سوال
میرا نام یونس علی خان ہے۔میری شادی کو تقریباً 36 سال ہو گئے ہیں میری شادی نازنین بنت زاہد علی خان سے طے پائی تھی۔میری زوجہ نے میری تمام جائیداد اپنے نام کروالی اور بڑے تین بیٹے جوان ہیں اُن کو بھی اپنے قابو میں کر رکھا ہے۔میری زوجہ میرا بالکل خیال نہیں رکھتی ہے میرے 2 بیٹے شادی شدہ ہیں۔25 سال سے میری بیوی سے ازواجی تعلقات نہیں ہیں جسکی وجہ سے میں نے دوسری شادی ایک بیوہ سے کرلی ،جس کا نام شازیہ بنت نذیر احمد ہے۔جب میری پہلی بیوی کو پتہ چلا کہ میں نے دوسری شادی کرلی ہے تو اُس نے میرے بیٹوں کے ساتھ مل کر مجھے بہت مارا اور کہا کہ شازیہ کو طلاق دو میں نے منع کر دیا پھر میں شازیہ کے پاس گیا تو میرے بڑے بیٹے جنید کا فون آیا اور کہا کہ بابا ابھی اس کو طلاق دو ورنہ میں اپنے آپ کو ختم کرلوں گا میں 321 تک گنتا ہوں پھر میں نے شازیہ کو طلاق دے دی،جبراً طلاق دلوائی،میں نے 3 طلاق دے دی ۔لہذا اب جبکہ میری دوسری بیوی حاملہ ہے آپ سے معلوم کرنا تھا یہ طلاق ہوئی یا نہیں؟برائے کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ:سائل سے معلوم ہوا کہ یہ جبر کانفرس کال پر ہوا اس میں پہلی زوجہ بھی لائن میں تھیں۔جبر بیٹے کی طرف سے ہوا نہ کہ بیوی کی طرف سے ۔نیز جبر طلاق پر ہوا لیکن جذبات میں شوہر نے تین طلاقیں دے دیں۔
سائل: یونس علی خان۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگرمعاملہ ایسا ہی ہے جیسا بیان ہوا تو تین طلاق مغلظہ واقع ہوگئیں۔شوہر تین طلاق دینے کی وجہ سے سخت گناہ گار اور حرام کےمرتکب ہوئےاس پراللہ تعالی کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنا لازم ہے۔اب بغیر تحلیلِ شرعی عورت ،شوہر کے لئے حلال نہیں ہو گی۔
تحلیل ِ شرعی کامطلب یہ ہے کہ جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہوں وہ عدت (یعنی اگر ماہواری آتی ہے تو تین ماہواری آکر ختم ہو جائیں اور اگر حمل کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی تو پھر اس کی عدت وضع حمل یعنی بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اگر بڑھاپے کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی تو اس کی عدت تین ما ہ ہو گی) گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرےاور کم ازکم ایک بار جسمانی تعلق قائم ہونےکے بعد وہ اس کو طلاقدے اور پھر اس کی عدت گذارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ۔
تفصیل:
عرفی و شرعی جبر میں طلاق واقع ہوجاتی ہے۔عرفی جبر کہ لوگ طلاق دینے پر اصرارکریں اور شرعی جبر کہ قتل یا عضو کاٹنےیا ضربِ شدید(یعنی ایسی مار جس سے انسان بالکل بیکار ہوجائے ) کی دھمکی دی جائے جس پر دھمکی دینے والا قادر بھی ہو تو یہ صورت جبر شرعی کی ہے۔البتہ شرعی جبر اگر تحریرِ طلاق پر ہو اور خاوند دل سے نیتِ طلاق نہ رکھے نہ ہی زبانی طلاق دے تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔لیکن صورت مسؤولہ میں نہ تو تحریرِ طلاق پر جبر تھا نہ ہی یہ شرعی جبر تھابلکہ زبانی طلاق دینے پر عرفی جبر تھا ،جس پر متفقہ طور پر طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسؤولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں۔بعض کا جو اختلاف آتا ہے وہ شرعی جبر سے متعلق ہے جبکہ ہم احناف کے نذدیک شرعی جبر میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
