غیر مسلم ممالک میں خلع
    تاریخ: 2 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 935

    سوال

    1: غیر مسلم ممالک میں خلع کا کیا طریقہ ہے کیونکہ وہاں عدالتی نظام قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہے لہذا اگر کوئی عورت خلع لینا چاہتی ہے تو وہ کیا کرے ؟

    2: اگرعورت علیحدگی نہیں چاہتی میاں بیوی آپس میں رہنا چاہتے ہیں لیکن لڑکی کے والد نے وہاں کے علماء سے زبر دستی خلع دلوائی ہے تو کیا فسخ نکاح ہوجائے گا؟

    3:لڑکی کو زبر دستی خلع دلوانے کے بعد رجورع کی کیاصورت ہے ؟

    سائل:مولانا نعمان قادری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب سے پہلے چند باتوں کو جاننا چاہیئے۔

    1:احناف کے نزدیک خلع کی تعریف ،شرائط اور حکم یہ ہیں :عالمگیری میں ملخصاًہے:"الخلع ازالۃ ملک النکاح ببدل بلفظ الخلع وَشَرْطُهُ شَرْطُ الطَّلَاقِ وَحُكْمُهُ وُقُوعُ الطَّلَاقِ الْبَائِنِ.وَتَصِحُّ نِيَّةُ الثَّلَاثِ فِيهِ. إذَا تَشَاقَّ الزَّوْجَانِ وَخَافَا أَنْ لَا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ تَفْتَدِيَ نَفْسَهَا مِنْهُ بِمَالٍ يَخْلَعُهَا بِهِ فَإِذَا فَعَلَا ذَلِكَ وَقَعَتْ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَلَزِمَهَا الْمَالُ " ترجمہ:لفظ خلع کے ساتھ ملک نکاح کو کسی چیز کے عوض ختم کرنے کا نام خلع ہےاور اس کے وہی شرائط ہیں جو طلاق کے ہیں اور اس کا حکم طلاق بائن کا ہے اور خلع میں تین طلاق کی نیت کرنا (بھی)صحیح ہے ۔ اورجب میاں ،بیوی میں اختلافات ہوں اور اس بات کا ڈر ہو کہ وہ اللہ تعالی کے حدود کی پاسداری نہیں کرپائینگے تو اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ عورت اپنی طرف سے فدیہ (کچھ مال)دے کر شوہر سے خلع لے ،لے اور وہ اس طرح کر لیں تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور عورت پر مال کا دینا لازم ہو جائے گا ۔(عالمگیری، کتاب الطلاق الباب الثامن فی الخلع وما فی حکمہ ج:1ٍص: 519)

    2:فقہا ء احناف کے نزدیک خلع کے صحیح ہونے کے لیئے قاضی عدالت شرط نہیں ہے بلکہ زوجین کی رضامندی اور دیگر شرائط کےساتھ خلع نافذہو جا تا ہے۔المبسوط للسرخسی میں ہے:"وَالْخُلْعُ جَائِزٌ عِنْدَ السُّلْطَانِ وَغَيْرِهِ؛ لِأَنَّهُ عَقْدٌ يَعْتَمِدَ التَّرَاضِيَ كَسَائِرِ الْعُقُودِ، وَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الطَّلَاقِ بِعِوَضٍ، وَلِلزَّوْجِ وِلَايَةُ إيقَاعِ الطَّلَاقِ، وَلَهَا وِلَايَةُ الْتِزَامِ الْعِوَضِ، فَلَا مَعْنَى لِاشْتِرَاطِ حَضْرَةِ السُّلْطَانِ فِي هَذَا الْعَقْدِ"ترجمہ:خلع جائز

    ہے سلطان اور اس کے علاوہ کے سامنے (موجودگی میں )اس لیئے کہ یہ دیگر عقود کی طرح ایک ایسا عقد ہےکہ جس کا دارو مدار باہمی رضا مندی پر ہے،اور وہ طلاق بالعوض کی طرح ہے ،اورطلاق دینے کا اختیار شوہر ہی کے ہاتھ میں ہے اور عورت کے لیئے عوض کو (اپنےاوپر )لازم کرنےکا اختیار ہے تو اس عقد(کے صحیح ہونے )میں سلطان(قاضی )کی عدالت میں حاضر ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔(المبسوط للسرخسی،باب الخلع ، ج:6، ص173، دارالمعرفۃ)

