زوجہ مفقود الخبر فی زمانہ کتنا انتظار کرے ؟
    تاریخ: 28 فروری، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 928

    سوال

    میرشادی کو 33سال ہوگئے ہیں ،اور 20 سال سے میرے شوہر لاپتہ ہیں ، ہرممکن کوشش کے باوجود انکا کہیں معلوم نہیں ہوسکا ،تمام رشتہ داروں سے پوچھا آج تک کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں ؟ میری کوئی اولاد بھی نہیں ہے اور نہ ہی گھر ہے میں اپنی چھوٹی بہن کےساتھ اسکے سسرال میں رہتی ہوں ۔ اب میرا دوسرا رشتہ آیا ہے سب کی رضامندی سے دوسرا نکاح کررہی ہوں لیکن کورٹ والے شوہر کی موت کا ثبوت اور گواہ مانگ رہے ہیں جوکہ میرے پاس نہیں ہے کیا میں دوسری جگہ شادی کرسکتی ہوں کیونکہ میرے لئے اکیلی زندگی گزارنا بہت ہی مشکل ہوگیا ہے۔ برائے کرم اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔سائل:قمر النساء: ملیر کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وہ عورت جس کا شوہر ایسا لاپتہ ہوجائے کہ باوجود تلاش بسیار کے معلوم نہ ہوسکے کہ زندہ ہے یا مر گیا ، ایسی عورت کو زوجہ مفقود الخبر کہتے ہیں ، ہمارے احناف کا اس بارے میں جو اصلِ مذہب ہے ،وہ یہ ہے کہ عورت پر فرض ہے کہ وہ انتظار کرے حتیٰ کے اسکے شوہر کی پیدائش کے بعد سے لے کر ستر برس گزر جائیں یعنی مثلا اگر جس وقت لا پتہ ہوا پچاس سال کا تھا تو بیس برس انتظار کرے ، اور ساٹھ سال کا تھا تو دس برس اور انتظار کرے پھر اسکے بعد اسکی موت کا حکم دیا جائے گا اسکے بعد عورت عدت وفات یعنی چار ماہ دس دن عدت گزارے گی اور اسکے بعد اسکے نکاح سے نکل جائے گی کہیں اور چاہے تو شادی کرسکتی ہے یہی قول ہمارا مفتیٰ بہ ہے ۔

    عالمگیری میں ہے :لَا يُفَرَّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ وَحُكِمَ بِمَوْتِهِ بِمُضِيِّ سبعین سَنَةً وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى،ترجمہ:اور میاں بیوی کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی ، اور اسکی عمر کے ستر سال گزرنے کے بعد اسکی موت کا حکم دیا جائے گا، اور اسی پر فتویٰ ہے۔( عالمگیری کتاب المفقود جلد 2 ص 300)

    سیدی اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسی قول کو اختیار فرمایا ہے ،چناچہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : ہمارے مذہب میں عورت پر انتظار فرض ہے یہاں تک کہ شوہر کی عمر سے ستر برس گزر جائیں، اگر پچاس برس کی عمر میں مفقود ہوا ہے تو بیس برس انتظار کرے اور ساٹھ برس کی عمر میں دس برس، اس کے بعد اس کی موت کا حکم دیا جائے، اور عورت چارمہینے دس دن عدت کرے پھر دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے، یہی مذہب امام شافعی کا ہے اسی طرف انہوں نے رجوع فرمائی، اور یہی قول امام احمد کا ہے، اور دوسرا قول مثل امام مالک ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 13 ص 433 رضا فاونڈیشن )

    لیکن فی زمانہ جہاں دیگر کئی مسائل میں مختلف مسالک کے حضرات ضرورت و حرج اور بعض حکمتوں کی بنیاد پر کسی دوسرے امام کے قول پر عمل کرتے ہیں اسی طرح اس مسئلے میں بھی ہم امام مالک کے قول پر فتویٰ دیتے ہیں جناب حضرت امام مالک نے زوجہ مفقود الخبر کے لیے چاربرس کی مدت متعین فرمائی ہے وہ یوں کہ عورت قاضیِ شرع ( مثلا شرعی کورٹ / عدالت وغیرہ )میں جا کر کیس دائر کرےپھر کورٹ اس عورت کے دعویٰ کی (کہ شوہر ایسا لاپتہ ہو چکا ہے کہ اس کے زندہ یا مردہ ہونے کا کچھ علم نہیں)تحقیق کرے اور دعویٰ ثابت ہونے کے بعد اس وقت سے چار برس کی مہلت دے اگر اس سے پہلے بیس برس بھی گزرگئے ہوں ان کا اعتبار نہیں ہے ،بلکہ چار سال گزرنے کا اعتبار اسی وقت سے ہے جس وقت عورت عدالت میں نالش کرے اور عدالت اس کے اس دعوی تصدیق کردے ، اسکے بعد جب چار سال گزر جائیں پھر کورٹ میں آئے اور کورٹ شوہر کی موت کا حکم دے اب یہ عورت کہیں اور جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔

    شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک میں ہے :قول مالک :تستانف الاربع من بعد الیاس وانہا من یوم الرفع ۔ترجمہ:امام مالک کا قول یہ ہے کہ عورت ناامیدی کے بعد سے چار سال گزارے گی اور اس مدت کی ابتداء قاضی کے پاس معاملہ پیش ہونے کے بعد ہوگی۔( شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک جلد 3ص 199)

    جامعہ اشرفیہ مبارک پور انڈیا کی مجلس شرعی کے بورڈ کے کئی علماء نے اس مسئلے کا حکم فی زمانہ کے اعتبار سے یہ بیان کیا ہے :کہ حکم یہ ہے کہ مفقود الخبر کسی بھی قسم کا ہو اسکی زوجہ اگر صبر نہیں کرسکتی تو قاضی کے ہاں استغاثہ کرے گی ، قاضی صدق دعویٰ ثابت ہونے کے بعد عورت کو چار سال مہلت دے گا، اور اس مدت میں تحقیق و تفتیش کرے گا ، موت و زیست کچھ معلوم نہ ہونے پر عورت پھر قاضی سے رجوع کرے ،اور وہ موت زوج کا حکم دے گا، پھر عورت عدت وفات گزار کر کسی اور سے نکاح کر سکے گی ۔ ( مجلس شرعی کے فیصلے ص 231)واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضاقادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 20جمادی الثانی 1441 ھ/15جنوری 2019 ء