سوال
شوہر تین طلاقیں دے چکا ہے اور لڑکی حاملہ ہے۔برائے مہربانی عدّت اور بچے کے خرچ (بچہ ابھی ایک سال کا بھی نہیں ہوا)کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں ۔
نوٹ:شوہر سے رابطہ پر معلوم ہوا کہ دو طلاقیں حالیہ ان الفاظ سے دیں ’’طلاق دی طلاق دی‘‘اور گزشتہ بھی ایک طلاق ان الفاظ سے دی ہوئی تھی’’طلاق دیتا ہوں‘‘۔دونوں وقوعہ میں بیوی سامنے موجود تھی اور شوہر نیت و اضافت کا اقراری بھی ہے۔
سائل:محمد اسلم،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا بیان ہوا تو یہاں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اب بغیر تحلیلِ شرعی عورت ،شوہر کے لئے حلال نہیں ہو گی۔
حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے (یعنی بچہ پیدا ہونے تک اسکی عدت ہے)۔ رہا بچے کا خرچہ تو نابالغ اولاد کا نفقہ باپ پر واجب ہے جبکہ اولاد فقیر ہو یعنی خود اس کی مِلک میں مال نہ ہو اور یہ خرچہ باپ کے حسبِ حیثیت متوسط درجہ کے اعتبار سے دلایا جائے اور یہ دیندار، اخراجات کے واقف کار مسلمانوں کے ذریعہ طے کیا جائے کہ بچوں کا ماہانہ اوسط خرچ کیا ہوگا جتنا وہ مقرر کریں باپ دے۔اسی طرح جب تک عورت عدت میں بیٹھی ہے اس کا نفقہ بھی شوہر پر ہے ۔نیز میاں بیوی کی علیحدگی کے بعد بچوں کی پرورش کا حق والدہ کو ہوتا ہے ،اس طور پر کہ بچہ ہو تو سات سال تک اور بچی ہو تو نو سال تک حق پرورش حاصل ہوگا، مذکورہ عمر کو پہنچ جانے کے بعد پرورش کا حق والد کو حاصل ہوتا ہے(تفصیل آگے آرہی ہے)۔
تحلیل ِ شرعی کامطلب یہ ہے کہ جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہوں وہ عدت (صورت مسؤولہ میں وضع حمل عدت ہے)گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرےاور کم ازکم ایک بار جسمانی تعلق قائم ہونےکے بعد وہ اس کو طلاقدے اور پھر اس کی عدت گذارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ۔
تحلیل شرعی:
اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا : فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ.ترجمہ: ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں ۔ اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے‘‘۔(البقرۃ: 230)
اس آیت کر یمہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد".ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔ ( تفسیرروح المعانی،2/729،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان تحلیل شرعی کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’حلالہ کے یہ معنی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے... وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،12/84،رضا فاؤنڈیشن کراچی)
سیدی اعلیٰ حضرت نے اضافت طلاق کی مکمل تفصیل اپنے فتاوی میں شرح و بسط سے ذکر فرمائی ہےچناچہ آپ رقمطراز ہیں :’’فاشتراط الاضافۃ حق لا مریۃ فیہ، نعم قد توجد الاضافۃ فی اللفظ فلایحتاج فی الحکم الی النیۃ وقد لا توجد فی اللفظ فیحتاج الٰی ظھورالنیۃ.ترجمہ:طلاق کے وقوع کے لئے نسبت اور اضافت کے شرط ہونے میں کوئی شک نہیں، ہاں اضافت کبھی لفظوں میں موجود ہوتی ہے تو اس وقت حکم کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی اور کبھی لفظوں میں اضافت نہیں ہوتی اس وقت نیت کو ظاہر کی حاجت ہوتی ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،12/344،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
