تحفہ کے ثبوت میں قبضہ اور رجسٹریشن کا شرعی حکم
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 271

    سوال

    جس مکان میں ابھی ہماری رہائش ہے اسے میرےوالد صاحب نے خرید کر والدہ کے نام کیا تھا۔اب والدہ کے انتقال کے بعد اس مکان کی وراثت کس طرح تقسیم کریں۔وارثین میں والد،2بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں۔

    سائل:مبشر احمد،کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تو امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے اخراجات ،قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو ترکے کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد) تمام ترکہ کے کل8حصے کئے جائیں گےجن میں سے2حصے والد کو ،ہر بیٹے کو 2 حصےاور ہر بیٹی کو 1 حصہ تقسیم ہوگا۔

    مرحومہ کے ترکے کی رقم کی تقسیم کا طریقہ کاریہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 8پر تقسیم(Divide) کردیں، جو جواب آئے اس کو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب (Multiply)دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    المسئلة بهذه الصورة:

    4×2=8

    میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    شوہر 2بیٹے 2بیٹیاں

    ربع عصــــــــــــــــــــــــبہ

    1×2 3×2=6

    2 4فی کس2 2فی کس1


    مسئلہ کی تفصیل:

    ہبہ(تحفہ) کے مکمل ہونے کیلئے موہوب لہ (جس کو ہبہ کیاجائے ) کا شے موہوب (جوچیز ہبہ کی جائے ) پر قبضہ کرنا ضروری ہے ۔ اور ہبہ تام ہونے کے لیے قبضہ کی شرط خلفائے راشدین رضی اللہ عنہمکے فیصلوں سے ثابت ہے، البتہ قبضہ کی کیفیتاور نوعیت کا ذکر نص میں نہیں، اس لیے اس کا مدار عرف پرہے، یعنی عرف میں جسے قبضہ سمجھا جاتا ہو وہی شرعاً بھی قبضہ شمار ہوگا، خواہ قبضہ حقیقی ہو یا حکمی۔

    چنانچہ فقہاء کرام علیہم الرضوان نے اپنےاپنے زمانے کے عرفکے لحاظ سے مختلفاشیاء کے قبضہ کی مختلف صورتیں بیان فرمائی ہیں ، لیکن عبارات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے قبضہ کے لیے جن امور کوحضرات فقہاء کرام نے لازم قراردیا ہے وہ امور درحقیقت بذات خود مقصود نہیں ، بالخصوص جبکہ وہ منصوص بھی نہیں، بلکہ ان امور سے اصل مقصود یہ ہے کہ قبضہ کرنے والا اس زمین پر ہر قسم کے مالکانہ تصرفاتکرنے میں خود مختارہو۔چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لیے اس زمانے میں جو امور ضروری سمجھے جاتے تھے انہیں فقہاء کرام نے ضروری قراردیا لیکن چونکہ وہ عرف پر مبنی ہیں اس لئےعرف کے بدلنے سے قبضہ کی صورتوں میں بھی تبدیلی ہوسکتی ہے ۔

    البتہ بنیادیچیز جس پر تمام فقہاء کرام زمین کے قبضہ کے حوالے سے متفق ہیں وہ ہے ”تخلیہ“ ۔ا ور تخلیہ کی حقیقت یہ ہے کہ ارض موہوبہ اور موب لہ کے درمیان تمام رکاوٹوں کواس طرح ختم کردیا جائے کہ موہوب لہ کواپنی مرضی سے اس میں تصرف کی قدرت اوراختیار حاصل ہوجائے اور کوئی مانع نہ ہو۔نیز اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اشیاء کے مختلف ہونے سے ان کے قبضہ کی کیفیت بھی مختلف ہوتی ہے، یعنی ہر چیز میں مالکانہ تصرفات کا اختیار ملنے کی کیفیت وہی ہوگی جواس کے مناسب ہو۔

    اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ صورت مسؤولہ میں مکان رجسٹرڈ کرانے والدہ کی ملکیت اس مکان میں ثابت ہوگئی کہ ہمارے عرف میں رجسٹریشن قبضہ حکمی کی ایک صورت ہےاور قبضہ ہونے پر ہبہ تام ہوتا ہے جسکے نتیجے میں موہوب لہ کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے۔لہذا مذکورہ مکان میں والدہ کی وراثت جاری ہوگی کہ ترکہ مورث کی مملوکہ اشیاء میں ہوتا ہے اور مکان والدہ کی ملکیت ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    وراثت میں شوہر کے حصے کے متعلق ارشادباری تعالی ہے:وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ.ترجمہ: اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ.ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)

    ترکہ کی تعریف علامہ علی بن محمد الشریف الجرجانی (المتوفی:816ھ) نے یوں بیان فرمائی:"ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه".ترجمہ:ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اورجسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا۔(التعریفات،باب التاء،1/56،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    ورثاء اسی چیز کےمستحق ہوتے ہیں، جو مرنے والے کی ملک ہو، چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”ورثاء اس چیز کے مستحق ہوتے ہیں، جو مورث کی ملک اوراس کاترکہ ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ،17/306،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