    3:اگر عورت شرعی وجوہات کی بنیاد پر خلع طلب کرے اور شوہر خلع دینے سے منکر ہواور اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہ ہو تو اس صورت میں فسخ نکاح کے لیئے قاضی کی طرف رجوع کیا جائے گا۔مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان لکھتے ہیں:وہ وجوہ جن کی بناء پر مختلف ائمہ کرام کے مسالک میں قاضئِ مجاز یا جج کے لئے '' فسخِ نکاح'' کی گنجائش نکل سکتی ہے یا ایسی مصیبت زدہ بیوی کے لئے ایسی رخصت ورعایت موجود ہے کہ انتہائی اذیت ناک صورتِ حال سے اسکو نجات مل جائے بشرطیکہ ان شرائط و قرائن کی بنیاد پرقاضی کو ظن غالب یا یقین ہوجائے ، یہ ہیں:(1)شوہر بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو ،(2)ظالمانہ انداز مین بے انتہا مار پیٹ کرتا ہو ،(3)حقوق زوجیت ادا نہ کرتا ہو (4)اسے معلق حالت میں روکے رکھنا چاہتا ہویاشوہر کسی مُوذِی مرض میں مبتلا ہے، جیسے برص وجذام یاکینسر وغیرہ اور نکاح کے وقت بیوی کو معلوم نہیں تھا،اسے دھوکے میں رکھا گیاتھا، بعد میں اس پریہ حقیقت ظاہر ہوئی، اگر وہ اس کے باوجود رشتۂ ازدواج کو قائم رکھنا چاہے تو یہ اس کے لئے سعادت کی بات ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں اجر پائے گی، لیکن اگر وہ کسی طور پر بھی آمادہ نہ ہوتو جج نکاح فسخ کر سکتا ہے یاشوہر کو خدانخوستہ طویل قید (جیسے پندرہ سال یا عمر قید)ہوگئی ہے اور بیوی جواں عمر ہے، اس کے لئے اپنے فطری جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے حدودِ شرع میں رہنا ممکن نہیں ہے اور گناہ میں مبتلاہونے کا اندیشہ ہے یاکوئی اس کا کفیل نہیں ہے یاشوہر بلاسبب طویل عرصے تک حقوقِ زوجیت ادا نہیں کرتایاشوہر مجنون ہوگیا، مناسب وقت گزرنے پر بھی علاج سے صحت یاب نہ ہوسکا، اس کے جنون سے بیوی کے جسم وجاں کو خطرہ لاحق ہے یا وہ اب حقوقِ زوجیت کی ادائیگی اور بیوی کی کفالت کا اہل ہی نہیں رہاوغیرہ۔ (تفہیم المسائل جلد :3 ص269)

    لیکن ان تمام صورتوں میں جج صاحب کو وجوہ ریکارڈ پر لانی ہوں گی اور یہ کہ عدالت میں مدعیہ کے یہ الزامات درست ثابت ہوئے، بعض امور میں ماہرین کی رائے درکار ہوتی ہے۔(تو ثبوت اور اطمینان کے بعد عدالت فسخ نکاح کرسکتی ہے)۔

    4: جہاں قاضی شرع نہ ہوتو وہاں کا سب سے بڑا صحیح العقیدہ مفتی ،قاضی شرعی کے قائم مقام ہے۔اعلیحضرت علیہ الرحمہ سے اس شہر میں فسخ نکاح کے بارے میں پوچھا گیا جہاں کوئی قاضی نہیں ہے توآپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں :"اعلم وافقہ اہل بلد بحضور زوج فسخ کرے او راس کی تنفیذ بذریعہ کچہری کرالے۔(فتاوی رضویہ ،کتاب النکاح،ج:11،ص:47)

    ان باتوں کو جاننے کے بعد جواب ملاحظہ فرمائیں:

    1:خلع کے لیے عدالت میں جانے کی ضرورت نہیں ہے ،زوجین کی باہمی رضا مندی سے خلع ہوجا تا ہے البتہ اگر ایسی صورت ہے کہ عورت شرعی وجوہات کی بنیاد پر خلع کا مطالبہ کر رہی ہے اور شوہر ہٹ دھرمی واذیت دینے کے لیئے خلع دینے سے ٹال مٹول کر ہا ہے اور عورت کولٹکا کے رکھا ہوا ہے توایسی صورت میں وہاں کا قاضی اگر قاضی نہ ہو تو مفتی اعظم ضرورت کے پیش نظر فسخ نکاح کر سکتا ہے ۔

    2:آپ نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ کس طرح زبر دستی خلع دلوائی ہے اگر تو شوہر نے الفاظ خلع کے ساتھ خلع دے دی ہے یا خلع نامہ پر دستخط کیے اگر چہ وہ رضامند نہیں تھا تب بھی خلع واقع ہوجائے گی۔اور اگر قاضی نےخود ہی خلع نامہ پر سائن کر کے خلع کو نافذ کیا تو اس صورت میں قطعا خلع واقع نہیں ہو گی ۔

    یاد رہے خلع اور فسخ نکاح میں فرق ہے کیو ں کہ احناف کے نزدیک خلع کا حکم طلاق کا ہے اور قاضی شرع کو کچھ شرعی ضرورتوں کی وجہ سےفسخ نکاح کا اختیار ہوتا ہے خلع کا نہیں ۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے :والذی بیدہ عقدۃ النکاح ۔ ترجمہ:اور جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔(البقرہ:238)