عدّت کی تفصیل:
عدت یہ ہے کہ اگر ماہواری آتی ہے تو تین ماہواری آکر ختم ہو جائیں اور اگر حمل کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی تو پھر اس کی عدت وضع حمل یعنی بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اگر بڑھاپے کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی تو اس کی عدت تین ما ہ ہو گی۔
نیز دورانِ عدت عورت کاگھرسے باہر نکلنا جائز نہیں ، البتہ اگر عورت کے پاس خرچے وغیرہ کے لیے رقم نہ ہو اور کسبِ حلال کےلیے باہر جانا پڑے، تو دن کے اوقات میں شرعی پردےکا لحاظ کرتے ہوئے جانے کی اجازت ہے جب کہ رات کا اکثر حصہ اپنے گھر میں آکر گزارے، لیکن اگر بقدر ِکفایت رقمموجود ہو یا گھر میں رہ کر ایسا جائز کسب اختیار کر سکتی ہے جس سے اپنے اخراجات پورے کر سکے، تو اسے نکلنے کی اجازت نہیں کہ عورت کےلیے نکلنے کا جواز صرف ضرورت کی بنا پر ہے اور جب ضرورت ہی متحقق نہ ہو تو نکلنے کا جواز بھی ختم ہو جائے گا۔
طلاق کی عدتکی اقسام کے متعلق فتاویٰ سراجیہ میں ہے:"المطلقة تعتد بثلاث حیض ان کانت من ذوات الحیض وبثلاثة اشهر ان کانت من ذوات الاشهر کالآیسة والصغیرة عدة الحامل ان تضع حملها. ملخصا".ترجمہ:اگر طلاق یافتہ عورت کو حیض آتا ہو تو وہ تین (کامل)حیض کے ساتھ عدت گزارے گی اور (جس کو حیض نہیں آتا)تین مہینوں کے ساتھ عدت گزارے گی اگر مہینوں والی ہے جیسے آئسہ(بوڑھی)اورنابالغہ،حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔(فتاویٰ سراجیہ،ص:231،مکتبہ زمزم)
دورانِ عدت گھر سے باہر نہ نکلنے کے بارے میں ارشادِ خداوندی ہے:لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ.ترجمہ: عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں۔ (الطلاق: 1)
امام احمد بن علی ابو بکر الرازی الجصاص الحنفی (المتوفی:370ھ) فرماتے ہیں:"فيه نهي للزوج عن إخراجها ونهي لها عن الخروج، وفيه دليل على وجوب السكنى لها ما دامت في العدة لأن بيوتهن التي نهى الله عن إخراجها منها هي البيوت التي كانت تسكنها قبل الطلاق، فأمر بتبقيتها في بيتها... قال أبو بكر : ولا خلاف نعلمه بين أهل العلم في أن على الزوج إسكانها ونفقتها في الطلاق الرجعي وأنه غير جائز له إخراجها من بيتها ".ترجمہ:اس میں شوہر کو مطلقہ بیوی کو گھر سے نکالنے اور مطلقہ بیوی کو خود گھر سے نکلنے کی نہی ہے۔ اس میں مطلقہ کے لیے عدت کے اختتام تک سکونت مہیا کرنے کے وجوب پر دلیل موجود ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورتوں کو اپنے جن گھروں سے نکلنے سے منع فرما دیا ہے یہ وہی گھر ہیں جن میں طلاق سے پہلے وہ سکونت پذیر تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ہی گھروں میں سکونت پذیر رہنے دینے کا حکم فرمایا... امام جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق رجعی کی صورت میں شوہر پر مطلقہ کی سکونت اور نفقہ کے وجوب کے بارے میں اہل علم کے درمیان ہمیں کسی اختلاف کا علم نہیں ہے نیز اس پر اتفاق ہے کہ اسے اس کے گھر سے نکال دینا بھی جائز نہیں ہے۔(احکام القرآن للجصاص،3/680،قدیمی کتب خانہ)
علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(وَتَعْتَدَّانِ) أَيْ مُعْتَدَّةُ طَلَاقٍ وَمَوْتٍ (فِي بَيْتٍ وَجَبَتْ فِيهِ) وَلَا يَخْرُجَانِ مِنْهُ (إلَّا أَنْ تُخْرَجَ أَوْ يَتَهَدَّمَ الْمَنْزِلُ، أَوْ تَخَافُ) انْهِدَامَهُ، أَوْ (تَلَفَ مَالِهَا، أَوْ لَا تَجِدَ كِرَاءَ الْبَيْتِ) وَنَحْوَ ذَلِكَ مِنْ الضَّرُورَاتِ فَتَخْرُجُ لِأَقْرَبِ مَوْضِعٍ إلَيْهِ".ترجمہ:طلاق و موت کی عدت گزارنی والی عورت اپنے اس گھر میں ہی عدت گزارے گی جس میں عدت واجب ہوئی،یہ دونوں اس گھر سے نہیں نکلیں گےسوائے کہ انہیں خود نکال دیا جائے (یعنی یا تو شوہر جبرا نکال دے یا مالک مکان کرایہ نہ دینے پر نکال دے)یا مکان گر جائے یا اسکے گرنے کاخوف یا اپنا مال تلف ہونے کا خوف ہو یا کرایہ کے گھر میں ہو تو کرایہ نہ ہو اور اس قسم کی دیگر ضروریات (ہوں تو گھر سے نکل سکتی ہے) اور نکل کر اس گھر سے قریب ترین جگہ پر جائے گی۔(الدر المختار،کتاب الطلاق،باب العدۃ،3/536،دار الفکر)
معتدہ اوراولاد کا نفقہ:
نابالغ اولاد کانفقہ باپ پر واجب ہے جبکہ اولاد فقیر ہو یعنی خود اس کی مِلک میں مال نہ ہو(یہی صورت سوال میں موجود ہے)۔
بالغ لڑکا کمانے سے عاجز ہو یعنی اپاہج یا مجنون یا نابینا ہو اور اُس کے پاس مال نہ ہو تو اُس کا نفقہ بھی باپ پر ہے۔البتہ جب بالغ لڑکا کمانے کے قابل ہوجائےتو نفقہ کی ذمہ داری باپ پر نہیں۔کمانے کا اہل ہونے کا مطلب بالغ ہونے کے ساتھ کوئی ذریعہ معاش اختیار کرنے پر قادر بھی ہو، لہٰذا بالغ لڑکا اگر معذور ہو اور اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کا نفقہ والد کے ذمے واجب ہوگا۔
لڑکی کی جب تک شادی نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس کے نفقہ کی ذمہ داری باپ پر بقدرِاستطاعت ہوگی،جبکہ لڑکی فقیر ہو یعنی خود اس کی مِلک میں مال نہ ہو ۔ نیز اس کی شادی کے اخراجات بھی بقدرِ استطاعت باپ پر ہی ہوں گے، خواہ وہ ماں کے پاس رہے یا باپ کے ساتھ رہے۔ہاں اگر لڑکی جب جوان ہوگئی اور اُس کی شادی کردی تو اب شوہر پرنفقہ ہے باپ بری الذمہ ہوگیا۔
اولاد کا خرچہ باپ کے حسبِ حیثیت متوسط درجہ کے اعتبار سے دلایا جائے اور یہ دیندار، اخراجات کے واقف کار مسلمانوں کے ذریعہ طے کیا جائے کہ بچوں کا ماہانہ اوسط خرچ کیا ہوگا جتنا وہ مقرر کریں باپ دے۔
اسی طرح معتدہ عورت(عدت گزارنے والی)کا عدت میں خرچہ شوہر پر ہے۔
معتدہ عورت کے نفقہ کے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة، وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة، وإن كانت بمعصية لا نفقة لها، وإن كانت بمعنى من جهة غيرها فلها النفقة". ترجمہ: جوعورت طلاق کی عدت میں ہو وہ نفقہ وسکنی کی مستحق ہے خواہ طلاق رجعی ہو یا بائنہ یا تین طلاق ہوں خواہ عورت حاملہ ہو یا نہ ہو یہ فتاوی قاضی خان میں ہے اصل یہ ہے کہ فرقت اگر شوہر کی جانب سے ہو تو عورت کو نفقہ ملے گا اور اگر عورت کی جانب سے ہو پھر اگر یہ فرقت کسی حق کے سبب ہو تو بھی نفقہ ملے گا اور اگر کسی معصیت و نافرمانی کے سبب ہو تو اس کو نفقہ نہ ملے گا اور اگر عورت کی جانب کے علاوہ غیر جہت سے کوئی بات پیدا ہونے سے فرقت واقع ہوئی تو عورت کو نفقہ ملے گا۔(الفتاوی الہندیۃ،الباب السابع عشر فی النفقات،الفصل الثالث فی نفقۃ المعتدۃ،557/1،دار الفکر)