اشکال و جواب:
اشکال(۱):حدیث مبارکہ میں آیا کہ "عَفَوْت عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اُسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ"یعنی آپﷺ نے فرمایا:’’میں نے اپنی امت کو غلطی،بھول چوک اور جبر و اکراہ کے تحت کیے گئے افعال معاف کر دئے۔لہذا جو بھی فعل جبر کے تحت کیا جائے اس پر معافی کا حکم ہےاور ان افعال کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
جواب:حدیث مبارکہ کے اس فرمان سے کفر پر اکراہ مراد ہےنہ کہ طلاق پر اکراہ۔
اشکال(۲):کسی فعل کی نسبت فاعل کی طرف کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کا قصد بھی پایا جائے جبکہ جبر میں قصد نہیں پایا جاتا،لہذا جبرِ شرعی میں طلاق واقع نہیں ہونی چاہئے۔
جواب: یہ درست نہیں،کیونکہ اوّلا تو حدیث مبارکہ میں مذاق میں دی جانے والی طلاق کو بھی صحیح قرار دیا گیا جبکہ وہاں بھی بزعمِ سائل قصد نہیں۔سنن ابو داؤد و سنن ترمذی کی روایت ہےکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:"ثَلاَثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ وَالطَّلاَقُ وَالرَّجْعَةُ".ترجمہ:تین چیزیں ایسی ہیں کہ ارادہ کے ساتھ کی جائیں یا مذاق میں کی جائیں دونوں صورتوں میں صحیح مراد ہیں: نکاح، طلاق اور رجوع۔ (سنن ابی داؤد، كتاب الطلاق، باب في الطلاق على الهزل، 2/ 259، رقم: 2194،دار الفكر بيروت/سنن الترمذي ،كتاب الطلاق واللعان، باب ما جاء في الجد والهزل في الطلاق، 3/490، رقم: 1184،مصطفی البابی الحلبی مصر)
بر سبیلِ تنزل اگر قصد ضروری قرار دیا جائے توبھی حالتِ اکراہ میں قصد کا پایا جانا واضح ہے کیونکہ اکراہ کے وقت مکرہ (جس پر جبر کیا گیا)اپنے آپ سے ہلاکت کو دور کرنے کا قصد کرتا ہےاورمکرِہ(جبر کرنے والے) کے مطابق افعال یا اقوال کی ادائیگی کرتا ہے،جو اسکے قصد کی بین دلیل ہے۔ سو لامحالہ اکراہ کی حالت میں بھی نسبت پائی گئی تو اب وقوع طلاق سے کچھ مانع نہ رہا۔
اشکال(۳):ہازل کو مکرہ پر قیاس کرنا باطل ہے، کیونکہ مذاق کرنے والا طلاق واقع کرنے کا ارادہ کرتا ہےاور اس پر راضی ہوتا ہے، جبکہ مجبور شخص راضی نہیں ہوتا، نہ ہی اس کی طلاق کے بارے میں کوئی نیت ہوتی ہے۔
جواب: اوّلا ارادہ کا جواب پچھلی سطور میں گزرا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی مکرہ کا قصد پایا جاتا ہے۔ثانیاً طلاق کیلئے چاہت یا رضا شرط بھی نہیں۔ثالثاًیہ بھی درست نہیں کہ مذاق میں طلاق دینے والا اس پر راضی ہوتا ہے کیونکہ یہ خلاف واقع بات ہے اس لئے کہ کوئی بھی ہازل طلاق دینے میں دلی مرضی نہیں رکھتا۔
دلائل و جزئیات:
اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا : فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ.ترجمہ: ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں ۔ اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے‘‘۔(البقرۃ: 230)
