سوال
ایک مسجد جو کہ 1985 بنائی گئی تھی اس کے بعد سے اب تک خراش تک نہیں آئی اور نا ہی خوبصورتی میں کمی آئی ۔اب کمیٹی کی طرف سے مسجد میں فرش کی تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہوئے لوگوں سے چندہ کیا جارہا ہے ۔ جس میں کچھ ممبران اور خطیب جمعہ شریک ہیں۔مسجد میں نمازی مشکل سے 3 صفوں میں ہوتے ہیں اور مسجد کو شہید کر کے تو سیع کرنے کا ارادہ بھی ہے،مسجد میں 2 سال قبل ممبر شہید کر کے لکڑی کا نیا ممبر لایا گیا جو کہ وائٹ پتھر کا بہت خوبصورت اور بے عیب تھا ، جس میں خطیبِ جمعہ اور صدرِمسجد شامل تھے ۔اب بھی یہی رضامند ہیں اکثر انکاری ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا وقف کا مال جو اپنی ضرورت پوری کر رہا ہو اس کو ضایع کرنے والوں کے لئے کیا حکم ہے۔ مسجد میں سولر کی ضرورت ہے اس طرف توجہ نہیں، مسجد میں مدرسہ کی ضرورت ہے اس طرف توجہ نہیں۔
سائل: سید منیر: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے کہ یہ تعمیرات بلاضرورت ہیں کہ مسجد کو اسکی حاجت نہیں تو بے شک یہ شرعاً ناجائز و گناہ ہے خطیب ، امام ، متولی، کمیٹی صدر کسی کو یہ اختیار نہیں کہ ایسی تعمیرات کریں کہ اس میں مالِ وقف کی تضییع ہے، اور مسجد کی بے حرمتی ہے۔ چندے یا مسجد کا مال ، مالِ وقف ہے جسے شرعی رہنمائی کےساتھ خرچ کرنا لازم ہے جو متولی یا کمیٹی صدر اپنی مرضی و خواہش سے اس میں تصرف کرے اور باوجود سمجھانے کے نا سمجھے بے شک ایسا متولی یا صدرواجب المعزول ہے اسکے ساتھ ساتھ جو مال بیجا طور پر خرچ کیا اسکا تاوان بھی لازم ہوگا نیزاہل محلہ پر لازم ہوگا اسے ہٹا کر کوئی نیک صالح مسائل شرع کی رعایت کرنے والا شخص اسکے بجائے متولی یا کمیٹی صدر مقرر کریں۔
مسجد کو جن چیزوں کی ضرورت سے سب سے پہلے ان چیزوں میں خرچ کریں۔
وقف کے مال میں خیانت کرنا، اپنی رائے سے ایسا تصرف کرنا جو وقف کے لئے نقصان کا سبب بنے ناجائز و حرام ہے کیونکہ مال ِوقف ،مالِ یتیم کی مثل ہے،اور مال یتیم کے بارے میں ارشادِ باری تعالٰی ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۔ترجمہ: وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں،اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے (بھڑکتی آگ)میں جائیں گے۔(النساء: 10)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :مسجد اور اس کے متصل کوئی شے نہ متولی کی ملک ہے نہ مصلیوں کی، نہ کسی غیر خدا کی، وہ سب خالص ملک الٰہی ہے،اوقاف مسجد کاانتظام متولی کے سپرد ہے اور امام ومؤذن کا نصب وعزل بانی مسجد یا اس کی اولاد پھر مصلیوں کے متعلق ہے متولی جو بات خلاف شرائط وقف کرے مصلی بلکہ عامہ مسلمین اس سے باز پرس کرسکتے ہیں۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الشرکہ جلد 16 ص 509، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: اگر (مسجد) اس لیے شہید کی کہ یہیں ازسرنو اس کی تعمیر کرائے تواگر یہ امر بے حاجت وبلا وجہ صحیح شرعی ہے تو لغو وعبث وبے حرمتی مسجد وتضییع مال ہے۔ اور یہ سب ناجائزہے۔ (فتاویٰ رضویہ ،جلد 24، ص 354)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ایک اور مقام پر متولی کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : لائق وہ ہے کہ دیانت کار گزار ہوشیار ہو جس پر دربارہ حفاظت وخیرخواہی وقف اطمینان کافی ہو، فاسق نہ ہو جس سے بطمع نفسانی یا بے پروائی یاناحفاظتی یا انہماک لہو ولعب وقف کو ضرر پہنچانے یا پہنچنے کا اندیشہ ہو بدعقل یا عاجز یا کاہل نہ ہو کہ اپنی حماقت یا نادانی یا کام نہ کرسکنے یا محنت سے بچنے کے باعث وقف کو خراب کرے، فاسق اگرچہ کیسا ہی ہوشیار کارگزار مالدار ہو ہر گز لائق تولیت نہیں کہ جب وہ نافرمانی شرع کی پروانہیں رکھتا کسی کاردینی میں اس پر کیا اطمینان ہوسکتا ہے، ولہذا حکم ہے کہ اگر خود واقف فسق کرے واجب ہے کہ وقف اس کے قبضہ سے نکال لیا جائے اورکسی امین متدین کو سپردکیاجائے پھر دوسرا تو دوسرا ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 16 صفحہ 557 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28 ذوالحج 1445ھ/ 05 جولائی 2024 ء