    قبضہ کی شرط خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے،علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"(وَلَنَا) إجْمَاعُ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - وَهُوَ مَا رَوَيْنَا أَنَّ سَيِّدَنَا أَبَا بَكْرٍ وَسَيِّدَنَا عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - اعْتَبَرَا الْقِسْمَةَ وَالْقَبْضَ لِجَوَازِ النُّحْلَى بِحَضْرَةِ الصَّحَابَةِ وَلَمْ يُنْقَلْ أَنَّهُ أَنْكَرَ عَلَيْهِمَا مُنْكِرٌ فَيَكُونُ إجْمَاعًا وَرُوِيَ عَنْ سَيِّدِنَا أَبِي بَكْرٍ وَسَيِّدِنَا عُمَرَ وَسَيِّدِنَا عُثْمَانَ وَسَيِّدِنَا عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - عَنْهُمْ أَنَّهُمْ قَالُوا لَا تَجُوزُ الْهِبَةُ إلَّا مَقْبُوضَةً مَحُوزَةً وَلَمْ يَرِدْ عَنْ غَيْرِهِمْ خِلَافُهُ وَلِأَنَّهَا عَقْدُ تَبَرُّعٍ فَلَوْ صَحَّتْ بِدُونِ الْقَبْضِ لَثَبَتَ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ وِلَايَةُ مُطَالَبَةِ الْوَاهِبِ بِالتَّسْلِيمِ فَتَصِيرُ عَقْدَ ضَمَانٍ وَهَذَا تَغْيِيرُ الْمَشْرُوعِ".ترجمہ:(ہبہ میں قبضہ شرط ہونے پر)ہماری دلیل صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے۔ اور یہ وہ روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے صحابہ کی موجودگی میں تحفہ کے جواز کیلئے تقسیم اور قبضہ کا اعتبار کیا اور منقول نہیں کہ کسی انکار کر نیوالے نے اس پر انکار کیا ہو،پس یہ اجماع ہوگا۔ نیز حضرت سیدنا ابوبکر ، عمر فاروق، عثمان غنی،مولا علی اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہبہ جائز نہیں ہوتا مگر جب کہ مقبوض و مجوزیعنی تقسیم کیا ہوا ہو۔اور اس کے خلاف کچھ وارد نہیں ہوا۔نیز یہ عقد تبرع ہے اور اگر بغیر قبضے کے ہبہ صحیح ہو جائے تو موہوب لہ کو واہب سے سپرد کرنے کے مطالبہ کا اختیار حاصل ہوگااور اس پر یہ عقد ضمان بن جائے گا جو کہ مشروع کی تغییر ہے۔(بدائع الصنائع،کتاب الہبۃ،فصل فی شرائط رکن الہبۃ،6/123،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    ہبہ قبضہ شرعی سے مکمل ہوتاہے،علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"قَالَ فِي التَّتَارْخَانِيَّة قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ الْهِبَةَ لَا تَتِمُّ إلَّا بِالْقَبْضِ وَالْقَبْضُ نَوْعَانِ حَقِيقِيٌّ وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ وَحُكْمِيٌّ وَذَلِكَ بِالتَّخْلِيَةِ".ترجمہ:فتاویٰ تتارخانیہ میں ہے:ہم ذکر چکے ہیں کہ بے شک ہبہ قبضہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ، اور قبضہ کی دو قسمیں ہیں:(1) حقیقی : وہ تو ظاہر ہے اور (2) حکمی: تو وہ تخلیہ سے ہوتا ہے۔(منحۃالخالق،7/486،دار الکتاب کوئٹہ)

    تخلیہ بھی قبضہ شرعی ہے،علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"وَالْقَبْضُ عِنْدَنَا هُوَ التَّخْلِيَةُ، وَالتَّخَلِّي وَهُوَ أَنْ يُخَلِّيَ الْبَائِعُ بَيْنَ الْمَبِيعِ وَبَيْنَ الْمُشْتَرِي بِرَفْعِ الْحَائِلِ بَيْنَهُمَا عَلَى وَجْهٍ يَتَمَكَّنُ الْمُشْتَرِي مِنْ التَّصَرُّفِ فِيهِ فَيُجْعَلُ الْبَائِعُ مُسَلِّمًا لِلْمَبِيعِ، وَالْمُشْتَرِي قَابِضًا لَهُ، وَكَذَا تَسْلِيمُ الثَّمَنِ مِنْ الْمُشْتَرِي إلَى الْبَائِعِ".ترجمہ:ہمارے نزدیک قبضے سے مراد شے کا تخلیہ اور تخلی (خالی کرنا) ہے، وہ اس طرح کہ بائع مبیع اور مشتری کے مابین تخلیہ کر دے۔ یعنی مشتری اور اس کے درمیان وہ رکاوٹ کو اس طرح دور کردے کہ مشتری کیلئے ان میں تصرف کرنا ممکن ہو جائے تو اس طرح بائع مبیع کو سونپنے والا اور مشتری اس پر قبضہ کرنے والا ہوگا۔ یہی حکم مشتری کی جانب سے بائع کو ثمن کی ادائیگی کا ہے۔ (بدائع الصنائع،کتاب البیوع،فصل فی حکم البیع،5/244،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    ہر شے کا قبضہ اسکے اپنے اعتبار سے ہوتا ہے،علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:"لِأَنَّ قَبْضَ كُلِّ شَيْءٍ وَتَسْلِيمَهُ يَكُونُ بِحَسَبِ مَا يَلِيقُ بِه".ترجمہ:ہر شے کا قبضہ و تسلیم شے کی مناسبت سے ہوتا ہے۔(البحر الرائق،کتاب الوقف،فصل اختص المسجد باحکام،5/268،دار الکتاب الاسلامی)

    قبضہ کاملہ کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں‘‘۔(فتاویٰ رضویہ،کتاب الہبۃ، 19/ 219، رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23 جمادی الآخر1445 ھ/6جنوری 2024ء