اس آیت کر یمہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد".ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔ ( تفسیرروح المعانی،2/729،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )
طلاق کی عدتکی اقسام کے متعلق فتاویٰ سراجیہ میں ہے: "المطلقة تعتد بثلاث حیض ان کانت من ذوات الحیض وبثلاثة اشهر ان کانت من ذوات الاشهر کالآیسة والصغیرة عدة الحامل ان تضع حملها. ملخصا".ترجمہ:اگر طلاق یافتہ عورت کو حیض آتا ہو تو وہ تین (کامل)حیض کے ساتھ عدت گزارے گی اور (جس کو حیض نہیں آتا)تین مہینوں کے ساتھ عدت گزارے گی اگر مہینوں والی ہے جیسے آئسہ(بوڑھی)اورنابالغہ،حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔(فتاویٰ سراجیہ،ص:231،مکتبہ زمزم)
جبرِ عرفی اور جبرِ شرعی کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’لوگ کسی کے اصرار کو بھی جبر کہتے ہیں، یہ جبر نہیں... ہاں اگر جبر واکراہِ شرعی ہو۔ مثلاً قتل یا قطع عضو کی دھمکی دے جس کے نفاذپر یہ اسے قادر جانتا ہو... تو یہ صورت ضرور جبر کی ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،12/386،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
جبری طلاق واقع ہے:
علامہ شیخ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی (المتوفی:1004ھ) فرماتے ہیں:"وَصَحَّ نِكَاحُهُ وَطَلَاقُهُ وَعِتْقُه".ترجمہ:اس(مکرَہ ) کا نکاح، طلاق اور عتق صحیح ہے ۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الاکراہ،6/137،دار الفکر)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وَالْأَصْلُ أَنَّ تَصَرُّفَاتِ الْمُكْرِهِ كُلَّهَا قَوْلًا مُنْعَقِدَةٌ عِنْدَنَا إلَّا أَنَّ مَا يَحْتَمِلُ الْفَسْخَ مِنْهُ كَالْبَيْعِ وَالْإِجَارَةِ يُفْسَخُ، وَمَا لَا يَحْتَمِلُ الْفَسْخَ مِنْهُ كَالطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ وَالنِّكَاحِ وَالتَّدْبِيرِ وَالِاسْتِيلَادِ وَالنَّذْرِ فَهُوَ لَازِمٌ، كَذَا فِي الْكَافِي".ترجمہ:قاعدہ ہے کہ جس پر جبر کیا گیا ہو اس کے اس حالت کے تمام تصرفات نافذ العمل ہونگے ہاں وہ تصرفات جو فسخ کا احتمال رکھتے ہوں جیسے بیع اور اجارہ کہ یہ فسخ قرار پائیں گے اور جو فسخ کا احتمال نہیں رکھتے مثلاً طلاق، عتاق، نکاح، مدبر بنانا، ام ولد بنانا اور نذر تو یہ امور لازم ہوجائیں گے، جیسا کہ کافی میں ہے ۔ (الفتاوی الہندیۃ،کتاب الاکراہ ،الباب الاول ،5/35،دار الفکر)
علامہ ابو بکر بن علی الزبیدی (المتوفی:800ھ) فرماتے ہیں:"أَمَّا الْمُكْرَهُ فَطَلَاقُهُ وَاقِعٌ عِنْدَنَا".ترجمہ:ہمارے نذدیک مکرہ شرعی کی طلاق واقع ہے۔(الجوہرۃ النیرۃ،کتاب الطلاق،کتاب المکرہ والسکران،2/38،المطبعۃ الخیریۃ)
علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"وَأَمَّا كَوْنُ الزَّوْجِ طَائِعًا فَلَيْسَ بِشَرْطٍ عِنْدَ أَصْحَابِنَا وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ شَرْطٌ حَتَّى يَقَعُ طَلَاقُ الْمُكْرَهِ عِنْدَنَا وَعِنْدَهُ لَا يَقَعُ وَنَذْكُرُ الْمَسْأَلَةَ فِي كِتَابِ الْإِكْرَاهِ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى وَذَكَرَ مُحَمَّدٌ بِإِسْنَادِهِ «أَنَّ امْرَأَةً اعْتَقَلَتْ زَوْجَهَا وَجَلَسَتْ عَلَى صَدْرِهِ وَمَعَهَا شَفْرَةٌ فَوَضَعَتْهَا عَلَى حَلْقِهِ، وَقَالَتْ: لَتُطَلِّقَنِّي ثَلَاثًا أَوْ لَأُنْفِذَنَّهَا فَنَاشَدَهَا اللَّهَ أَنْ لَا تَفْعَلَ فَأَبَتْ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَا قَيْلُولَةَ فِي الطَّلَاقِ»".ترجمہ:ہمارے اصحاب کے نذدیک خاوند کا طلاق پر راضی ہونا شرط نہیں،جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نذدیک رضا شرط ہے۔حتی کہ ہمارے نذدیک مکرہ کی طلاق واقع ہوتی ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نذدیک واقع نہیں ہوتی۔اس مسئلہ کو ان شاء اللہ تعالی ہم کتاب الاکراہ میں ذکرکریں گے۔امام محمد رحمہ اللہ نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے کہ ’’ایک عورت اپنے شوہر کو پچھاڑ کر اس کے سینہ پر چڑھ گئی اور اس کے پاس خنجر تھا جو اس نے اپنے شوہر کے گلے پر رکھ کر اس کو کہا تو مجھے ضرور طلاق دے ورنہ میں اس خنجر کو چلا دوں گی شوہر نے اسے اللہ کی قسم دی کہ تو ایسا نہ کر اس نے انکار کر دیا تو شوہر نے اس کو تین طلاقیں دے دیں اس واقعہ کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا :لا قيلولة في الطلاق یعنی طلاق میں اقالہ/واپسی نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الطلاق،فصل في شرائط ركن الطلاق ،3/100،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
کتاب الاکراہ میں امام کاسانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:"التَّصَرُّفَاتُ الشَّرْعِيَّةُ فِي الْأَصْلِ نَوْعَانِ: إنْشَاءٌ وَإِقْرَارٌ، وَالْإِنْشَاءُ نَوْعَانِ: نَوْعٌ لَا يَحْتَمِلُ الْفَسْخَ وَنَوْعٌ يَحْتَمِلُهُ أَمَّا الَّذِي لَا يَحْتَمِلُ الْفَسْخَ فَالطَّلَاقُ وَالْعَتَاقُ وَالرَّجْعَةُ وَالنِّكَاحُ وَالْيَمِينُ وَالنَّذْرُ وَالظِّهَارُ وَالْإِيلَاءُ وَالْفَيْءُ فِي الْإِيلَاءِ وَالتَّدْبِيرِ وَالْعَفْوِ عَنْ الْقِصَاصِ، وَهَذِهِ التَّصَرُّفَاتُ جَائِزَةٌ مَعَ الْإِكْرَاهِ عِنْدَنَا وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - لَا تَجُوزُ وَاحْتَجَّ بِمَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «عَفَوْت عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اُسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ» فَلَزِمَ أَنْ يَكُونَ حُكْمُ كُلِّ مَا اُسْتُكْرِهَ عَلَيْهِ عَفْوًا، وَلِأَنَّ الْقَصْدَ إلَى مَا وُضِعَ لَهُ التَّصَرُّفُ شَرْطُ جَوَازِهِ، وَلِهَذَا لَا يَصِحُّ تَصَرُّفُ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ، وَهَذَا الشَّرْطُ يَفُوتُ بِالْإِكْرَاهِ؛ لِأَنَّ الْمُكْرَهَ لَا يَقْصِدُ بِالتَّصَرُّفِ مَا وُضِعَ لَهُ، وَإِنَّمَا يَقْصِدُ دَفْعَ مَضَرَّةِ السَّيْفِ عَنْ نَفْسِهِ.
(وَلَنَا) أَنَّ عُمُومَاتِ النُّصُوصِ وَإِطْلَاقَهَا يَقْتَضِي شَرْعِيَّةَ هَذِهِ التَّصَرُّفَاتِ مِنْ غَيْرِ تَخْصِيصٍ وَتَقْيِيدٍ.(أَمَّا) الطَّلَاقُ فَلِقَوْلِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1] وَقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «كُلُّ طَلَاقٍ جَائِزٌ إلَّا طَلَاقَ الصَّبِيِّ وَالْمَعْتُوهِ» وَلِأَنَّ الْفَائِتَ بِالْإِكْرَاهِ لَيْسَ إلَّا الرِّضَا طَبْعًا، وَأَنَّهُ لَيْسَ بِشَرْطٍ لِوُقُوعِ الطَّلَاقِ، فَإِنَّ طَلَاقَ الْهَازِلِ وَاقِعٌ وَلَيْسَ بِرَاضٍ بِهِ طَبْعًا، وَكَذَلِكَ الرَّجُلُ قَدْ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ الْفَائِقَةَ حُسْنًا وَجَمَالًا الرَّائِقَةَ تَغَنُّجًا وَدَلَالًا لِخَلَلٍ فِي دِينِهَا، وَإِنْ كَانَ لَا يَرْضَى بِهِ طَبْعًا وَيَقَعُ الطَّلَاقُ عَلَيْهَا.
وَأَمَّا الْحَدِيثُ فَقَدْ قِيلَ إنَّ الْمُرَادَ مِنْهُ الْإِكْرَاهُ عَلَى الْكُفْرِ؛ لِأَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا حَدِيثِي الْعَهْدِ بِالْإِسْلَامِ، وَكَانَ الْإِكْرَاهُ عَلَى الْكُفْرِ ظَاهِرًا يَوْمَئِذٍ وَكَانَ يَجْرِي عَلَى أَلْسِنَتِهِمْ كَلِمَاتُ الْكُفْرِ خَطَأً وَسَهْوًا، فَعَفَا اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ عَنْ ذَلِكَ عَنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ مَا أَنَّا نَقُولُ بِمُوجَبِ الْحَدِيثِ أَنَّ كُلَّ مُسْتَكْرَهٍ عَلَيْهِ مَعْفُوٌّ عَنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ لَكِنَّا لَا نُسَلِّمُ أَنَّ الطَّلَاقَ وَالْعَتَاقَ وَكُلَّ تَصَرُّفٍ قَوْلِيٍّ مُسْتَكْرَهٌ عَلَيْهِ، وَهَذَا لِأَنَّ الْإِكْرَاهَ لَا يَعْمَلُ عَلَى الْأَقْوَالِ كَمَا يَعْمَلُ عَلَى الِاعْتِقَادَاتِ؛ لِأَنَّ أَحَدًا لَا يَقْدِرُ عَلَى اسْتِعْمَالِ لِسَانِ غَيْرِهِ بِالْكَلَامِ عَلَى تَغْيِيرِ مَا يَعْتَقِدُهُ بِقَلْبِهِ جَبْرًا فَكَانَ كُلُّ مُتَكَلِّمٍ مُخْتَارًا فِيمَا يَتَكَلَّمُ بِهِ فَلَا يَكُونُ مُسْتَكْرَهًا عَلَيْهِ حَقِيقَةً فَلَا يَتَنَاوَلُهُ الْحَدِيثُ.