نابالغ اولاد کا نفقہ باپ پر واجب ہے،چنانچہ الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد".ترجمہ:نابالغ اولاد کا خرچہ ان کے باپ پر ہے اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہ کیا جائے۔(الفتاوی الہندیۃ،كتاب الطلاق، الباب السابع عشر ، الفصل الرابع في نفقة الأولاد،1/560، دار الفكر)
بالغ اولاد کے نفقے کے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة. ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز كذا في فتاوى قاضي خان" . ترجمہ: بالغ لڑکیوں کا نفقہ ان کے والد پر مطلقا واجب ہے جب تک ان کا نکاح نہ ہو جائے بشر طیکہ ان کا خود کچھ مال نہ ہو یہ خلاصہ میں ہے اور بالغ لڑکوں کا نفقہ باپ پر واجب نہیں ہے الاّ یہ کہ بالغ لڑکا لنجا ہونے یا کسی مرض کے سبب کمائی سے عاجز ہواور جو کام کر سکتا ہے مگر اچھا نہیں کرتا خراب کرتا ہے وہ عاجز کے مرتبے پر ہے یہ فتاوی قاضی خان میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،كتاب الطلاق، الباب السابع عشر ، الفصل الرابع في نفقة الأولاد،1/563، دار الفكر)
حقّ پرورش:
جب ماں باپ کے درمیان طلاق یا خلع وغیرہ کی وجہ سے جدائی ہو جائے تو شریعت مطہرہ نے لڑکا ہو تو سات سال کی عمر تک اور لڑکی میں نو سال کی عمر تک حق حضانت ( پرورش ) ماں کو دیا ہے۔سات یا نو سال کی عمر کی تعیین اس طور پر ہے کہ عموما اتنی عمر تک ہی بچے کو کھانے، پینے، پہننے اور دیگر ضروریات میں ماں کی ضرورت پڑتی ہے۔
مگر جب ماں مرتدہ یا فاجرہ ہو جائے یالا پر واہ ہو کہ ہر وقت بچے کو چھوڑ کر باہر چلی جاتی ہو یا پھر ایسے شخص سے نکاح کرلے جو بچے کے لیے اجنبی (غیر محرم ) ہو یا وہ فوت ہو جائے یا اپنا حق خود ساقط کر دے۔تو اس صورت میں حق حضانت مذکورہ صورتوں (مرتدہ، فاجرہ لا پرواہ، اجنبی سے نکاح ، وفات ، اسقاط) میں یکے بعد دیگر درج ذیل عورتوں کی طرف منتقل ہوتا رہے گا، عورتوں میں سب سے مقدم ؛
(۱)ماں ہے (۲) پھر سگی نانی (۳) پھر سگی نانی کی ماں
(۴) پھر سگی دادی (۵) پھر سگی دادی کی ماں (۶) پھر بچے کی بہن
(۷)پھر ماں شریک (ماں ایک ہو ، باپ الگ ہو) بہن (۸) پھر باپ شریک بہن (۹) پھر سگی بھانجی (۱۰) پھر ماں شریک بھانجی (۱۱) پھر باپ شریک بھانجی
(۱۲)پھر سگی خالہ (۱۳) پھر ماں شریک خالہ (۱۴) پھر باپ شریک خالہ
(۱۵) پھر سگی بھتیجی (۱۶) پھر ماں شریک بھتیجی (۱۷)پھر باپ شریک بھتیجی
(۱۸)پھر سگی پھوپھی (۱۹)پھر ماں شریک پھو بھی (۲۰) پھر باپ شریک پھو بھی
(۲۱) پھر ماں کی سگی خالہ (۲۲) پھر ماں کی ماں شریک خالہ (۲۳) پھر ماں کی باپ شریک خالہ
(۲۴)پھر باپ کی سگی خالہ (۲۵) پھر باپ کی ماں شریک خالہ (۲۶) پھر باپ کی باپ شریک خالہ
(۲۷) پھر ماں کی سگی پھوپھی (۲۸)پھر ماں کی ماں شریک پھوپھی (۲۹)پھر ماں کی باپ شریک پھوپھی
(۳۰) پھر باپ کی سگی پھوپھی (۳۱) پھر باپ کی ماں شریک پھوپھی (۳۲) پھر باپ کی باپ شریک پھوپھی
