پیشاب کی تھیلی کا حکم
    تاریخ: 2 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 933

    سوال

    السلام علیکم ؛

    میں گردے اور مثانے کی شعبے سے منسلک ایک ڈاکٹر ہوں ؛کئی مرتبہ ایسے بزرگ مریضوں کا علاج کرنا ہوتاہے جن کو ہم مستقل طور پر پیشاب کی نلکی رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں ،اگر ایسا نہ کریں تو بیماری کے پیچیدہ ہونے کااندیشہ ہوتا ہے ۔

    اس حوالے چند شرعی سوالات کے جوابات دریافت طلب ہیں ۔

    (1)پیشاب کی نلکی لگا نے بعدکیا ہرنماز کے لیئے وضو اور تھیلی خا لی کرنا ضروری ہے یا دو ،تین وقت کی نمازیں ادا کی جا سکتی ہے اور سردیوں کی دنوں میں عصر ،مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کی جا سکتی ہے یاہرنماز کے لیئےالگ ،الگ وضو کیا جائے گا؟

    (2)کیا یہ ضروری ہے کی وضو آذان کے بعد ہی کیا جائے یا نماز کی تیاری کے لیئے آذان سے پہلے وضو کیا جا سکتا ہے ؟

    ہمارے ایک مریض کو کسی مشورہ دیا کہ نلکی لگا نے کے بعد آذان کے بعدہی وضو کیا جائےگا۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وعلیکم اسلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

    (1)جس شخص کو پیشاب کی نلکی لگی ہوئی ہو اگر وہ اس بات پر قادرنہ ہو کہ وہ نلکی ہٹاکر نماز پڑھ سکے یعنی اتنا بھی پیشاب روکنے پر قادر نہیں ہے کہ وہ فرض نماز ادا کر سکے تو ایسا شخص معذور شرعی ہے اور معذور کا حکم یہ کہ وہ ہر نماز کے لیئے الگ وضو کرے گا اور جب تک اس نماز کا وقت ختم نہیں ہو تا تب تک اس وضو سے جتنی چاہے نماز یں اد اکرسکتا ہے لیکن اگلی نماز کا وقت داخل ہوتے ہی اس کا وضوٹوٹ جائیگا تو اس کو اگلی نماز کے لیئے از سرے نو وضو کرنا ہوگا ۔

    اورہر نماز کے لیئے پیشاب کی تھیلی خالی کر نے میں اگر کوئی حرج نہ ہو تو بہتر ہے خالی کیا جائے تاکہ نماز کےوقت نجاست کم ہوورنہ اسی حال میں بھی نماز ہو جائے گی اور اس کے لیئے سردی و گرمی کے موسم کا کوئی فرق نہیں ہے ۔

    تنویر الابصار مع الدالمختار (احکام المعذور ،ج:۱،ص:۳۰۶،طبع:دارالفکر ،بیروت )میں تغییراہے "وصاحب عذر من به سلس بول لا يمكنه إمساكه أو استطلاق بطن إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضةبأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث وهذا شرط العذر وحكمه الوضوء لكل فرض ثم يصلي به فيه فرضا ونفلافإذا خرج الوقت بطل ؛ما لم يطرأ حدث "

    ترجمہ:اورمعذور جس کو پیشاب کے قطروں کی بیماری ہو کہ جن کا روکنا ممکن نہ ہو یا جس کا پیٹ جاری ہو (یعنی ایسا عذر ) جو فرض نماز کا پورا وقت گھیر لے کہ اتنا وقت بھی اس کو نہ مل سکے کہ وہ وضو کر کے نماز ادا کر لے ؛اور یہ عذر شرعی کے متحقق ہونے کے لیئے شرط ہے۔اور معذور کا حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیئے وضو کرے پھر جتنی چاہے فرض اور نوافل ادا کرلے جب تک اس بیماری کے علاوہ کسی اور عمل سے اس کا وضو نہ ٹوٹےاور جب وقت نکل جائے گا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ۔

    (2)معذور شرعی ہر نماز کے لیئے وقت کے داخل ہونے کے بعد وضو کر سکتا ہے اس کے لیئے آذان کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ۔

    واللہ تعالی اعلم باالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    تاریخ اجراء:2محرم الحرام 1440 ھ/13ستمبر 2018 ء