وَقَوْلُهُ الْقَصْدُ إلَى مَا وُضِعَ لَهُ التَّصَرُّفُ بِشَرْطِ اعْتِبَارِ التَّصَرُّفِ قُلْنَا: هَذَا بَاطِلٌ بِطَلَاقِ الْهَازِلِ ثُمَّ إنْ كَانَ شَرْطًا فَهُوَ مَوْجُودٌ هَهُنَا؛ لِأَنَّهُ قَاصِدٌ دَفْعَ الْهَلَاكِ عَنْ نَفْسِهِ وَلَا يَنْدَفِعُ عَنْهُ إلَّا بِالْقَصْدِ إلَى مَا وُضِعَ لَهُ فَكَانَ قَاصِدًا إلَيْهِ ضَرُورَةً".ترجمہ:شرعی تصرفات کی دراصل دوقسمیں ہیں: انشاء اوراقرار۔ انشاء کی آگے دو قسمیں ہیں ، ایک وہ کہ جس میں فسخ ممکن نہیں ہے ؛اس میں طلاق دینے ، غلام کو آزاد کر نے ،طلاق سے رجوع کرنے ،نکاح کرنے ،قسم کھانے ، نذر ماننے ، ظہار ، ایلا، ایلاء سے رجوع ،غلام کو مدبر کرنے اور قصاص کو معاف کرنے کے تصرفات شامل ہیں۔یہ تمام تصرفات ہمارے (یعنی احناف کے) نزدیک جبرو اکراہ کے تحت صحیح ہیں،جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح نہیں ہیں۔امام شافعی رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں آپﷺ نے فرمایا:’’میں نے اپنی امت کو غلطی،بھول چوک ہو اور جبر و اکراہ کے تحت کیے گئے فعل معاف کر دئےہیں۔لہذا جو بھی فعل جبر و اکراہ کے تحت کیا جائے اس پر معافی کا حکم لازم ہونا لازم ہے۔علاوہ ازیں جس غرض کیلئے تصرف وضع کیا گیا ہو اس غرض کا قصد کر نا تصرف کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے اسی لیے تو نابالغ اور پاگل کا تصرف صحیح نہیں ہوتا، اور یہ شرط جبر و اکراہ سے مفقود ہو جاتی ہے کیونکہ مجبور تصرف کرتے وقت اس چیز کا قصد نہیں کرتا جس کیلئے وہ تصرف وضع ہوا ہے بلکہ اس کا مقصد تو اپنے آپ سے تلوار کے ضرر کو دور کرنا ہوتا ہے۔
ہم احناف کی دلیل یہ ہے کہ ان تصرفات کے متعلق نصوص کا عام اور مطلق ہوناس امرکا متقاضی ہے کہ یہ تصرفات بغیر کسی تخصیص اور قید کے مشروع ہوں۔جہاں تک طلاق کا تعلق ہے،اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے:’’ تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو‘‘،نیز نبی اکرم ﷺکا ارشاد ہے کہ:’’ہر طلاق صحیح ہے سوائے نابالغ اور مخبوط الحواس کی طلاق کے‘‘۔علاوہ ازیں، جبر و اکراہ کی صورت میں جو چیز زائل (یا مفقود ) ہوتی ہے وہ فاعل کی دلی مرضی و اختیار ہے اور یہ چیز طلاق کے واقع ہونے کے لیے شرط نہیں ہے، چنانچہ مذاق میں دی گئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے حالانکہ اس کی یہ دلی مرضی نہیں ہوتی۔ اسی طرح ، بسا اوقات آدمی اپنی ایسی بیوی کو بھی، جو حسن و جمال میں بے نظیر ہوتی ہے اور اس کی ادائیں نہایت دلفریب ہوتی ہیں ، لیکن اس کے دین میں خلل کی وجہ سے طلاق دے دیتا ہے،حالانکہ وہ دل سے ایسا نہیں کرنا چاہتا، اور طلاق اس عورت پر واقع ہو جاتی ہے ۔رہی حدیث ، تو کہا گیا ہے کہ اس میں کفر پر اکراہ مراد ہے کیونکہ لوگ نئے نئے مشرف بہ اسلام ہوئے تھے اور ان دنوں کفر پر اکراہ ایک عام بات تھی اور بھول چوک سے بھی ان کی زبانوں سے کلمات کفر نکل جاتے تھے تو اللہ جل جلالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی اس امت کو اس سے معافی دے دی۔مزید برآں ہم تو حدیث کے اس موجب کے قائل ہیں کہ جبر و اکراہ کے تحت کیا گیا ہر فعل اس امت کو معاف کر دیا گیا ہے، لیکن یہ تسلیم نہیں کہ طلاق دینا، غلام کو آزاد کرنا اور ہر قولی تصرف جبر و اکراہ کے تحت عمل میں آتا ہے کیونکہ جبر و اکراہ اقوال پر اثر انداز نہیں ہوتا جیسے عقائد میں مؤثر نہیں ہوتا کیونکہ کوئی شخص دوسرے کی زبان کو استعمال کر کے اس کی زبان سے اس کے دلی اعتقاد کے خلاف جبراًبات کہلوانے کی قدرت نہیں رکھتا۔