یہ بتیس 32عور تیں ہیں۔
ان مذکورہ عورتوں میں سے کوئی نہ ہو یا پھر مذکورہ صورتوں کے سبب حق پرورش کی مستحق نہ رہیں تو حق حضانت عصبہ مردوں کی طرف یکے بعد دیگر مذکورہ صورتوں میں سے ارتداد ، فسق و فجور ، لا پرواہی اور وفات پائے جانے کی صورت میں منتقل ہوتا رہے گا ۔جن میں سب سے مقدم باپ ہے ، پھر دادا، پھر سگا بھائی، پھر باپ شریک بھائی، پھر سگا بھتیجا، پھر باپ شریک بھتیجا، پھر سگا چچا، پھر باپ شریک چچا۔ پھر ان عصبات کے بعد ذوی الارحام اپنی ترتیب کے اعتبار سے حقدار ہونگے۔ (فتاوی رضویہ،13/389،رضا فاؤنڈیشن لاہور) (بہار شریعت،2/254،مکتبۃ المدینہ کراچی)
مذکورہ تمام صورتوں میں نابالغ بچوں کے نان و نفقہ کا ذمہ دار والد ہوتا ہے، خواہ بچے ددھیال میں رہیں یا ننہیال میں۔یاد رہے کہ پرورش کے دوران یا بعد میں اگر ماں یا باپ بچی کو ملنا اور دیکھنا چاہیں توملنے اور دیکھنے سے کوئی منع نہیں کر سکتا ۔
پھر مذکورہ مدت کے بعد اولاد اپنے باپ کے ساتھ رہے گی؛
اس طور پر کہ لڑکا سات سال سے لے کر بالغ ہونے تک لڑکااپنے باپ یا دادا یا کسی اور ولی کے پاس رہے گا پھر جب بالغ ہوگیا اور سمجھدارہے کہ فتنہ یا بدنامی کا اندیشہ نہ ہوا ور تا دیب کی ضرورت نہ ہو تو جہاں چاہے وہاں رہے اور اگر اِن باتوں کا اندیشہ ہواور تا دیب کی ضرورت ہو تو باپ دادا وغیرہ کے پاس رہے گا خود مختار نہ ہوگامگربالغ ہونے کے بعد باپ پر نفقہ واجب نہیں،البتہ بحالِ زمانہ بلوغت کے بعد بھی لڑکے کو خود مختار نہیں رکھا جائےگا، جب تک چال چلن اچھی طرح درست نہ ہو لیں اور پورا اعتماد نہ ہوجائے کہ اب اس کی وجہ سے فتنہ و عار نہ ہوگا کیونکہ آج کل اکثر صحبتیں اخلاق ِ انسانی خراب کرتی ہیں اور نو عمری میں فساد بہت جلد سرایت کرتا ہے۔
پھر لڑکی نو سال کے بعد جب تک کنواری ہے باپ دادا بھائی وغیرہم کے یہاں رہے گی مگر جبکہ عمر رسیدہ ہو جائے اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اسے اختیار ہے جہاں چاہے رہے اور لڑکی ثیبہ ہے مثلاً بیوہ ہے اور فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اسے اختیار ہے، ورنہ باپ دادا وغیرہ کے یہاں رہےپھر اگر کوئی محرم نہ ہو تو کسی امانت دار عورت کے پاس رہے جو اس کی عفت کی حفاظت کرسکے اور اگر لڑکی ایسی ہو کہ فساد کا اندیشہ نہ ہو تو اختیار ہے۔
سنن ابی داود کی روایت ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي، وَأَرَادَ أَنْ يَنْتَزِعَهُ مِنِّي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي»".ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک عورت عرض گزار ہوئی: یا رسول اللہﷺ یہ میرا بیٹا ہے۔ میرا پیٹ اِس کا برتن تھا، میری چھاتی اس کا مشکیزہ تھی اور میری گود اس کی رہائش گاہ تھی۔ اِس کے والد نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اَب وہ اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا: تم اس بچے کی زیادہ حق دار ہو جب تک تم (کسی اور سے) نکاح نہ کر لو۔(سنن ابی داود، کتاب الطلاق ،باب من أحق بالولد،رقم:2276، المكتبة العصرية)
علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) لکھتے ہیں:"وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: طَلَّقَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أُمَّ ابْنِهِ عَاصِمٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَلَقِيَهَا وَمَعَهَا الصَّبِيُّ فَنَازَعَهَا وَارْتَفَعَا إلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَضَى أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - لِأُمِّهِ مَا لَمْ يَشِبَّ أَوْ تَتَزَوَّجْ وَقَالَ: إنَّ رِيحَهَا وَفِرَاشَهَا خَيْرٌ لَهُ حَتَّى يَشِبَّ أَوْ تَتَزَوَّجَ".ترجمہ:حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہعمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کوطلاق دے دی، اوراپنے بیٹے عاصم کے بارے میں بحث ہوئی تووہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے توابوبکر رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمر کے بارے میں فیصلہ کیا : اپنی ماں کے پاس رہےجب تک کہ وہ بڑا نہ ہو جائے یا (ان کی ماں) شادی نہ کر لے۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب الحضانۃ،فصل فی وقت الحضانۃ،4/ 42،دار الكتب العلمية)
مدّت حضانت کے بعد والد کب تک لڑکے کو اپنے پاس رہنے رکھے گا ،اسکے متعلق علامہ حصکفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:"(وَالْغُلَامُ إذَا عَقَلَ وَاسْتَغْنَى بِرَأْيِهِ لَيْسَ لِلْأَبِ ضَمُّهُ إلَى نَفْسِهِ) إلَّا إذَا لَمْ يَكُنْ مَأْمُونًا عَلَى نَفْسِهِ فَلَهُ ضَمُّهُ لِدَفْعِ فِتْنَةٍ، أَوْ عَارٍ، وَتَأْدِيبُهُ إذَا وَقَعَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَلَا نَفَقَةَ عَلَيْهِ إلَّا أَنْ يَتَبَرَّعَ بَحْرٌ". ترجمہ:اور نابالغ لڑکا جب سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور اپنی رائے کی وجہ سے مستغنی ہو جائے تو باپ کو اسے اپنے پاس رکھنے کی ولایت نہیں ہوگی مگر جب اس کی ذات کے بارے میں کوئی امن نہ ہو تو باپ کو حق حاصل ہوگا کہ اسے اپنے پاس رکھے تا کہ فتنہ اور عار کو دور کرےجب اس سے کوئی شے واقع ہو تو اسے ادب سکھائے اور (اب بلوغت ِعقل کے بعد)باپ پر نفقہ لازم نہیں ہوگا الا یہ کہ ازروئے نیکی دے تو حرج نہیں،بحر۔(الدر المختار،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،3/568،دار الفکر)
علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:"وَعِبَارَةُ الزَّيْلَعِيِّ: ثُمَّ الْغُلَامُ إذَا بَلَغَ رَشِيدًا فَلَهُ أَنْ يَنْفَرِدَ إلَّا أَنْ يَكُونَ مُفْسِدًا مَخُوفًا عَلَيْهِ إلَخْ. وَاحْتَرَزَ عَمَّا إذَا بَلَغَ مَعْتُوهًا".ترجمہ:زیلعی کی عبارت یہ ہے کہ پھر لڑکا جب دانش مند بالغ ہو جائے تو اسے الگ رہنے کا حق ہو گا مگر جب وہ فساد بر پا کرنے والاہو اور اس کے بارے میں خوف ہو۔ اور اس سے احتراز کیا ہے جب وہ بدحواس بالغ ہو۔(رد المحتار،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،3/568،دار الفکر)
