کورٹ میرج کا شرعی حکم
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 273

    سوال

    میری عمر 46سال ہوگئی ہے ، میری شادی نہیں ہوئی جو رشتہ آتا ہے وہ واپس نہیں آتا۔ایک صاحب ایک سال سے رشتہ لے کر آرہے ہیں لیکن میرے بھائی بہن راضی نہیں جس سے بھی میں بات کرتی ہوں وہ منع کر دیتا ہے۔پہلے تو سب ہاں کہتے ہیں پھر جب ان کے گھر والوں سے ملنے کا وقت آتا ہے تو منع کر دیتے ہیں۔سب کا خیال ہے کہ مجھ پر بندش ہے۔یہ جو رشتہ ہے انکی پہلی بیوی انتقال کر گئی ہیں،چار بچے جوان اور شادی شدہ ہیں وہ مجھے الگ گھر میں رکھیں گے۔انہوں نے دوسرا نکاح کیا تھا وہ اب نہیں ہے صرف نکاح ہوا تھا ۔

    سوال یہ ہے کہ گھر والے اگر راضی نہیں ہیں تو کیا میں کورٹ میرج کرسکتی ہوں؟

    سائل:ثمرین مالک ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں اگر دو عاقل بالغ گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ کورٹ میرج ہو تو یہ جائز ہے۔البتہ اگر اس کورٹ میرج میں ایجاب و قبول نہ ہوا بلکہ اقرار و اخبار کے جملے کہے گئے یا شرعی گواہان نہ ہوئے تو نکاح منعقد نہیں ہوگا۔

    مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ کورٹ میرج ہو یا عام میرج بغیر ولی کے بالغہ لڑکی کا خود نکاح کرنا اس وقت درست قرار پاتا ہے جب وہ نکاح کفو (کفو سے مراد یہ ہے کہ نسب،پیشہ،مال اور دیانت یعنی چال چلن میں مرد عورت سے ایسا کمتر نہ ہو کہ عرف و رواج میں لڑکی کے اولیاء کیلئے باعث عار ہو)میں ہو اور اگر بالغہ غیر کفو میں ازخود نکاح کرے اور ولی نے نکاح سے پہلے جانتے بوجھتے اس غیر کفو مرد سے نکاح کی اجازت دی تھی تو یہ نکاح درست قرار پائے گا ،لہذا سوال میں اگر مرد عورت کا کفو نہ بھی ہو تب بھی دیگر شرائط کے ساتھ یہ نکاح درست قرار پائے گا کہ ولی یعنی بھائی کا رشتے والوں کے آنے سے پہلے رضامندی کا اظہارخود دلیلِ جواز ہے۔پھر ایجاب و قبول میں انشائیہ جملے ہونا لازم ہے خبریہ نہیں اور عموماکورٹ میں مرد و عورت اپنے بالغ ہونے کا اقرار و ثبوت دیتے ہیں اور جج اس بات کو جاننا چاہتا ہے کہ وہ دونوں بغیر دباؤ کے اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتے ہیں، پس محض یہ کاروائیاں ایجاب و قبول نہیں ہوسکتی ہیں۔

    یہ خیال درست نہیں کہ ہر لڑکی کا نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوتااور اسکے نکاح میں ولی کا ہونا لازم ہے۔قرآن مجید میں اللہ رب العزّت نے نکاح کرنے کی نسبت عورت کی طرف کی نہ کہ ولی کی طرف۔چنانچہ ارشاد ہوا : حَتَّى تَنْكِحَ.یعنی حتی کہ وہ عورت نکاح کرے۔(البقرۃ:230) پھر صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ’’ایم‘‘)وہ عورت جس کا کوئی شوہر نہ ہو خواہ وہ باکرہ ہو یا نہ ہو)بالغہ اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے۔(صحیح مسلم،کتاب النکاح، باب استئذان الثيب في النكاح بالنطق،2/1037،رقم:1421،دار احیاء التراث العربی)اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ شریعت نے ’’ایم‘‘کو اپنے نکاح کا حقدار ولی سے زیادہ بنایا ہے اسی لئے ولی ایسی عورت کا نکاح اسی صورت میں کر سکتا ہے جب وہ راضی ہو۔(رد المحتار،کتاب النکاح،باب الولی،3/56،دار الفکر)

    نیز اصطلاح فقہ میں ولی اس عاقل بالغ شخص کو کہتے ہیں جسے دوسرے کی جان یا مال پر مخصوص قدرت حاصل ہو (بہار شریعت،2/42،مکتبۃ المدینۃ کراچی) اور صورت مسؤولہ میں بھائی ولی ہے اس طور پر کہ قرابت کی وجہ سے ولایت عصبہ بنفسہ(رشتہ داروں کی ایک قسم کا نام ہے یہ وہ ہوتے ہیں کہ جن سے رشتے داری قائم ہونے کے لئے کسی عورت کا واسِطہ نہیں آتاجیسا کہ چچا جبکہ ماموںکی رشتے داری ماں کے واسطے سے ہے )کے لئے ہے ان میں ترجیح کے لئے یہاں بھی اسی ترتیب کا لحاظ رکھا گیاہے جو وراثت میں معتبر ہے یعنی ان رشتے داروں میںسے جو سب سے نزدیکی درجہ یعنی رشتہ رکھے اسے ولی اقرب ( قریب ترین ولی)قرار دیا جاتا ہے اور اقرب کے ہوتے ہوئے ابعد (دوری والا)ولی اپنے حق کا استعمال کرنے سے محروم رہتا ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    کفو کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’بالغہ جو بے رضائے ولی بطور خود اپنا نکاح خفیہ خواہ اعلانیہ کرے، اس کے انعقاد وصحت کے لیے یہ شرط ہے کہ شوہر اس کا کفو ہویعنی مذہب یا نسب یا پیشے یامال یا چلن میں عورت سے ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ ا س کا نکاح ہونا اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو، اگر ایساہے تو وہ نکاح نہ ہوگا... مال میں کفاءت کو صرف اس قدر كفايت کہ وہ شخص اگر پیشہ ور ہو تو روز کا روز اتنا کماتا ہو جو اس عورت غنیہ کے قابل کفایت روزانہ دے سکے، اور پیشہ ورنہیں تو ایک مہینہ کا نفقہ دے سکے، اور مہر جس قدر معجل ٹھہر ے اس کے ادا پر قدرت بہرحال درکار ہے۔ (فتاوی رضویہ ،11/214-215،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    غیر کفو کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:’’شرع میں غیر کفو وہ ہے کہ نسب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن میں ایسا کم ہو کہ اس کے ساتھ عورت کا نکاح اولیائے زن کے لیے باعث ننگ وعار ہو، ایسے شخص سے اگر بالغہ بطورخودنکاح کرے گی نکاح ہوگا ہی نہیں اگرچہ نہ ولی نے منع کیا ہو نہ اس کے خلاف مرضی ہو۔ یہ نکاح اس صورت میں جائز ہوسکے گاکہ ولی نے پیش از نکاح اس غیر کفو بمعنی مذکور کی حالت مذکورہ پر مطلع ہوکر دیدہ ودانستہ صراحۃً بالغہ کو اس کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت دے دی ہو، ان میں سے ایک شرط بھی کم ہو تو بالغہ کا کیا ہوا وہ نکاح باطل محض ہوگا اور ولی کو اس کے فسخ کرنے یا اس کا فسخ چاہنے کی کیا حاجت کہ فسخ تو جب ہو کہ نکاح ہولیا ہو، یہ تو سرے سے ہوا ہی نہیں... ہاں عوام کے محاورہ میں غیر کفو اسے کہتے ہیں جو اپنا ہم قوم نہ ہو مثلا سید و شیخ یا شیخ اور پٹھان یا پٹھان اور مغل، ایسا غیر کفو اگر اس شرعی معنی پرغیر کفو نہ ہو تو بالغہ کا بے اذن ولی بلکہ بناراضی ولی اس سے نکاح کرلینا جائز ہے اور ولی کو اس پر کوئی حق اعتراض نہیں۔(فتاوی رضویہ ، 11 /280،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    ایجاب و قبول نکاح میں لازم ہے،چنانچہ علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول".ترجمہ:نکاح ایجاب و قبول سے منعقد ہوتا ہے۔(الہدایۃ،کتاب النکاح،1/185، دار احياء التراث العربي)