لہٰذا کوئی شخص جوبھی بات کرتا ہے اپنی مرضی واختیار سے کہتا ہے، لہٰذا ایسا لکھنے پر وہ فی الحقیقت مجبور نہیں ہوتا ، اس لیے اس پر اس حدیث کا اطلاق نہیں ہوتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ غرض کا قصد کرنا جس کے لیے وہ تصرف وضع کیا گیا ہے اس کے تصرف ہونے کیلئے شرط ہے تو ہم کہتے ہیں کہ مذاق میں دی جانے والی طلاق سے اس قول کا بطلان ہو جاتا ہے، پھر اگر یہ شرط ہو بھی تو یہ شرط یہاں موجود ہے کیونکہ تصرف کرتے وقت اس نے اپنے نفس سے ہلاکت کو دور کرنے کا قصد کیا ہوتا ہے اور ہلاکت اس وقت تک دور نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اس چیز کا قصد نہ کرے جس کیلئے وہ تصرف وضع کیا گیا ہے، لہٰذا وہ ضرورت کے تحت اس کا قصد کرتا ہے۔ (بدائع الصنائع،کتاب الاکراہ،فصل في بيان حكم ما يقع عليه الإكراه،7/182،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:’’طلاق بخوشی دیجائے خواہ بجبر واقع ہوجائے گی۔ نکاح شیشہ ہے اور طلاق سنگ، شیشہ پر پتّھر خوشی سے پھینکے یا جبر سے یا خود ہاتھ سے چھٹ پڑے شیشہ ہرطرح ٹوٹ جائے گا۔ مگر یہ زبان سے الفاظِ طلاق کہنے میں ہے،اگر کسی کے جبر واکراہ سے عورت کو خطرہ میں طلاق لکھی یا طلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سے الفاظِ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی۔
تنویرالابصار میں ہے : ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولومکرھا اومخطئا.وفی ردالمحتار عن البحران المراد الاکراہ علی تلفظ بالطلاق فلواکرہ علی ان کتب طلاق امرأتہ فتکتب لاتطلق لان الکتابہ اقیمت مقام العبارۃ باعتبارالحاجۃ ولاحاجۃھنا.ترجمہ:ہر عاقل بالغ خاوند کی طلاق نافذ ہوجائیگی اگر چہ مجبور کیا گیا یا خطاء سے طلاق کا کہہ دیا ہو، اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ جبر سے مراد لفظ طلاق کہنے پر جبر کیا گیا ہو، اور اگر اس کو اپنی بیوی کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا تو اس نے مجبور ہوکر لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی، کیونکہ کتابت کو تلفّظ کے قائم مقام محض حاجت کی بناء پر کیا گیا ہے اور یہاں خاوند کو حاجت نہیں ہے۔
مگر یہ سب اس صورت میں جبکہ اکراہ شرعی ہوکہ اُس سے ضرر رسانی کااندیشہ ہوا اور وُہ ایذاء پر قادر ہو صرف اس قدر کہ اُس نے اپنے سخت اصرارسے مجبور کردیا اور اس کے لحاظ پاس سے اسے لکھتے بنی، اکراہ کے لئے کافی نہیں یُوں لکھے گا تو طلاق ہوجائے گی کمالایخفی واﷲتعالٰی اعلم‘‘۔ (فتاوی رضویہ،12/385-386،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’ نکاح و طلاق و عتاق پر اکراہ ہوا یعنی دھمکی دے کر ایجاب یا قبول کرالیا یا طلاق کے الفاظ کہلوائے یا غلام کو آزاد کرایا تو یہ سب صحیح ہو جائیں گے اور غلام کی قیمت مکرِہ سے وصول کرسکتا ہے اور طلاق کی صورت میں اگر عورت غیر مدخولہ ہے تو نصف مہر وصول کرسکتا ہے اور مدخولہ ہے تو کچھ نہیں‘‘۔(بہار شریعت،3/194،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’زبان سے کہنے میں اکراہ شرعی کی صورت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے‘‘۔(فتاوی فیض رسول،2/122،شبیر برادرز لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 جمادی الآخر1445 ھ/27دسمبر2023ء