    اس آ یت کے تحت حکیم الامت مفتی احمدیار خان نعیمی تفسیر نورالعرفان ص60پرفرماتے ہیں : معلوم ہوا کہ نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے ،طلاق کا اسکو ہی حق ہے عورت کو نہیں۔نہ خلع میں نہ بغیر خلع، یعنی خلع میں مرد کی مرضی پر طلاق موقوف ہوگی ۔آج کل عوام نے جو خلع کے معنیٰ سمجھے ہیں کہ عورت اگر مال دے دے تو بہر حال طلاق واقع ہوجاوے گی خواہ مرد طلاق دے یا نہ دے، یہ غلط ہے۔

    پھر احادیث میں بھی اسی بات کی صراحت ہے۔ چناچہ ابن ماجہ میں ہے: إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ رواہ ابن عباس ترجمہ : طلاق کا حق اسی کو حاصل ہے جسکو بیوی سے ہم بستری کا حق حاصل ہے۔(ابن ماجہ باب طلاق العبد ج1ص672)

    یوں ہی السنن الکبریٰ للبیھقی میں ہے:عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ مَمْلُوكًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلَاقَ مَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " ترجمہ:عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک غلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی طلاق کا مسئلہ لایا (کہ اسکے آقا نے اسکی بیوی کو طلاق دے دی ہے آیا طلاق ہوئی یا نہیں؟)آپ نے ارشاد فرمایا طلاق کا مالک وہ ہے ہے جسکو بیوی سے ہم بستری کا حق حاصل ہے۔( السنن الکبریٰ للبیھقی باب طلاق العبد ج7ص591)

    اوریونہی ابوداؤد،ترمذی ،بیھقی واللفظ لہ میں ہے حَدَّثَنِي جَابِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طَلَاقَ لِمَنْ لَمْ يَمْلِكْ۔ترجمہ: حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو طلاق دینے کا مالک نہ ہو وہ طلاق نہیں دے سکتا۔( ابوداؤدج2 ص258 ، ترمذی ج 3ص 478اور بیھقی ج 3ص109)

    3:آپ کا سوال مبہم ہے کہ کس طرح زبر دستی خلع دلوائی ہے؟اگر تو لڑکی نے خلع کا مطا لبہ کیا ہے اگر چہ بادل نا خواستہ تو خلع واقع ہو جا ئے گی اور احناف کے نزدیک خلع کا حکم طلاق بائن کا ہے اور طلاق بائن کے بعد شوہر کو دوبارہ دو گواہوں کی موجودگی میں مہر جدید کے ساتھ نکاح کر نے کا حق حاصل ہے اور اس کے بعد مرد کو صرف دو طلاقوں کا حق ہوگاجن کے بعد عورت طلاق مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی ۔

    چناچہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ملخصا ہے:"وَحُكْمُهُ أَنَّ الْوَاقِعَ بِهِ وَلَوْ بِلَا مَالٍ طَلَاقٌ بَائِنٌ"۔ترجمہ:خلع کا حکم یہ ہے کہ اس سے اگر چہ بغیر مال کے ہو طلاق بائن واقع ہوگی ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار ،فائدۃ فی شرط قبول الخلع ،ج:3،ص:444،طبع:دار الفکر،بیروت)

    بدائع الصنائع میں ہے :فَالْحُكْمُ الْأَصْلِيُّ لِمَا دُونَ الثَّلَاثِ مِنْ الْوَاحِدَةِ الْبَائِنَةِ، وَالثِّنْتَيْنِ الْبَائِنَتَيْنِ هُوَ نُقْصَانُ عَدَدِ الطَّلَاقِ، وَزَوَالُ الْمِلْكِ أَيْضًا حَتَّى لَا يَحِلَّ لَهُ وَطْؤُهَا إلَّا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ۔ترجمہ:تین طلاقوں کے علاوہ چاہے وہ ایک طلاق بائن ہو یا دو طلاقے بائن ہوکا حکم اصلی یہ ہے کہ اس سے طلاق کی تعداد کم ہوگی اور ملک نکاح بھی ختم ہو جائے گا لہذا اس عورت سے وطی جائز نہیں ہوگی سوائے نکاح جدید کے۔( بدائع الصنائع (فصل فی حکم الطالق البائن،ج:۱،ص:۱۸۷،طبع:دار الکتب العلمیہ)

    اللہ تعالی کا فرمان ہے " وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعْضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحْنَ اَزْوٰجَہُنَّ اِذَا تَرٰضَوْا بَیۡنَہُمۡ بِالْمَعْرُوۡفِؕ ذٰلِکَ یُوۡعَظُ بِہٖ مَنۡ کَانَ مِنۡکُمْ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِؕ ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ وَاَطْہَرُؕ وَاللہُ یَعْلَمُ وَاَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ۔ترجمہ:اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے تو اے عورتوں کے والیو :انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔(البقرہ:231)

    واللہ تعالی اعلم باالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    تاریخ اجراء:09صفر المظفر 1440 ھ/18اکتوبر 2018ء