    گواہی بھی نکاح کی شرط ہے،الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"(وَمِنْهَا) الشَّهَادَةُ قَالَ عَامَّةُ الْعُلَمَاءِ: إنَّهَا شَرْطُ جَوَازِ النِّكَاح". ترجمہ:شرائط نکاح سے گواہی بھی ہے اکثر علماء نے فرمایا کہ گواہی جواز نکاح کی شرط ہے۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب النکاح،الباب الاول،1/267، دار الفکر)

    اقرار و خبر سے ایجاب و قبول نہیں ہوتا،علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں:"رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ أَقَرَّا بِالنِّكَاحِ بِحَضْرَةِ الشُّهُودِ فَقَالَ هِيَ امْرَأَتِي وَأَنَا زَوْجُهَا، وَقَالَتْ هُوَ زَوْجِي وَأَنَا امْرَأَتُهُ وَقَالَ الْآخَرُ نَعَمْ لَا يَنْعَقِدُ النِّكَاحُ بَيْنَهُمَا. لِأَنَّ الْإِقْرَارَ إظْهَارٌ لِمَا هُوَ ثَابِتٌ فَهُوَ فَرْعٌ سَبَقَ الثُّبُوتَ".ترجمہ: کسی مرد اور عورت نے گواہوں کے سامنے نکاح کا اقرار کیا، اور مرد نے کہا کہ یہ میری بیوی ہے میں اس کا شوہر ہوں اور عورت نے کہا یہ میرا شوہر ہے اور میں اسکی بیوی ہوں پھر کسی نے کہا ہاں ایسا ہی ہے،تو دونوں کا نکاح منعقد نہیں ہوگا کیونکہ اقرار اس شے کا اظہار ہوتا ہے جو ثابت ہوچکا ہو پس اقرار اس ثبوت کی فرع ہے جس کا ثبوت ماضی میں گزرا۔(فتح القدیر،کتاب النکاح،3/192،دار الفکر)

    اسی طرح فتاوی قاضی خان، خلاصۃ الفتاوی اور فتاوی عالمگیری میں ہے۔(فتاوی قاضی خان ،کتاب النکاح،1/286،دار الکتب العلمیۃ بیروت)(خلاصۃ الفتاوی،کتاب النکاح ،2/4، مکتبۃ رشیدیۃ) (الفتاوی الھندیۃ،کتاب النکاح،الباب الثانی،1/272، دار الفکر)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’علماء متون وشروح وفتاوٰی میں تصریح فرماتے ہیں کہ مجرد اقرار مرد وزن سے نکاح ہر گز منعقد نہیں ہوتا، اسی پر وقایہ ونقایہ واصلاح وملتقی میں کہ سب اعاظم شرح جصاص ومختارات النوازل وفتاوی خلاصہ وخزانۃ المفتین ومختار الفتاوٰی وایضاح الاصلاح و جامع الرموز میں مذہب مختار بتایا، اسی کو تنویرالابصار ودرمختار میں مقدم رکھ کر ضعفِ مخالف کی طرف اشارہ فرمایا، اسی کو فتاوی ظہیریہ وفتاوی عالمگیریہ میں صحیح کہا، اسی پر جواہر اخلاطی میں ان دونوں لفظ فتوٰی یعنی مختار و صحیح کو جمع کرکے تیسر الفظ آکد واقوی علیہ الفتوی اور زائد کیا‘‘۔(فتاوی رضویہ،رسالۃ: عباب الانوار ان لا نکاح بمجرد الاقرار،11/124،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 رجب المرجب 1445 ھ/10 فروری 2024ء