مدّت حضانت کے بعد والد کب تک لڑکی کو اپنے پاس رہنے رکھے گا ،اسکے متعلق متعلق علامہ حصکفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:"(بَلَغَتْ الْجَارِيَةُ مَبْلَغَ النِّسَاءِ، إنْ بِكْرًا ضَمَّهَا الْأَبُ إلَى نَفْسِهِ) إلَّا إذَا دَخَلَتْ فِي السِّنِّ وَاجْتَمَعَ لَهَا رَأْيٌ فَتَسْكُنُ حَيْثُ أَحَبَّتْ حَيْثُ لَا خَوْفَ عَلَيْهَا (وَإِنْ ثَيِّبًا لَا) يَضُمُّهَا (إلَّا إذَا لَمْ تَكُنْ مَأْمُونَةً عَلَى نَفْسِهَا)". ترجمہ:لڑکی اس عمر کو پہنچ گئی جس عمر میں عورتیں بالغ ہو جاتی ہیں اگر باکرہ ہوگی تو باپ اسے اپنے پاس رکھ لے گا مگر جب وہ پختگی کی عمر کو پہنچ جائے اور وہ رائے والی ہو تو جہاں وہ چاہے گی وہاں رہے گی اس پر کوئی خوف نہیں ہوگا۔اگر وہ ثیبہ ہو تو اسے پاس نہیں رکھے گا مگر جب اس عورت کےبارے میں اس کی ذات پر امن نہ ہو۔(الدر المختار،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،3/568،دار الفکر)
لڑکے کی مدت حضانت کے متعلق علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(وَالْحَاضِنَةُ) أُمًّا، أَوْ غَيْرَهَا (أَحَقُّ بِهِ) أَيْ بِالْغُلَامِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْ النِّسَاءِ وَقُدِّرَ بِسَبْعٍ وَبِهِ يُفْتَى لِأَنَّهُ الْغَالِبُ. وَلَوْ اخْتَلَفَا فِي سِنِّهِ، فَإِنْ أَكَلَ وَشَرِبَ وَلَبِسَ وَاسْتَنْجَى وَحْدَهُ دُفِعَ إلَيْهِ وَلَوْ جَبْرًا وَإِلَّا لَا ".ترجمہ:پرورش کرنے والی ماں ہو یا کوئی اور، وہ لڑکے کی حقدار ہوگی جب تک لڑکا عورت کی پرورش سے مستغنی نہیں ہوجاتا اور یہ مدت اندازاً سات سال ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا،کیونکہ یہی غالب ہے اگر بچے کے ماں باپ میں اختلاف ہو جائے ۔ اگر بچہ کھائے، پیئے ،اپنا لباس پہنے اور تنہا استنجا کرے تو بچہ باپ کے حوالے کر دیا جائے گااگرچہ باپ کو جبرا دیا جائے وگرنہ نہیں (یعنی چاروں امور کھانا ،پینا،لباس پہننااور تنہا استنجاکے قابل ہونا یا ان میں سے بعض نہ پائی جائیں تو بچہ باپ کے حوالے نہیں کیا جائے گا )۔(الدر المختار،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،3/566،دار الفکر)
لڑکی کی مدت حضانت کے متعلق علامہ حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"(وَالْأُمُّ وَالْجَدَّةُ) لِأُمٍّ، أَوْ لِأَبٍ (أَحَقُّ بِهَا) بِالصَّغِيرَةِ (حَتَّى تَحِيضَ) أَيْ تَبْلُغَ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ... (وَغَيْرُهُمَا أَحَقُّ بِهَا حَتَّى تُشْتَهَى) وَقُدِّرَ بِتِسْعٍ وَبِهِ يُفْتَى...(وَعَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ الْحُكْمَ فِي الْأُمِّ وَالْجَدَّةِ كَذَلِكَ) وَبِهِ يُفْتَى لِكَثْرَةِ الْفَسَادِ زَيْلَعِيٌّ. وَأَفَادَ أَنَّهُ لَا تَسْقُطُ الْحَضَانَةُ بِتَزَوُّجِهَا مَا دَامَتْ لَا تَصْلُحُ لِلرِّجَالِ".ترجمہ:لڑکی کی حقدار اس کی ماں یا دادی ہے جب تک اسے حیض نہ آجائے یعنی وہ بالغ ہوجائے،یہ ظاہر الروایہ ہے، اور ماں اور دادی کے علاوہ ہوں تو پھر وہ لڑکی کے مشتہاۃ (قابل شہوت)ہونے تک حقدار ہوں گے، یہ مدت اندازاً نوسال ہے،اور اسی پر فتوی دیا جائے گا، اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ ماں اور دادی کیلئے بھی یہی حکم ہے اور اسی پر فتوی دیا جائے گا فتنہ کی کثرت کی وجہ سے،زیلعی ۔اور اس عبارت سے معلوم ہوا کہ عورت کا حقِ حضانۃ (پرورش) نکاح کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا جب تک لڑکی مرد کے قابل نہیں ہوجاتی۔(الدر المختار،کتاب الطلاق،باب الحضانۃ،3/566-567،دار الفکر)
مرتدہ و فاجرہ ہونے کی وجہ سے ماں حق پرورش کھودیتی ہے،چنانچہ الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"أَحَقُّ النَّاسِ بِحَضَانَةِ الصَّغِيرِ حَالَ قِيَامِ النِّكَاحِ أَوْ بَعْدَ الْفُرْقَةِ الْأُمُّ إلَّا أَنْ تَكُونَ مُرْتَدَّةً أَوْ فَاجِرَةً غَيْرَ مَأْمُونَةٍ كَذَا فِي الْكَافِي... وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ أُمٌّ تَسْتَحِقُّ الْحَضَانَةَ بِأَنْ كَانَتْ غَيْرَ أَهْلٍ لِلْحَضَانَةِ أَوْ مُتَزَوِّجَةً بِغَيْرِ مَحْرَمٍ أَوْ مَاتَتْ فَأُمُّ الْأُمِّ أَوْلَى مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ، وَإِنْ عَلَتْ".ترجمہ: نابالغ بچے کی پرورش کے واسطے سب سے زیادہ مستحق اس کی ماں ہے خواہ حالت قیام نکاح ہو یا فرقت واقع ہوگئی لیکن اگر اس کی ماں مرتد ہ یا فاجرہ غیر مامونہ ہو تو ایسا نہیں ہے یہ کافی میں ہے۔اور اگر بچہ کی ماں حق پرورش نہ رکھے (مثلاً بسبب امور مذکورہ کے وہ اہلیت حضانت کی نہ رکھتی ہو) یا غیر محرم(یعنی نسب میں غیر محرم نہ کہ ازروئے رضاعت محرم) سے شادی کر لی ہو یا مرگئی ہو تو ماں کی ماں اولی ہے بہ نسبت اور سب کےاگر چہ اونچے درجہ میں ہو (یعنی پرنانی وغیرہ)۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الطلاق،الباب السادس عشر فی الحضانۃ،1/541-542،دار الفکر)
مزید امور جن کی بناء پر ماں حق پرورش نہیں رکھتی انہیں صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) نے تحریر فرمایا :’’ کسی فسق میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے بچہ کی تربیت میں فرق آئے مثلاًزانیہ یا چور یا نوحہ کرنے والی ہے تواُس کی پرورش میں نہ دیا جائے بلکہ بعض فقہانے فرمايا اگر وہ نماز کی پابندنہیں تو اُسکی پر ورش میں بھی نہ دیا جائے مگر اصح یہ ہے کہ اُس کی پرورش میں اُس وقت تک رہے گا کہ نا سمجھ ہو جب کچھ سمجھنے لگے تو علیحدہ کر لیں کہ بچہ ماں کو دیکھ کر وہی عادت اختیار کریگا جو اُس کی ہے۔ یوہیں ماں کی پرورش میں اُسوقت بھی نہ دیاجائے جبکہ بکثرت بچہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر چلی جاتی ہو اگرچہ اُسکا جانا کسی گناہ کے ليے نہ ہو مثلاًوہ عورت مُردے نہلاتی ہے یا جنائی ہے یا اور کوئی ایسا کام کرتی ہےجس کی وجہ سے اُسے اکثر گھر سے باہر جانا پڑتا ہے یاوہ عورت کنیزیا ام ولدیا مدبرہ ہو یا مکاتبہ ہو جس سے قبل عقد کتابت بچہ پیدا ہوا جبکہ وہ بچہ آزادہو اور اگر آزاد نہ ہو تو حقِ پرورش مولیٰ کے ليے ہے کہ اُس کی ملک ہے مگر اپنی ماں سے جُدا نہ کیاجائے۔(بہار شریعت،2/252-253،مکتبۃ المدینہ کراچی)
عدت میں بیٹھی عورت کو بچے کی پرورش کا معاوضہ نہیں ،البتہ عدت کے بعد معاوضہ ضرور ہے۔چنانچہ صدر الشریعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ماں کی پر ورش میں بچہ ہواور وہ اس کے باپ کے نکاح یا عدت میں ہو تو پرورش کا معاوضہ نہیں پائے گی‘‘۔(بہار شریعت،2/253-254) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:5 رجب المرجب1445 ھ/17جنوری 2024ء