سوال
میرے شوہر نے مجھے تین سال پہلے گھر سے نکال دیا تھا جسکے بعد سے میں اپنے والدین کے پاس رہ رہی ہوں نہ وہ لینے آتا ہے اور ہی نہ طلاق دیتا ہے، ایک بار تو اس نے قسم کھائی کہ میں اپنی بیوی کو نہ رکھنے کی قسم کھاتا ہوں ۔ کیا اتنا عرصہ دور رہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ شرعی فتوی تحریری صورت میں دے دیں۔سائل:مصباح : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
میاں بیوی خواہ کتنا ہی عرصہ جدا رہیں اس سے نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا بلکہ نکاح اس وقت تک بدستور قائم و باقی رہتا ہے جب تک شوہر طلاق نہ دے دے، لہذا ابھی آپکا نکاح برقرار ہے البتہ اگر آپ چاہیں تو عدالت میں خلع کا کیس دائر کرکے اپنے شوہر خلع لے لیں بایں طور کہ شوہر عدالت میں حاضر ہوکر خلع نامے پر دستخط کردے یا زبانی طور پر کہہ دے کہ خلع دیتا ہوں۔اگر ایسا ہوجائے تو اسکے بعد عدت گزار عورت جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
ہاں اگر شوہر عدالت حاضر نہ ہو یا حاضر ہونے کے بعد خلع نامے پر دستخط نہ کرے اور نہ ہی زبانی طور پر کہے تو خلع نہ ہوگا ، اس صورت میں خلاصی کی صورت درج ذیل ہے:
عدالت اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اس نکاح کو فسخ کردے اگر عدالت نکاح ختم نہ کرے تو حرجِ عظیم اور ضررِ شدید کے ازالہ کے لئے شہر کا سب سے بڑا مفتی (اعلم علماء بلد) اس نکاح کو فسخ کردے۔ اور عدت کے بعد عورت کہیں اور جہاں چاہے نکاح کرلے۔
چناچہ مجلس شرعی کے فیصلوں میں ہے: شوہر غربت و افلاس کا شکار نہیں مگر پھر بھی عورت کو نفقہ سے محروم رکھتا ہے ، اسکی چار صورتیں ہیں:
3: شوہر غائب کو مگر غیبتِ منقطعہ نہ ہو یعنی معلوم ہے کہ شوہر فلاں جگہ رہتا ہے مگر آتا نہیں ، اور نہ ہی کسی طرح اس سے نفقہ حاصل ہوپارہا ہے۔
4: شوہر موجود ہے مگر اس نے بیوی کو معلقہ بنایا ہوا ہے نہ طلاق دے کر اسے آزاد کرتا ہے اور نہ ہی اس کے حقوق (نان و نفقہ وغیرہ) ادا کرتا ہے۔
ظاہر ہے ان صورتوں میں عورت جہاں نان و نفقہ سے محروم ہے وہیں حقوقِ زوجیت سے بھی محروم ہے جس کے باعث اس زمانہ میں اکثر یا کثیرعورتوں کے مبتلائے گناہ ہونے کا عظیم خطرہ درپیش ہے یہ خود ایک سخت ضرر اور حرج ہے۔ اسکے حل کی بتدریج تین صورتیں ہیں :
1: شوہر کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے اور اس میں کچھ بھی ڈھیل نہ رکھی جائے ۔ اس تعزیر کے ذریعے سوائے سرکش و بے توفیق شوہر کے ہر وہ انسان اصلاح پذیر ہوسکتا ہے جس کا ضمیر کچھ بھی زندہ ہواور اس میں تھوڑی بہت بھی دینی و اسلامی حمیت وغیرت ہو۔
2: لیکن اگر وہ سخت دل اور مردہ ضمیر و نے توفیق ہی نکلا اور سرکشی سے باز نہ آیا تو عورت کو صبر و شکر اور راضی برضائے الٰہی رہنے نیز روزے رکھنے اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کی ہدایت کی جائے۔
3: لیکن اگر عورت اس کے باوجود عدمِ صبر کی شکایت کرے اور اسکی عمر ، حالت اور عادت اس کی شاہد ہو تو اب صرورتِ شرعی متحقق ہو چکی ، اس مرحلے پر قاضی کو فسخِ نکاح کی اجازت ہے۔ (مجلس شرعی کے فیصلے ص 234 تا 236)
اسی میں ایک مقام پر ہے:مذہب حنفی میں نفقہ سے محرومی کی وجہ سے اسکا نکاح ختم کرنے کی اجازت نہیں ہے ، لہذا بغیر شوہر کی موت یا طلاق کےمیاں بیوی کے درمیان تفریق نہیں ہو سکتی۔ فقیہ بے مثال اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ والرضوان کا فتوٰی بھی یہی ہے چناچہ آپ ایک فتوٰی میں رقمطراز ہیں:
بے افتراق بموت یا طلاق دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی، ہمارے نزدیک، غیبت (شوہر کے غائب ہونے) خواہ عسرت (شوہر کے مفلس و تنگ دست ہونے )کے سبب ادائے نفقہ سے شوہر کا عجز یا تحصیل نفقہ سے عورت کی محرومی باعثِ تفریق نہیں۔
مگر اس کے بر خلاف ہمارے بعد کے اکابر علماء اہلِ سنت رحمھم اللہ تعالٰی نے یہ موقف اختیار فرمایا کہ نفقہ سے عجز کی دونوں صورتوں میں فسخِ نکاح و تفریق کی اجازت ہے کلمات یہ ہیں :
دوسری صورت : شوہر نان و نفقہ دینے پر قادر ہے مگر غائب ( غیبوبتِ منقطعہ ہو یا نہ ہو) ہونے کی وجہ سے نان و نفقہ نہیں دے رہا ہے اور عورت شوہر کے مال سے نان و نفقہ وغیرہ حاصل کرنے کی قدرت بھی نہیں رکھتی ہے ایسی صورت میں اگر عورت قاضی سے تفریق کا مطالبہ کرے تو بعد ثبوتِ صحتِ دعوٰی قاضی زن و شو کے درمیان تفریق کردے۔ اور عورت بعد عدت کے جہاں چاہے نکاح کرے۔ (مجلس شرعی کے فیصلے ص 234 تا 236، ملخصا و ملتقطا)
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان تفہیم المسائل جلد 3ص269لکھتے ہیں:وہ وجوہ جن کی بناء پر مختلف ائمہ کرام کے مسالک میں قاضئِ مجاز یا جج کے لئے '' فسخِ نکاح'' کی گنجائش نکل سکتی ہے یا ایسی مصیبت زدہ بیوی کے لئے ایسی رخصت ورعایت موجود ہے کہ انتہائی اذیت ناک صورتِ حال سے اسکو نجات مل جائے بشرطیکہ ان شرائط و قرائن کی بنیاد پرقاضی کو ظن غالب یا یقین ہوجائے ، یہ ہیں۔1:شوہر بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو ،ظالمانہ انداز مین بے انتہا مار پیٹ کرتا ہو ،حقوق زوجیت ادا نہ کرتا ہو اور اسے معلق حالت میں روکے رکھنا چاہتا ہو (ایسی صورت میں عدالت فسخ نکاح کرسکتی ہے)۔
اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو وہاں کا سب سے بڑا سنی صحیح العقیدہ عالم جو مرجع فتاویٰ ہو قاضی شرع ہے۔
چناچہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور انڈیا کی شائع کردہ کتاب ''مجلس شرعی کے فیصلے'' علماء کا یہ فیصلہ محفوظ ہے :آج کے ہندوستان مین ان معاملات کے فیصلے جن میں مسلمان حاکم(قاضی ہونے ) کی شرط ہے جمہور مسلمانوں کو شرعا یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی عالم باشرع کو اپنا قاضی بنالیں اور ایسے قاضی کا فیصلہ اپنے حدود خاص میں جائز و نافذ ہوگا۔ مفقود الخبر، معدومۃ النفقہ ، عنین،مجنون وغیرہا کے مسائل میں از روے شرع مسلمانوں کا مقرر کردہ قاضی عورت کی درخواست پر زن و شوہر کے درمیان تفریق بھی کراسکتا ہے ۔
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں:جہاں قاضیِ شرع نہ ہو وہاں جو عالمِ دین سچا تمام اہلِ شہر میں فقہ کا اعلم ہوایسے امورمیں حاکمِ شرعی ہے:کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ عن فتاوی الامام العتابی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ.ترجمہ: جیسا کہ اس پر فتاوٰی امام عتابی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ سے حدیقۃ الندیہ میں نص کی گئی ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 505، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب