائقہ نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو، بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ . اگر اولاد میں سے بعض کو اس کی نیکی کی بناء پر زیادہ دینے میں خصوصیت برتے تو کوئی حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں تو پھر امتیاز نہ برتے۔(فتاوی رضویہ،19/273، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    کسی ایک وارث کو مال دینے اور بلاوجہِ شرعی دوسروں کو بالکل محروم کردینے کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”اگر کوئی شخص غیر محجور (وہ شخص جسے بیع و شراء ، صدقہ و ہبہ وغیرہا تصرفات کی اجازت ہوتی ہے)اپنی ساری جائیداد ایک ہی بیٹے کو دےد ے اور باقی اولاد کو کچھ نہ دے، تو یہ تصرف بھی قطعاً صحیح و نافذ ہے، اگرچہ عند اللہ گنہگار ہو گا،گنہگاری کو عدمِ نفاذ سے کچھ علاقہ نہیں۔درمختار میں ہے:ولووہب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم . اگر اپنی صحت میں تمام مال بیٹے کو ہبہ کردیا تو جائز ہے اور گنہگار ہوگا‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/237، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فاسق و فاجر کو محروم کر سکتے ہیں: چنانچہ البحر الرائق میں ہے:"لَوْ كَانَ وَلَدُهُ فَاسِقًا فَأَرَادَ أَنْ يَصْرِفَ مَالَهُ إلَى وُجُوهِ الْخَيْرِ وَيَحْرِمَهُ عَنْ الْمِيرَاثِ هَذَا خَيْرٌ مِنْ تَرْكِهِ لِأَنَّ فِيهِ إعَانَةً عَلَى الْمَعْصِيَةِ".ترجمہ:اگر کسی کا بیٹا فاسق ہو اور اس کا ارادہ ہے کہ اپنے مال کو نیکی کے کاموں میں خرچ کرے اور بیٹے کو میراث سے محروم کر دے، تو اس صورت میں نیکی کے کاموں میں مال خرچ کردینا ترکے میں مال چھوڑ جانے سے بہتر ہے۔کیونکہ فاسق بیٹے کو ترکہ دینے میں گناہ پر مدد ہوگی۔(البحر الرائق،کتاب الہبۃ،ہبۃ الاب لطفلہ،7/288،دار الکتاب الاسلامی بیروت)

    حیاتی میں اولاد میں تقسیم مال سے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:”مذہبِ مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے۔یہی قول امام ابویوسف کا ہے اور”لِذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّالْاُنْثَیَیْنِ “دینا بھی، جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اللہ کاہے ، ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترکِ اولیٰ ہے۔ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے:” الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثٰی افضل من التثلیث الذی ھو قول محمد“ (فتویٰ امام ابو یوسف کے قول پر ہے یعنی لڑکے لڑکی دونوں کو برابر ، برابر دیا جائے ، یہ بہتر ہے لڑکے کو لڑکی سے دُگنا دینے والے قول سے اور یہ قول امام محمد علیہ الرحمۃ کا ہے)۔حاشیۂ طحطاوی میں فتاویٰ بزازیہ سے ہے:”الافضل فی ھبۃ البنت والابن التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار“(یعنی بیٹے اور بیٹی کو دینےمیں افضل وراثت والا طریقہ ہے ، جبکہ امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک برابر دینا اولیٰ ہے اور یہی قول مختارہے)۔بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہبِ مختار پر اولیٰ تسویہ( یعنی برابر ، برابر)، ہاں اگر بعض اولاد فضل دینی میں بعض سے زائد ہو ، تو اس کی ترجیح میں اصلاً باک نہیں ۔(فتاوٰی رضویہ،19/ 231 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:14 جمادی الآخر1445 ھ/28 دسمبر2023ء